پی ٹی وی نیوز میں من پسند اینکرز اور تجزیہ نگاروں کی بھرمار


کراچی(خصوصی رپورٹ) پی ٹی وی نیوز میں اینکرز اور تجزیہ نگاروں کیلئے کوئی واضح پالیسی ابھی تک نہیں بنائی جاسکی۔ بعض ایسے منظور نظر افراد تجزیے اور تبصرے کیلئے بلائے جارہے ہیں جن کی تعلیم اور تجربہ واجبی سا ہے۔ بعض کے معاوضے ان کے تجربے اور مقام سے بھی کم ہیں اور بعض کو نوازنے کیلئے دریا دلی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ معاوضوں کی ادائیگی کے حوالے سے بھی بے شمار شکایات ہیں، پروگرامز کے آن ایئر ہونے کے ایک سال بعد بھی معاوضے کی ادائیگی نہیں کی جارہی۔ٹی وی ٹاک شوز کے بجٹ میں ریسرچر کا نام تو ڈال دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ریسرچ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی وی نیوز کے ٹاک شوز کی ریٹنگ ایک عام نیوز چینل سے بھی کم ہے۔ اشتہاری کمپنیوں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کی مارکیٹنگ ٹیم صرف اور صرف اسپورٹس سے پیسہ کمارہی ہے کیونکہ اس سلسلے میں انہیں کرکٹ بورڈ کی معاونت حاصل ہے اور یہ پی ٹی وی اسپورٹس کی بجائے پی ٹی وی کرکٹ بن گیا ہے۔ پی ٹی وی نیوز کے خبر نامے کا یہ عالم ہے کہ اس وقت تیسرے درجے کے نیوز اینکر بھی اس سے بہتر خبرنامہ پیش کررہے ہیں۔ نیوز پروڈیوسرز کی ایک فوج موجود ہونے کے باوجود نیوز رپورٹس تیار نہیں کی جاتیں۔پی ٹی وی ہومز اور نیوز کے مارننگ شوز میں تمام پرائیویٹ چینلز سے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ خاص طور پر پی ٹی وی نیوز کا مارننگ شو اپنی اہمیت کھو گیا ہے۔ بعض لوگ سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے اس پروگرام میں شرکت کا راستہ نکالتے ہیں۔ بجلی صارفین سے اربوں روپے حاصل ہونے کے باوجود ، معاوضوں کی ادائیگی نہ ہونا باعث حیرت ہے۔ پاکستانی ناظرین اپنی شکایات میں حق بجانب ہیں کہ وہ اس قومی ادارے کو اربوں روپے دے چکے ہیں اور معیاری معلومات اور تفریح مہیا نہیں کی جارہی ہے بلکہ اس ادارے کو لوٹا جارہا ہے۔