کوکی خیل قوم کا ریگی للمہ سے باؤنڈری وال تعمیر کرنے کا اعلان

جمرود (نمایندہ پاکستان)کوکی خیل قوم کا ریگی للمہ سے باونڈری وال تعمیر کرنے کا اعلان ،عدالتی احکامات کے باجود بھی ہماری جائیداد میں تعمیراتی کام جاری ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،کوکی خیل مشران کا جمرود پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس خیبرایجنسی کی تحصیل جمرودمیں قوم کوکی خیل نے جمرودپریس کلب میں ریگی للمہ حد بندی دیوار تعمیرکرنے کے حوالے سے پریس کانفرنس کیا جس میں قوم کوکی خیل سے تعلق رکھنے والے مشران ملک نصیراحمد،برکت علی خان،گوہر ایوب،محمد عرفان،حاجی شالمت خان،حاجی یوسف خان، حاجی بارک شاہ اور ملک قوت کے علاوہ دیگرمشران بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کوکی خیل جمروداور ضلع پشاور کے تنازعہ زمین ریگی للمہ کا کیس پشاور ہائی کورٹ میں زیرسماعت تھاجو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے صوبائی حکومت کے نام اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکم جاری کیا جس میں واضح ہدایت کی گئی ہے کہ ضلع پشاور کے پی کے اور قوم کوکی خیل تحصیل جمرود کے درمیان میفی گریفتھ باونڈری لائن غیرمتنازعہ حد فاصل ہے جو فریقین نے قبول کیا ہے ۔اس باونڈری لائن کوبحال کیا جائے اگرباونڈری لائن پر کوئی رکاوٹ ہو اسکو بلڈوزکیا جائے اور جلد ازجلد پی ڈی اے کے خرچہ پر مذکورہ لائن پیلرز تعمیر کئے جائے۔یہ بھی حکم صادر کیا ہے کہ فریقین تاحال مسئلہ ریگی للمہ متنازعہ اراضی پر کسی قسم کا تعمیراتی کام نہیں کرینگے لیکن عدالت کے واضح حکم نامہ اور ہمارے نمائندہ جرگہ کے کئی باریاد ہانی کے باوجود صوبائی حکومت نے نہ صرف حد بندی کو بحال نہیں کیا بلکہ باربار منع کرنے کے باوجود پی ڈی اے نے متنازعہ اراضی پر تعمیراتی کام کے ذریعے مداخلت کرنا شروع کیا ہے اور توہین عدالت کے بھی موجز بن گئے ہیں۔ ہم قوم کوکی خیل صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو متنازعہ اراضی پر قبضہ کرنے سے فوراََ روکا جائے اور صوبائی حکومت ہمارے ساتھ میفی گریفتھ لائن1912 ء کے مطابق ہمارے جائیداد اراضی کا حد فاصل بحال کریں۔ ہم قوم کوکی خیل عدالت کے حکم نامہ کے مطابق اس مسئلہ کے حل کیلئے تیار ہیں اور صوبائی حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ڈی اے کو جلدازجلد متنازعہ اراضی میں تعمیراتی کام کے زریعے قبضہ و مداخلت کرنے سے روکا جائے بصورت دیگر ہم قوم کوکی خیل بھی میفی گریفتھ لائن 1912 ء کے تحت حد بندی کے دیوار اور تعمیراتی کام شروع کرینگے۔اگر اس عمل میں کسی قسم کا بھی نقصان ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت کے ادارے پی ڈی اے پر عائد ہونگی۔