شرجیل میمن کو بچانا ہوتا تو انہیں کراچی میں اترنے کا مشورہ دیتے :وزیر اعلیٰ سندھ


خیرپور (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شرجیل میمن کو بچانا ہوتا تو انہیں کراچی میں اترنے کا کہتے۔فاروق ستار بھی سابق صوبائی وزیر کی طرح ضمانت لے لیں یا پھر عدالت میں پیش ہوں۔شرجیل میمن کے بارے میں عدالت جو فیصلہ کرے گی اس کی پاسداری کریں گے۔ اتوار کو اربوں روپے کی کرپشن کے الزام میں ملک سے جلا وطن رہنے والے شرجیل میمن کی اسلام آباد ائیرپورٹ پر گرفتاری اور رہائی پر خیر پور میں میڈیا سے گفتگو میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اطلاع ہے کہ شرجیل میمن نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت لے رکھی ہے۔ سابق صوبائی وزیر کل ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ فاروق ستار اور شرجیل میمن کا معاملہ الگ الگ ہے، فاروق ستار کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ وہ کچھ مقدمات میں عدلت کو مطلوب ہیں۔ جس میں عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں بلکہ کئی ایسے کیسز بھی ہیں جس میں انہوں نے ضمانت نہیں کرائی ۔فاروق ستار عدالتی احکامات کی پاسداری کریں۔ وہ بھی شرجیل میمن کی طرح ضمانت لے لیں یا پھر عدالت کے سامنے پیش ہوجائیں۔شرجیل میمن کے بارے میں عدالت جو بھی فیصلہ کریگی وہ اس کی پاسداری کریں گے۔سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کسی کی جاگیر نہیں ۔کوئی بھی اس میں آسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے۔تعلیم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ 8 ماہ کے دوران 2ہزار بند اسکولوں کو کھولاگیا ہے۔ مزید اسکول بھی بند ہیں۔ انہیں کھلوانے کی کوشش کررہے ہیں۔قبل ازیں خیرپور میں شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے وزیر اعلی سندھ کی آمد شہر میں خاردار تار لگا کر جگہ جگہ راستے بند کئے گئے تھے ۔ مراد علی شاہ وسان ہاؤس گئے جہاں منظور وسان کے ساتھ چائے پی اور ہلکی پھلکی گفتگو بھی کی ۔ مراد علی شاہ نے جیلانی ہاؤس میں سابق وزیر اعلی قائم علی شاہ سے بھی ملاقات کی ۔ وزیر اعلی سندھ پہلے اپنے حلقہ سیہون شریف بھی گئے جہاں انہوں نے کھلی کچہری میں عوام کی شکایات سنیں ۔