پاک افغان بارڈر کھلنے کے اعلان پر تاجروں اور عوام میں خوشی کی لہر

 خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ)پاک افغان بارڈر ز کھولنے کے اعلان کے بعد ٹرانسپورٹروں، تاجروں اور دکانداروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،راستوں میں کھڑی مال بردار گاڑیاں طورخم کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار کھڑی ہیں ،کارخانوں سے لنڈیکو تل تک دوکانداروں نے بھی سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کیا ،فاٹاگرینڈ جرگے کے اراکین کا وزیراعظم پاکستان کے اعلان کا خیر مقدم ، تاہم وزیر اعظم کے اعلان کے بعد پہلے دن بارڈر آمدو رفت اور ٹریفک کے لئے نہیں کھل سکا ، ذرائع، باقاعدہ نوٹیفیکیشن ابھی تک نہیں ملا ہے جس کا انتظار ہے، پولیٹیکل انتظامیہ ذرائع ۔ گز شتہ بتیس دنوں سے بند پاک افغان بارڈرز طورخم اور چمن کھلنے کاعلان ہو تے ہی مال برداڑ گاڑیوں سمیت چھوٹی گاڑیوں کے مالکان اور لنڈیکوتل سے طورخم تک چلنے والے مقامی ٹرانسپوٹروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بارڈرز فوری کھولنے کا اعلان توکر دیا تاہم طورخم بارڈر پہلے دن ٹریفک اور عام لوگوں کی آمدورفت کے لئے نہیں کھل سکا پولیٹیکل انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ان کو باقاعدہ بارڈر کھولنے کے حوالے سے نوٹیفیکیشن نہیں ملا ہے جس کا انتظار ہے جبکہ دیگر ذرائع نے بتایا کہ بارڈر منگل کے روز باقاعدہ کھول دیا جائیگا جس کے لئے مناسب انتظامات کئے جائینگے دوسری طرف کر اچی اور لاہور سے لوڈہونے والی مال بردار گاڑیاں بھی روانہ ہونے کے لئے تیار کھڑی ہیں جبکہ کارخانوں مارکیٹ سے لنڈیکوتل اور طورخم تک تاجروں نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرکے بارڈر کھولنے کا خیر مقد م کیا ہے قبائلی علاقوں میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اس سلسلے میں فاٹاگرینڈ جرگہ کے اراکین ملک عبدالرزاق ملک خالد خان آفریدی ملک صلاح الدین ملک اسرار اور ملک وارث نے وزیراعظم کا شکرایہ ادا کر تے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک کے ساتھ تمام امور پر بات چیت کرنی چاہئے اور کہا کہ قبائلی عوام کا روز گا ر بارڈر سے وابستہ ہے انہوں نے کہا کہ گز شتہ ایک مہینے سے بارڈر بندش سے قبائلی عوام اور تاجر وں کا بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ بھی کھڑی تھی اور لوگ سخت پریشانی سے دو چار تھے اور بارڈر کھلنے کے اعلان کے بعد علاقے میں دوبارہ روزگار شروع ہو جائیگا اور ٹرانسپورٹ بھی چل پڑیگی اور لوگوں کی معاشی مشکلات میں کمی آجائیگی فاٹا گرینڈ جر گہ کے اراکین نے افغانستان کے حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ چونکہ افغانستان بھی اسلامی برادر ملک ہے اس لئے وہ دوسروں کے بہکاوے میں نہ آئے اور پاکستان کے خلاف استعمال ہو نے سے اپنے اپ کو بچا کر رکھیں تاک دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہ ہوں واضح رہے کہ بارڈر کھلنے کے احکامات بتیس دن بعد جاری کئے گئے ہیں طورخم بارڈر کی بندش سے اگر ایک طرف دونوں ممالک کے تعلقات خرابی کی طرف جا رہے تھے تو دوسری طرف بارڈر بندش سے دونوں حکومتوں اور ان کے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کا بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔