تازہ ترین

ای پیپر

شاہد نذیر چودھری

شاہد نذیر چودھری

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر73

خوشیوں کو گہن لگتے دیر نہیں لگتی۔بھولو برادران کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ نیروبی میں وہ اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑنے کے بعد غم و اندوہ میں ڈوب جائیں گے۔ بس کا تب تقدیر نے یک لخت ہی انہیں سوگوار کرنا تھا سو کر دیا اور پھر ان کی خوشیوں ا ور مسرتوں کے سہانے دن پژمردہ ہوتے چلے ...

تفصیل پڑھیں

بےنظیر بھٹو کا اصلی قاتل

بے نظیر بھٹو کے قتل میں دو سابق صدور میں الزامات کی جنگ چھڑ گئی ہے۔اتفاق سے دونوں صدور پر ہی ”قاتل“ ہونے کا الزام ہے ،بدقسمتی سے ایک صدر شہید بی بی کا شوہر اور دوسرا بدترین دشمن ہے۔یہ دشمن جنرل مشرف ہیں جن کے اقتدار میں بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا ،لیکن انکے تخت صدارت سے ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر71

گاماں رستم زماں اورامام بخش اس قافلے کے سالار اعلیٰ تھے جو نیروبی روانہ ہو چکا تھا۔نیروبی پہنچنے پرہائی کمشنر نواب صدیق علی خاں اور پاکستان کی نامور شخصیات نے پہلوانوں کا استقبال کیا اورمقامی پہلوانوں کو دنگل کے شیڈول کا اعلان کرنے کا کہہ دیا گیا۔پہلی جوڑ مادھو سنگھ ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر70

خلیفہ چنن دین نے ملک واحد کی طرف دیکھا اورپوچھا۔’’ملک جی اب کیا حکم ہے۔کالا چھاتی پرہی بیٹھا رہے۔تسلی ہو تو اسے باہر بلوالیں۔‘‘ملک واحد اپنی شرط ہارگیا اورتمام انعام کالا کے سپرد کردیا۔قیام پاکستان تک کالا آسمان شاہ زوری پربلند ہوتا گیا۔1947ء کے اوائل میں دہلی میں ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر69

کالا پہلوان 1928ء میں چوہٹہ مفتی باقر لاہور میں پیدا ہوا۔اس کے والد بڑے ملنسار اور نیک انسان تھے لیکن ان کی طبیعت کراری اورزود اثرتھی۔کسی غلط بات پر جلد غصہ میں آجاتے تھے۔ کالا کے والد خلیفہ چنن دین فن پہلوان سے غائیت درجہ محبت کرتے تھے۔ ان کا گھرپہلوانوں کی سرائے بن گیا تھا۔ جب ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر68

دنگل سے ایک روز پہلے دستور کے مطابق پہلوانوں کا جلوس نکالا گیا۔ کالا پہلوان بے پناہ تیاری کے ساتھ شب دیجو ربناہوا تھا۔حریف کو دیکھ کر اچھا پہلوان کے اندر جوالا مکھی کروٹیں بدل رہا تھا۔ اس کی آنکھیں شعلے برسا رہی تھیں۔اکی تو آتش پا ہوا پھر رہا تھا۔10اپریل1949ء کے دنگل میں لاہور ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر67

بھولو پہلوان رستم پاکستان کا دنگل جیت کر جب لاہور آیا تو مخالفین نے ایک نیا شوشا چھوڑ دیا۔’’بھئی ہم تو تب مانیں جب بھولو ہیرو نمبرون سے اپنے بھائی کا بدلہ لے گا۔‘‘بھولو کو اپنے معصوم اور چہیتے بھائی اکی کی ہار کا بڑا رنج تھا۔ اس نے زبانوں کو لگام دینے کے لیے ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر66

1949ء کا آغاز ہوا تو رستم پاکستان دنگل کی تیاریاں ہونے لگیں۔تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان میں کشتی کے سب سے بڑے اعزاز کا مقابلہ معمولی بات نہیں تھی۔ جونہی اس دنگل کے چرچے شروع ہوئے گوجرانوالہ میں ایک ہیجان برپا ہو گیا۔رحیم بخش سلطانی والا نے علی اعلان کہہ دیا تھا۔’’رستم ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر65

ادھر لاہور میں فتح کے شادیانے بجائے جارہے تھے تو ادھر گوجرانوالہ میں شادی مرگ کا ساماں تھا۔ یونس پہلوان اپنی شکست پر انتہائی رنجیدہ تھا۔ رحیم بخش نے اسے یوں پژمردہ دیکھا تو اسے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا۔’’جونے!اس طرح دل ہارے گا تو پھر کبھی کشتی نہ لڑ سکے گا۔ اوئے جھلے، شکست اور ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر64

بھولو نے لحاظ ملحوظ نہ رکھا اور چند منٹ بعد باپ کے حصار سے باہر نکل آیا۔ ابھی وہ سنبھل نہ پایا تھا کہ حمیدا پہلوان نے اسے پٹھی ماری اور بھولو دھڑام سے اکھاڑے میں پڑا تھا۔ بھولو کو اپنے ماموں جیسے کوہ گراں کو گرانا تھا۔ بھولو حمیدا پہلوان سے آدھ گھنٹہ تک حساب کتاب کرتا رہا۔ وہ اس ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر63

رات نصف بیت چکی تھی۔ کامران کی بارہ دری کا علاقہ گھنے باغات کی مسحور کن خوشبوﺅں سے معطر تھا۔ مگر جب سارا ہی ماحول دھوئیں اور خون سے لت پت تھا تو یہاں سکون کیسا....! گاماں حویلی کے کھلے صحن میں سویا ہوا تھا جب اذان کی آواز سن کر وہ اٹھ بیٹھا۔ کوئی عورت دلگداز لہجے میں اذان دے رہی ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر61

اکھاڑے خون میں نہا گئے تھے۔ وہ چاہتوں بھرے لہجے اور جان نثار کرنیوالے ہندو جو کبھی مسلمان پہلوانوں کو دیوتا سمجھتے تھے اور ان کی پوجا اور درشن کو ترستے تھے یکایک معدوم ہو گئے اور افق سیاست کی بلندیوں پر سرخ بادلوں کے امڈتے ہی ان کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔ ہندوستان میں علیحدگی ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر60

مہربی ممبئی کے قرب میں ایک چھوٹی سی ریاست تھی جو علم و ادب کے علاوہ کھیل کے میدان میں اپنی بساط سے بڑھ کر گوہر نایاب رکھتی تھی۔ ریاست کے دربار سے کئی گتکا باز اور پہلوان منسلک تھے۔ بھیم دیو اور منگلا رائے مہربی کے درباری شاہ زوروں کے جرنیل تھے۔ منگلا رائے، بھیم دیو سے زیادہ گھاگ ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر59

مقابلہ کولہاپور میں ہو رہا تھا۔ سیٹھ سلیمان اور بابا سوگندی نے مقابلے سے ایک رات قبل بھولو کو اعتماد میں لیا اور اسے کہا۔ ’’پورگا! تم نے ہمارا ایک کام کرنا ہے‘‘۔ بھولو نے پوچھا۔ ’’آپ میرے بزرگ ہیں حکم کریں کیا کام ہے‘‘۔ سیٹھ سلیمان نے کہا۔ ’’بھولو ہم ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر58

نزدیک پہنچ کے بھولو نے اسے زبردست جھکائی دی تو جوتی پانڈے کسی سحر زدہ ہرنی کی طرح کپکپایا پھر ایک بہت بت کی طرح زمین بوس ہو گیا جو زلزلے کے جھٹکے سے لرز اٹھتا ہے اور توازن کھو جانے سے گر جاتا ہے۔بھولو نے گرے ہوئے جوتی پانڈے کی گردن پر گوڈا رکھا اور بغیر کسی مزاحمت کے اس کی بازی ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر57

مہاراجہ نے تالی بجائی اور میراں سے مخاطب ہوا۔ ’’میراں ہماری مہان گائیک ہے۔ اس کی آواز ہمارا وجدان ہے۔بھگوان کی سوگند، جب تک یہ نہ گائے اور ہمارے کانوں تک آواز نہ پہنچے ہماری سویر نہیں ہوتی۔ آج ہم نے میراں کو یہ اعزاز بخشا ہے کہ وہ ہمارے پہلوانوں کو اپنی گائیکی سے محظوظ ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر56

پٹیالہ کی فضاؤں میں چند روز قیام کے دوران بھولو کو ایک عجیب سا نشہ اور سرشاری محسوس ہو رہی تھی۔ پہلوان کے مزاج میں اس تبدیلی کو امام بخش اور حمیدا پہلوان نے بھی محسوس کر لیا تھا۔ ایک روز حمیدا پہلوان نے امام بخش سے کہا۔ ’’بھاجی! میں محسوس کر رہا ہوں، اپنا بھولو تیور بدل رہا ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر55

دربار لگتا تو حکم ملتے ہی میراں کوئی راگ شروع کر دیتی۔ میراں کا اصل نام امیر بیگم تھا۔ وہ ایک قبول صورت اور باوقار عورت تھی۔ اس کی بڑی بڑی سُرمگیں آنکھوں پر جھکی ہوئی لمبی پلکیں یوں لگتی تھیں جیسے پھولوں کی شاخیں جھیل کے پانی میں اپنا عکس ڈال رہی ہوں۔ جب وہ اپنے لمبے سیاہ اور ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر54

فروری 1946ء میں اچھا پہلوان کی کشتی حاجی اسلم پٹھہ غلام محی الدین پہلوان پسر چودھری مہنی سے طے پائی۔ حاجی اسلم پہلوان حاجی افضل کا بڑا بھائی تھا۔ وہ ایک نامور دنگلیا تھا۔یہ کشتی داتا دربار کے عقب میں ہوئی۔ اس کشتی کے جو اشتہار شائع ہوئے ان پر اچھا پہلوان پسر گاماں پہلوان رستم ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر53

جلال کی موت بڑے پراسرار حالات میں ہوئی تھی۔ پہلوانوں کی زندگیاں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں جنہیں انسان فہم و شعور سے بالا سمجھتا ہے۔ مگر جب موت آتی ہے تو ایسے پراسرار اور غیر منطقی غیر فطری حالات پر بھی اعتبار کرنا پڑتا ہے۔ پھر جب ایسے واقعات کی چشم دید گواہیاں متعدد ہوں تو ان ...

تفصیل پڑھیں