چائنہ کٹنگ، لاہور مرلہ، گھناؤنے کاروبار میں پٹوری، قانونگو بھی شریک


ملتان(نمائندہ خصوصی)احتسابی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کیوجہ سے جنوبی پنجاب کے مرکز ملتان میں چائنہ کٹنگ میں ملوث پراپرٹی ڈیلرز نے ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی حصہ دار بنارکھا ہے۔ضلع ملتان کی چار تحصیلوں کے545مدافعات میں تعینات پٹواری چائنہ کٹنگ کی روک تھام کی (بقیہ نمبر17صفحہ12پر )
بجائے اس گھاوننے کھیل کا حصہ بن چکے ہیں۔محکمہ مال ملتان کی تحصیل صدر کے پٹواری نے تو باقاعدہ اپنی کمپنیاں بناکر پراپرٹی کے کھیل میں حصہ دار بن گئے جبکہ ان پٹواریوں کی نگرانی پر تعینات قانونگو بھی بزنس ٹائکیون سمجھے جانے والے اداروں کی نمائندگی کرتے نظر آرہے ہیں معلوم ہوا ہے ملتان تحصیل سٹی کے68مواضعات شامل ہیں ان میں مواضعات میں جمعہ خالصہ،دُرانہ لنگانہ،مظفر آباد،طرف مبارک اول،بوعہ پور،طرف مبارک دوئم،طرف دائرہ،طرف راوی،طرف اسمعیل،دُرانہ لنگانہ،مظفرآباد،ٹبہ مسعود پور،تیل کوٹ،قاسم بیلہ،کائیاں پور،بکھر عاربی،پنڈٹ رام نارائین،ٹنڈنی،کوٹلہ وارث شاہ،ببراں والا،اسلام آباد،کوٹلہ مطہربان،بھکر پور،چک مبارک،شاخ مدینہ ودیگر شامل ہیں۔تحصیل ملتان صدر کے11ریونیو سرکلز میں278مواضعات میں شجاعباد تحصیل کے85اور جلالپور پیروالہ میں114مواضعات شامل ہیں مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق تحصیل ملتان سٹی کے بعد اب تحصیل ملتان صدر پراپرٹی سے بزنس سے منسلک گروپس کا مرکز ہیں۔ہزاروں ایکڑ پر موجود درختوں کا صفایا کرکے ہاؤسنگ سکیمیں کھڑی کردیں گئیں۔محکمہ ماحولیات چھوٹے کاروباری طبقہ کو پکڑ دھکڑ کر اپنی کارروائی دکھاواکردیتا ہے لیکن ہزاروں ایکڑ اراضی کو گرین بیلٹ سے محروم کرنے والے پراپرٹی کا بزنس کرنے والے اداروں اور گروپس کے سامنے ہاتھ جوڑے نظر آتا ہے۔ پٹواریوں کیوجہ سے ملتان میں چائنہ کٹنگ کا عمل شروع ہوا ہے جبکہ لاہور مرلہ کی اصطلاح اور اس کا نفاذ بھی انہی پٹواریوں کا کارنامہ ہے۔