نشتر کی ایمبولینس سرکاری خزانے پر بوجھ‘ عوام دھکے کھانے پر مجبور

ملتان (وقائع نگار)نشتر ہسپتال کی ایمبولینس سرکاری خزانے پربوجھ بن گئی ہے ۔ ایمبولینس پرانی ہونے کی وجہ سے ریسکیو 1122کے حوالے سے بھی نہیں کی گئیں ۔ جبکہ صرف(بقیہ نمبر49صفحہ12پر )
مریض کی ملتان کے علاوہ کسی اورشہر منتقلی کی اجازت ہے ۔ جس کیلئے فی کلو میٹر 16روپے کرایہ سرکاری طورپر مقرر ہے ۔ مگر پرائیویٹ ایمبولینس مالکان کی ملی بھگت سے نشتر ہسپتال کی ایمبولینس مریضوں کو منتقلی کیلئے نہیں دی جائیں ۔ بلکہ پیچیدہ طریقہ کار میں الجھاکر مریض کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ وہ پرائیویٹ ایمبولینس حاصل کرنے کیلئے مریض کو ٹرانسپلانٹ آفیسر ،متعلقہ اے ایم ایس کی تحریری درخواست دینا پڑتی ہے ۔ جس کی ڈیوٹی صرف مارننگ شفٹ میں ہوتی ہے اوران کو تلاش کرنا آسان مراحلہ نہیں ہے عام آدمی کو کاغذی کارروائیاں مکمل کروانے کے دھکے کھانے پرمجبور کیا جاتاہے ۔ جو تھک ہار پرائیویٹ ایمبولینس پرمریض کو منتقل کرواتے ہیں ۔ دوسری طرف ان ایمبولینس کی مرمت ودیکھ بھال پٹرول کے اخراجات سے حکومتی خزانے پربوجھ ہیں ۔نشتر ہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ایمبولینس کی سروس مریضوں کو مہیا کی جارہی ہے کاغذی کارروائیوں میں کسی کو بھی الجھایا نہیں جاتاہے۔