صنمارک کے پاکستان ڈپو یلپمنٹ پروگرا م میں اہم اہداف حاصل لر لیے: احسن اقبال

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)معیشت کے احیاء اور تعلیم اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے ڈنمارک کی حکومت کے تعاون سے جاری ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ (MDTF) سے خیبر پختونخواہ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں تقریباً 57 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچایا جاچکا ہے۔ پاکستان میں 2010 سے 2017 تک جاری رہنے والے ترقیاتی پروگرام کی تکمیل کے موقع پر ڈنمارک کے سفارت خانے کی جانب سے منعقد کردہ ایک تقریب میں ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی شراکت سے جاری متعدد منصوبوں کے ذریعے حاصل کیے جانے والے اہداف کے بارے میں بتایا گیا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی ڈاکٹر احسن اقبال نے اس تقریب میں حکومت پاکستان کی نمائندگی کی اور وہی ڈنمارک کے سفیر ہز ایکسی لینسی اولے تھونکے کے ہمراہ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر احسن اقبال نے کہا: ’پاکستان خود کو درپیش آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان 2025 وژن گلوبل سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ گولز (SDGs) کے حصول کو یقینی بنانے میں ہماری راہ گذر ہے جو کہ پاکستان کے لیے خصوصی طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم ڈنمارک کی جانب سے ہر مرحلے پر کیے جانے والے تعاون پر ان کے بہت مشکور ہیں۔ ہمارے شراکت دار ہمارے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تعاون تمام شعبوں میں کیا جائے گا۔‘تقریب میں ذرائع ابلاغ اور جمہوریت، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور ذریعہ معاش میں اضافے اور صنعتوں کے قیام سے اقتصادی ترقی جیسے اہم موضوعات پر خصوصی اجلاس منعقد کیے گئے۔ اجلاس کے دوران کلیدی ماہرین اور ترقی میں شراکت داروں نے ملک کو درپیش مسائل اور ان کے حل میں کامیابیوں پر گفتگو کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی برادری کے مابین مضبوط اور کارگر شراکت کو بھی نمایاں کیا۔سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز حصول کے لیے ڈنمارک نے 2010 سے لے کر اب تک پاکستان میں سول سوسائٹی کو کثیر الجہتی اور مقامی شراکت داروں کے ذریعے سلسلے وار تعاون فراہم کیا ہے۔ تقریب کے دوران دکھائی جانے والی ڈاکومینٹری اور وہاں موجود شراکت داروں کے اسٹال پر حاصل کردہ نتائج کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ڈنمارک کی جانب سے یونیسیف پاکستان کنٹری پروگرام کو فراہم کردہ تعاون کے زریعے 73 لاکھ نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو صحت کی تعلیم دی گئی ، 23 لاکھ افراد بشمول 12 لاکھ خواتین کو صفائی کی بہتر سہولیات فراہم کی گئیں اور دس لاکھ افراد کے لیے پینے کے صاف پانی تک رسائی ممکن بنائی گئی۔ اس پروگرام کی مدد سے ’ایوری چائلڈ ان اسکول‘ کے منصوبے کے ذریعے چار لاکھ اطفال پہلی دفعہ اسکول میں داخل کیے گئے۔ ڈنمارک کی جانب سے صنفی مساوات کے فروغ، جنسی اور بچہ پیدا کرنے کے فیصلے کا حق (Oxfam)، یوتھ پارلیمنٹ پاکستان (PILDAT)، انسانی اقدار کے فروغ (Human Rights Commission Pakistan) اور ذرائع ابلاغ کی تحریری صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیت اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے تحفظ (International Media Support) جیسے شعبوں میں بھی تعاون کیا گیا ہے۔ڈنمارک کے سفیر ہز ایکسی لینسی اولے تھونکے نے کہا کہ ڈنمارک ایک مضبوط، وسیع الخیال اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان علاقائی سلامتی اور ترقی کے عمل میں ایک اہم رکن ملک ہے۔ ڈنمارک کے سفیر نے عوام کے حقوق کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے کئے جانے والے کئی اقدامات کی تعریف کی جن میں تعلیم اور صحت کی خدمات پر زیادہ توجہ اور بچوں اور خواتین کے حقوق پر قانون سازی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کو ڈنمارک کی ترقیاتی حکمت عملی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی کیونکہ سماجی انصاف جمہوری معاشروں کی تعمیر میں اہم ترین ستون کی حیثیت کا حامل ہے۔ سفیر نے مساوات، آزادی اور انصاف جیسی جمہوری اقدار سے نوجوانوں کو روشناس کرنے کی اہمیت بھی بیان کی۔ ’مستقبل میں ہماری توجہ حکومت اور کاروباری اداروں میں شراکت کی تعمیر پر ہوگی جس کے نتائج معلومات کے پھیلاؤ اور روزگار کے وسیع ذرائع کی صورت میں نکلیں گے۔ ہم ایسا کرکے پاکستان کو درپیش توانائی، پانی اور شعبہ صحت جیسی اہم آزمائشوں کا سامنا کرنے میں مدد کریں گے۔ پاکستان کو ایک پائیدار، پُر امن اور ترقی یافتہ ملک بنانے میں ہم اس کے ساتھ شریک رہیں گے۔‘پینل سیشن میں شریک ماہرین میں آئی ایم ایس کے کنٹری ڈائیریکٹر عدنان رحمت، یونیسیف پاکستان کی ڈپٹی کنٹری ریپریزنٹیٹو محترمہ کرس منڈوئیٹ، ہیومن رائٹس کمیشن کی نیشنل کونسل ممبر محترمہ طاہرہ عبداللہ، ہنر کدہ کے ڈائریکٹر جمال شاہ، ورلڈ بینک کے قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر انتھونی چولسٹ، پلڈاٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد بلال اور یوکے ایس ریسرچ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ تسنیم احمر شامل تھے۔ڈنمارک کی حکومت نے پاکستان میں اپنا پہلا ترقیاتی پروگرام 28 ملین امریکی ڈالر کے بجٹ سے 2010 میں شروع کیا۔ اس پروگرام کا مقصد انسانی حقوق، جمہوریت ، امن و سلامتی اور صنفی مساوات کے شعبوں میں پاکستان کو تعاون کی فراہمی تھا۔ تین سال کے عرصے پر محیط اس شراکت داری اور ترقیاتی منصوبوں کے بعد ڈنمارک کی حکومت نے 50 ملین ڈالر کے بجٹ سے 2017 تک کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کرکے پاکستان کے ساتھ کام کرنے اور تعاون کو وسعت دی۔