شامی حکومت سے سمجھوتے کے بعد حمص سے باغیوں اور شہریوں کا انخلاء

حمص(این این آئی)شام کے وسطی شہر حمص کے ایک علاقے سے باغیوں اور ان کے خاندانوں نے بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ ایک سمجھوتے کے بعد انخلاء شروع کردیا ہے۔(بقیہ نمبر23صفحہ12پر )
انھیں بسوں کے ذریعے شمالی صوبے حلب منتقل کیا جارہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان حمص کے علاقے الوعر کو خالی کرانے کا یہ سمجھوتا روس نے طے کرایا ہے اور اس کے فوجی ہی باغیوں اور ان کے خاندانوں کے شہر سے انخلاء کے عمل کی نگرانی کررہے ہیں۔ دس بارہ بسوں میں شامی باغی اور ان کے خاندان کے افراد حلب کی جانب روانہ ہوئے ۔شامی حزب اختلاف کے ذرائع کے مطابق سمجھوتے کے تحت آیندہ ہفتوں کے دوران میں الوعر سے مرحلہ وار دس سے پندرہ ہزار افراد کو ملک کے شمال میں منتقل کیا جائے گا۔اس ڈیل کو صدر بشارالاسد کی فتح گردانا جارہا ہے کیونکہ ان کی مخالفت میں ہتھیار اٹھانے والے باغی گذشتہ چھے سال کی مزاحمت کے بعد اب ایک طرح سے سرنگوں ہوگئے ہیں ۔انھوں نے لڑائی جاری رکھنے کے بجائے مصالحت اختیار کر لی ہے اور اپنے آبائی علاقوں کو خالی کرکے جارہے ہیں۔شامی حکومت نے اس طرح کے سمجھوتوں کو ’’قابل عمل ماڈل‘‘ قرار دیا ہے جس کے تحت اس کے بہ قول ملک چھے سال سے جاری خانہ جنگی کے بعد امن کی جانب لوٹ رہا ہے جبکہ حزب اختلاف نے اس کو ایک جنگی حربہ قرار دیا ہے جس کے تحت بشارالاسد کی مخالفت کرنے والوں کو زبردستی بے گھر کیا جارہا ہے حالانکہ وہ گذشتہ چھے سال کے دوران میں شامی فوج کے محاصرے اور بمباری کا سامنا کرتے رہے تھے۔حمص کے گورنر طلال برازی نے برطانوی خبررساں ادارے بتایا کہ قریباً پندرہ سو افراد کو شمالی شہر حلب کے شمال مشرق میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بسنے کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ان کے بہ قول ان میں کم سے کم چار سو جنگجو بھی شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ شامی عرب انجمن ہلال احمر کے ساتھ روسی اور شامی فورسز انخلاء کے اس عمل کی نگرانی کررہی ہیں اور یہ تمام عمل چھے ہفتوں میں مکمل ہوگا۔ان اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہاں سے مسلح جنگجوؤں کے انخلاء سے دوسرے علاقوں میں بھی مصالحت کی راہ ہموار ہوگی۔
برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ بسیں شام کے شمال میں ترکی کے حمایت یافتہ شامی باغیوں کے زیر قبضہ جرابلس کے علاقے میں جائیں گی۔یہ عمل مکمل ہوجاتا ہے تو یہ شام کے کسی ایک علاقے میں سب سے بڑا انخلاء ہوگا ۔الوعر میں قریباً چالیس ہزار شہری اور ڈھائی ہزار کے لگ بھگ جنگجو رہ رہے ہیں۔