گوگل انڈونیشیاکا 40ارب روپے ہڑپ کرگیا


جکارتہ (نیوز ڈیسک) دنیا کی طاقتور ترین ٹیکنالوجی کمپنی گوگل ساری دنیا سے مال تو بناتی ہے لیکن ٹیکس ادا کرنے کو اس کا بھی دل نہیں چاہتا۔ انڈونیشیا سے بھی اس کمپنی نے گزشتہ چند سالوں کے دوران اربوں ڈالر کمائے ہیں لیکن اس دوران واجب الادا ٹیکس کا ہزارواں حصہ بھی ادا نہیں کیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیائی حکام نے گوگل کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور صرف گزشتہ ایک سال کے ٹیکس کی مد میں اس سے 40 کروڑ ڈالر (تقریباً 40 ارب پاکستانی روپے) وصول کئے جائیں گے۔انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ گوگل نے انڈونیشیا میں کمائی گئی دولت پر گزشتہ پانچ سال سے ٹیکس ادا نہیں کیا۔ دوسری جانب گوگل کا اصرار ہے کہ اس کی جانب سے تمام ٹیکس ادا کئے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا میں اس کے خلاف جاری تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔ انڈونیشیائی حکام کا کہنا ہے کہ اگر گوگل پر ٹیکس چوری کے الزامات ثابت ہوگئے تو اسے چار گنا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا اور یوں اسے مجموعی طور پر ٹیکسوں کی مد میں 42 ارب ڈالر (تقریباً 42 کھرب پاکستانی روپے) ادا کرنا پڑسکتے ہیں۔انڈونیشیا سے کمائی گئی بیشتر دولت کا حساب کتاب گوگل کے ایشیا پیسفک ہیڈکوارٹرز واقع سنگاپور میں رکھا جاتاہے۔ جون کے مہینے میں جب انڈونیشیائی حکام نے اس دفترکے ریکارڈ کا آڈٹ کرنا چاہتا تو گوگل نے اس کی اجازت نہ دی، جس پر شکوک و شبہات پیدا ہوگئے، جس کے بعد ٹیکس چوری کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔