حکومت کوغریب ملازمین کا خون چوسنے نہیں دیں گے ؒ نبی امین

 پشاور (کرائمز رپورٹر)آل گورنمنٹ ہیلتھ ایمپلائزدرجہ چہارم ایسوسی ایشن خیبر پختونخواکے صدر نبی امین، جنرل سیکرٹری محمد علی اور سیکرٹری اطلاعات آصف خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ہیلتھ کے غریب اور متوسط طبقے کے ملازمین کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس سے محروم کرکے زندہ درگور کرنا جاہتی ہے، جوکہ انصاف کی دعویدار صوبائی حکومت کی بدترین ناانصافی ہے، وعدے کرکے باربار مکر جانا موجودہ صوبائی حکومت کا شیوہ بن چکا ہے، صوبائی حکومت کو افہام و تفہیم کی پالیسی راس نہیں آرہی، ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسی سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت جان بوجھ کر ہسپتال اور صحت کے مراکز بند کرکے افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبرپختونخوا کے تاریخی ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں درجہ چہارم ہیلتھ ملازمین کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کا وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے ہم ایک بار پھر بھرپور احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں، صوبائی حکومت محکمہ صحت کے 70 فیصد ملازمین کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دے رہی ہے جبکہ 30 فیصد متوسط طبقے کے ملازمین جن میں کلاس فور ملازمین، آئی ٹی سٹاف، کلریکل سٹاف اور ٹینیکل سٹاف شامل ہیں کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس سے محروم کردیا ہے جوکہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے ۔ حکومت کلاس فور ملازمین، آئی ٹی سٹاف، کلریکل سٹاف اور ٹینیکل سٹاف میں پائی جانے والی مایوسی کو ختم کرنے کے لئے جلد از جلد ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کا اعلان کرے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کو ہرگز غریب ملازمین کا خون چوسنے نہیں دیں گے،اس بار احتجاج کے طور پر تمام دفاتر اور ہسپتالوں میں کام ٹھپ کرکے ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کے حصول تک احتجاج جاری رکھیں گے اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کے حصول کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔