سیاسی جماعتوں میں خاندانی میراث کلچر کیخلاف جدوجہد جاری رہیگی‘ ناہید خان

ملتان (پ ر)سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان نے کہاہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام کی رجسٹریشن سے متعلق ان کی درخواست پر جاری کئے گئے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کردی ہے یہ اپیل افتخار گیلانی ایڈوکیٹ کے تو(بقیہ نمبر23صفحہ7پر )
سط دائر کی گئی ہے جس میں ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو انکا نام بطور سربراہ پاکستان پیپلز پارٹی رجسٹرڈ کرنے کی استدعا کی جائے گی، ناہید خان نے کہا ہے کہ 6فروری 2013کو اس وقت کے صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ہی وقت میں دو دو عہدے رکھنے کے عمل سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی عدم عدولی پر دائر توہین عدالت کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران آصف زرداری کے وکیل وسیم سجاد نے ہائی کورٹ میں تحریری موقف پیش کیا تھا کہ صدر زرداری جس تنظیم یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ہیں وہ ایک پرائیویٹ ایسوسی ایشن ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے،جبکہ جس پارٹی کی اس وقت حکومت ہے اس کا نام پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹریز ہے جس پر انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے اس وقت کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر کو 14فروری کو ایک خط لکھا تھا ،لیکن انہوں نے اس کا کوئی جواب ہی نہ دیا،جس پر انہوان نے ضابطہ کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں بطور صدر اس پارٹی کی رجسٹریشن کی درخواست دے دی ابھی اس حوالہ سے کارروائی جاری ہی تھی کہ لطیف کھوسہ نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے،بلاول زرداری کو اس پارٹی کا پیٹرن چیف ظاہرکرتے ہوئے، ایک نئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ اس پارٹی کے اصل وارث وہ ہیں، جس پر الیکشن کمیشن نے انکی درخواست سمیت تین درخواستیں خارج کر دیں اورلطیف کھوسہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے پارٹی ان کے نام سے رجسٹرڈ کرلی،جس کے خلاف میں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو چار سال بعد 6فروری 2017کو جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اورنگزیب میاں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے انکے حق میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے میری اپیل خارج کردی، جس کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے انہوں نے کہا کہ میری جدوجہد صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے نام کی اپنے حوالہ سے الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کی حد تک نہیں ہے بلکہ میں سیاسی جماعتوں میں خاندانی میراث کے کلچر کے خاتمہ کے لئے یہ جدوجہد کررہی ہوں انہوں نے امید ظاہر کی کہ انہیں سپریم کورٹ سے لازماًانصاف ملے گا۔
ناہید خان