ہمیں اختلافات رکھتے ہوئے جینے کا سلیقہ سیکھنا ہے :مصطفٰی کمال


کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جس دن لگا کہ پارٹی سے ملک وقوم کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔اسی دن پارٹی ختم کردیں گے۔ ہمیں اختلافات رکھتے ہوئے جینے کا سلیقہ سیکھنا ہے ،بانی ایم کیو ایم نے مہاجروں کا چہرہ مسخ کیا اور یہ تاثر غلط ہے کہ اردو بولنے والے اب بھی ان کے ساتھ ہیں، میں صرف مہاجروں کی نہیں بلکہ کراچی میں رہائش پذیر دیگر زبان بولنے والے لوگوں کے حقوق کی بھی بات کروں گا ،عوام کو جوڑنا لیڈروں کا کام ہے فوج یا اسٹیبلیشمنٹ نہیں کرسکتی ، 23 مارچ کو کراچی میں جلسہ کریں گے۔ اتوار کو کراچی میں پی ایس پی بزنس فورم سے خطاب میں انہوں نے 23مارچ کو کراچی میں جلسے کرنے کا اعلان بھی کیا۔اس موقع پر پاک سرزمین کے رہنما ڈاکٹرصغیراور رضاہارون بھی موجود تھے۔تقریب میں ایم کیو ایم کے سینیٹر عبدالحسیب خان بھی شریک ہوئے ۔عبدالحسیب خان کے تقریب میں پہنچنے پر مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے ان کا استقبال کیا۔ مصطفی کمال نے بانی قائد اور سابق گورنر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب میں مصطفی کمال نے متحدہ کو ہدف تنقید بنایا ۔مصطفی کمال نے کہا کہ 22اگست کے بعد بانی ایم کیو ایم کو ساتھ لیکر چلنا مشکل ہوا تو وضاحتوں پر نوبت آگئی ۔مصطفی کمال نے کہا کہ 30سال سے کراچی میں ایک جماعت کی حکمرانی رہی ہے، مہاجرکے نام پرجتنا مینڈیٹ تھا سب ان کو دے دیا۔انہوں نے کہا کہ 22اگست کے بعد بانی ایم کیوایم کا دفاع ان لوگوں کے لیے مشکل ہوگیا تھا۔ یہ بات غلط ہے کہ مہاجر بانی ایم کیوایم سے دیوانہ وار محبت کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ اردو بولنے والے صرف بانی ایم کیوایم کے ساتھ رہیں گے اور کسی جانب نہیں دیکھیں گے اس لیے بانی ایم کیو ایم کی جگہ صرف فاروق ستار والی ایم کیو ایم ہی لے سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مہاجر کمیونٹی صرف ایم کیو ایم کو ووٹ دیتی ہے میں مثالوں سے سمجھاتا ہوں کہ الیکشن 2013 میں شہرِ کراچی کے لوگوں نے تحریکِ انصاف کو بغیر انتخابی مہم چلائے 10 لاکھ سے زائد ووٹ دیئے تھے جبکہ 2002 میں بھی اہالیان کراچی نے 5 قومی اسمبلی اور 10 صوبائی اسمبلی کی نشستیں دوسری جماعتوں کو دیں۔ مہاجروں نے عمران خان کی محبت میں نہیں ، ایم کیو ایم سے غصے میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ سیاست میرے لیے بریڈ اینڈ بٹر نہیں۔ ہم اقتدار حاصل کرنے نہیں آئے بلکہ بھائی کو بھائی سے ملانے آئے ہیں،ہمارے بیانیے پراعتراضات ہوسکتے ہیں۔اس پربحث ہوسکتی ہے۔ہم اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کریں گے۔ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں۔کراچی تباہ و برباد ہوگیا تو پاکستان آگے نہیں چل سکتا ۔ آج ہمیں کوئی رشوت العباد نہیں کہہ سکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے حصے کے چراغ کو جلانے کی کوشش کی ہے۔23 مارچ کو ہماری جدوجہد کا ایک سال مکمل ہوجائیگا ۔ہم نے یہ سفر روایتی سیاست کے لیے شروع نہیں کیا ۔اپنے ساتھ چلنے کے لئے کسی کو مجبور نہیں کرینگے۔چیئرمین پی ایس پی نے کہا کہ میں صرف مہاجروں کی نہیں بلکہ کراچی میں رہائش پذیر دیگر زبان بولنے والے لوگوں کے حقوق کی بھی بات کروں گا کیوں کہ کراچی ہر ایک رنگ نسل اور زبان بولنے والے افراد کا شہر ہے۔عوام کو جوڑنا لیڈروں کا کام ہے فوج یا اسٹیبلیشمنٹ نہیں کرسکتی ۔مصطفی کمال نے سربراہ ایم کیوایم پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ آج وہ بھی وہی بات کررہے ہیں جو میں کررہا تھا ہم ان کے بارے میں خوب جانتے ہیں اور ابھی ہم لوگ شخصیات کے چہروں سے نقاب نہیں اتاررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میرا جو حق تھا وہ میں نے ادا کردیا اور کوئی ایک شخص بھی میری بات پر کان نہ دھرے تو بھی میں مطمئن ہوں کہ روز حشر مجھ نہیں پوچھا جائے گا کہ جو حقائق مجھ پر منکشف کردیئے گئے اس سے لوگوں کو آگاہ کیوں نہیں کیا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ہم نے یہ سفر روایتی سیاست کیلئے شروع نہیں کیا بلکہ صحیح اور غلط کوبنیادبناکرہم نے اپنے سفرکا آغاز کیا۔ ہمیں فائدہ اس جگہ پر رہنے میں تھا۔ نقصان والی راہ اپنائی۔ ہم نے اپنے پہلے دن کی بات میں ایک زیرزبرتبدیل نہیں کیا۔انہوں نے وقت کے فرعونوں کو للکارا ہے ۔چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال نے تقریب میں تاجر اور صنعتکاروں کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔