پیپلزپارٹی نے مردم شماری کا طریقہ کار سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی مردم شماری کے طریقہ کار کو عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت، ادارہ شماریات اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مردم شماری میں کئی اہم معاملات کو خفیہ رکھا گیا ہے، معلومات تک رسائی ہمارا بنیادی حق ہے لہذا آئین کے مطابق مردم شماری کا طریقہ کار شفاف ہونا چاہیے جب کہ اس حوالے سے 12 مارچ کو وزیراعلی سندھ نے وفاقی وزیر اسحاق ڈار کو خط بھی لکھا تھا۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مردم شماری غیر منصفانہ ہو رہی ہے ، مردم شماری کے عمل میں آئین کے آرٹیکل 2, 4 اور 19 کی صریح خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔پیپلزپارٹی نے عدالت سے مردم شماری کے لئے غیر جانبدارانہ عملہ تعینات کرنے کامطالبہ کیاہے ۔دوران سماعت سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ مردم شماری کا عمل سندھ کے اصل باسیوں کو کم دکھانے کی سازش ہے۔پیپلز پارٹی نے موقف اپنایا کہ مردم شماری میں صرف پاکستانی اور سندھ کے اصل رہائشیوں کو گنا جائے ، مردم شماری کا عمل غیر شفاف اور جانبدارانہ ہے۔پیپلزپارٹی نے موقف اپنایا کہ عوام کو معلومات کے حصول تک رسائی ممکن بنائی جائے،غلط اندراج کی صورت میں دوبارہ معلومات فراہم کرنے کی اجازت ہونی چاہئے ، دہرے اور تہرے رجسٹریشن کے عمل کو روکنے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں۔سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی پی سینیٹر فرحت اللہ بابرنے کہاکہ مردم شماری پر ہمارے تحفظات ہیں، مردم شماری انتہائی اہم معاملہ ہے، اگر معاملہ شفاف نہ ہوا تو وفاق اور اس کی وحدت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے، مردم شماری کے معاملے میں بداعتمادی کو ختم نہیں کیا گیا تو وفاق کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات اور صوبوں سے شکایات آرہی ہیں لہذا پیپلزپارٹی کا بنیادی مطالبہ اس عمل کو شفاف بنانا ہے۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ہم دوبارہ مردم شماری کا مطالبہ نہیں کررہے موجودہ طریقہ کار کو ہی شفاف بنایا جائے اور مردم شماری کے طریقہ کار میں آئین سے متصادم شقوں کو ختم کیا جائے جب کہ وفاق سے مطالبہ ہے کہ شہریوں کے تحفظات کو دور کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ مختلف طبقات اورصوبوں سے شکایات آرہی ہیں، معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے، اہم معلومات کو ویب سائٹ پر ڈالا جائے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے شکایات آرہی ہیں، بنیادی مطالبہ ہے مردم شماری میں شفافت ہو۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایم کیو ایم پاکستان نے بھی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مردم شماری کے طریقہ کار کے خلاف درخواست دائر کرائی تھی۔