اراضی تنازع پر فائرنگ سے زخمی ہونیوالا نشتر میں دم توڑ گیا‘ ورثاء کا احتجاجی مظاہرہ


ملتان، جلالپور پیر والہ(کرائم رپورٹر، نامہ نگار) 16روز قبل زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والا شخص نشتر ہسپتال میں چل بسا۔ورثا کا لاش پریس کلب کے سامنے رکھ کر احتجاجی مظاہرہ ۔سڑک بلاک کردی ۔ایس پی کینٹ کی جانب سے انصاف کی یقین دہانی پر منتشر ہوگئے۔ پریس کلب کے باہر محمد نور،عامر،ریاض،معشوق اور فیض وغیرہ نے صحافیوں سے گفتگو (بقیہ نمبر49صفحہ12پر )

کرتے ہوئے بتایا کہ 16روز قبل جلالپور کے علاقے موضع غازی پور میں حمداللہ شاہ،عاقل شاہ،باقر شاہ اپنے20مسلح ساتھیوں سمیت آئے اور ہمیں رقبہ چھوڑنے کا کہا ۔ملزمان قبضہ مافیا ہونے کے ساتھ علاقہ میں اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ ہمارے انکار کرنے پر ملزمان نے انددھا دھند فائرنگ کی جس سے 32سالہ کوثر،زوارخان،ارشاد،وسیم اور خاتون زخمی ہوگئے،جبکہ ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔زخمیوں کو نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس نے ملزمان سے ساز باز کر کے اپنی مرضی کی دفعات لگائیں اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے۔گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کوثر جاں بحق ہوگیا۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی ۔اس موقع پر ایس پی کینٹ سیف اللہ خان خٹک ڈی ایس پی رب نواز تلہ،سمیت دیگر افسران موقع پر پہنچ گئے۔اور مظاہرین کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملزمان پردہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔اور انہیں گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔پولیس کی جانب سے یقین دہانی پر مظاہرین منتشر ہوگئے۔