تازہ ترین

ای پیپر

شاہد نذیر چودھری

شاہد نذیر چودھری

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ آخری قسط

اکی پہلوان کندھا اترنے کے باوجود انوکی سے دوبارہ کشتی پر اصرارکرنے لگے تھے مگر اباجی نے انہیں سمجھایا اورکہا کہ ہم جھارا پہلوان کی انوکی سے کشتی کرائیں گے لہٰذا پروموٹرز نے انوکی اور جھارا کی کشتی طے کرا دی۔ یہ کشتی دو قوموں کے وقار کا سوال بن گئی تھی۔ لہٰذا مجھے اور جھارا کے ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر87

ہمارے معاشرہ میں جو فرشتہ صفت تھے۔ یہ چور لفنگے، نشہ بازوں اور قبضہ گروپوں کے سرپرست پہلوان نہیں ہیں۔ پہلوان کیا ہوتے ہیں۔ میں آگے چل کر بتاتا ہوں لیکن پہلے اس فرق کی وضاحت اور پہلوانی کی عظمت و معیار کا اندازہ کر لیجئے۔ ہمارے خاندان میں پہلوان کا معیار کیا ہوتا تھا۔ اس بارے ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر86

6مارچ1985ء کی رات بھولو پہلوان پر بہت بھاری تھی۔ٹانگ کٹ چکی تھی۔ رستم زماں بستر علالت پر رنجور تھا اور دم شکن مرحلوں سے گزر رہا تھا۔ صدمات کا بوجھ اتارنے کے لیے فرشتہ اجل پر پھیلائے کھڑا تھا۔ سارا خاندان آخری ملاقات کے لیے آچکا تھا۔ نوبج کر پینتیس منٹ پر بھولو پہلوان نے آخری بار ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر85

جھارا پہلوان طاقت و شرافت کی بلندیوں سے نشہ کی وادی میں اندھا دھند گرتا جارہا تھا، جب بھولو گاڈی جیسا بوڑھا شیر اس کو للکارنے لگا تھا۔ کشتی کا دن آیا تو عین کشتی کے وقت جھارا نشیلے سگریٹ کا زہر اپنے اندر اتار کر اکھاڑے میں اترا تھا۔ وہ مست قدموں سے اکھاڑے کو سلامی دینے آیا تھا۔ ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر84

جھارا افق شاہ زوری پر آفتاب بن کر چمکنے لگا تھا۔ انوکی سے اپنے چچا اکی پہلوان کی عبرتناک شکست کا بھرپور بدلہ لینے کے بعد وہ نشاط وکیف کی سرگرمیوں میں کھو گیا۔ یہ خوشیاں اور سرگرمیاں بھی اکھاڑے کی روایات سے بندھی تھیں جن میں خرافات نام کی ایک چیز بھی شامل نہ تھی۔ وہ اپنی خوشیوں ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر83

بھولو کو مراد مل رہی تھی اس نے رضا مندی دی اور سلیم صادق نے1978ء میں ہی انوکی کو پاکستان بلوایا اور جھارے سے کشتی کا معاہدہ کرادیا۔انوکی کی نظر میں جھارا بچہ تھا۔ حقیقت میں جھارے کی تو ابھی مسیں بھیگ رہی تھیں جب وہ انوکی کے روبرو ہوا تھا۔انوکی اسے مفت کی کھیر سمجھ کر ہڑپ کرنا ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر82

زبیر العروف جھارا نجیب الطرفین پہلوان تھا۔ پہلوانی زبان میں اصیل بوٹی تھا۔باپ کی طرف سے سلسلہ امام بخش رستم ہند اور گاماں پہلوان رستم زماں سے ملتا تھا تو ماں کی طرف سے گاماں کلووالا،کلو پہلوان رستم ہند،غلام پہلوان رستم زماں جیسے عظیم فن کار شاہ زوروں کا طرہ امتیاز حاصل ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر80

اسٹیڈیم کے اندر باہر سخت حفاظتی انتظامات تھے۔ چالیس ہزار سے زائد تماشائی رستم زماں کا معرکہ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ اسی وقت پاکستان کے ہائی کمشنر ایس کے دہلوی اور سفارتخانے کے عملہ کے علاوہ انگلینڈ بھر سے پاکستانیوں کا جم غفیر موجود تھا اور سب کی نظریں اکھاڑے پر جمی ہوئی ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر79

کرسٹوفروہیلن 27جنوری1967ء کو کراچی پہنچ گیا۔بھولو پہلوان نے اپنے پروموٹر کے لیے سنٹرل ہوٹل میں کمرہ بک کرادیا اور ایئرپورٹ پر جاکر اس کا استقبال کیا۔ کرسٹوفر وہیلن کاغذات تیار کرکے آیا تھا۔چند دنوں بعد یعنی 4فروری1967ء کو ہوٹل ہی میں پاکستان کی تاریخ شاہ زوری کا پہلا معاہدہ عمل ...

تفصیل پڑھیں

جناتی، جنات کے رازداں اور دوست کے قلم سے۔۔۔ قسط نمبر24

 یہ کیسادل فریب سمے تھا،اسکو لفظوں میں بیان کرنا شاید ممکن نہ ہو۔یوں سمجھ لیں کہ سندریا کے نازنین بدن سے روشنیاں پھوٹ پڑی ہوں،حُسن کا جوالا پھٹ گیا ہو۔ دیواروں سے لپٹی پرچھائیوں کے مُردہ تن بھی حُسن کے برق باراں سے پھدک پھدک کر انگڑائیاں لینے لگے تھے۔گرو دیوتا کی آنکھیں بھی ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر78

بھولو نے اپنے بھتیجوں کوسکولوں سے اٹھالیا۔ ان میں جھارا اور ناصر بھولو بھی تھے۔بچوں کو اکھاڑوں میں لے جایا گیا اوران کی پہلوانی تعلیم کا آغاز کر دیا گیا۔1964ء کا آغاز ہو چکا تھا۔ بھولو کو اپنی مبارزت عام کا جواب کسی طرف سے بھی نہ ملا تھا۔بھولو پہلوان 1952ء سے اس کوشش میں تھا کہ ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر77

گوگا چند دن تک بمبئی میں رہا۔ اس کی کشتی میں صرف چھ دن باقی رہ گئے تھے۔ان مختصر دنوں میں کیا خاک تیاری ہوئی تھی۔ بھولو کو تو مارے غصے کے تاپ چڑھ گیا تھا۔ وہ لٹھ لے کر گوگا کے پیچھے پڑ گیا۔ بیگم بھولو نے بمشکل گوگا کی گلوخلاصی کرائی۔ گوگا اب خجل خجل سا رہنے لگا تھا۔سب سے چھوٹا تھا ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر76

چند ماہ بعد ہی بھولو برادران بھارت کے طویل دورے کے لیے روانہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ کلا پہلوان پسر بیرا پہلوان،اچھا پہلوان گوجرانوالیہ بھی تھا۔ریل گاڑی پر سفر کا آغاز ہوا۔ پہلوان بمبئی جاکر اترے۔ان کا اُتارا اگری پاڑا کے مقام پر ڈین صاحب کے پاس ہوا۔ وسیع و عریض کوٹھی پہلوانوں کے ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر75

بھولو برادران نے سنگاپور اور ملائشیا میں دیسی کشتی کے فن کی دھاک بٹھا دی۔انہوں نے فری سٹائل کے مقابلے بھی کئے اور کسی میں بھی پشت نہ لگوائی۔ ان کادورہ کامیاب رہا۔ ڈھیروں انعامات اوراعزازات کے ساتھ وہ وطن واپس لوٹے۔عوام نے دل وجاں سے ان کا استقبال کیا۔ کیونکہ اس وقت وہی کھیل کی ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر74

’’نہیں۔۔۔نہیں کہہ دو یہ خبر جھوٹ ہے۔‘‘بیگم حمیدا پہلوان نے اجنبی کا گریبان پکڑ لیا۔ ’’تجھے کس نے یہاں بھیجا ہے۔خدا کے واسطے سچ بتا تو جھوٹ تو نہیں بول رہا۔‘‘پیغامبر تو خود رستم ہندکی خبر سے پژمردہ تھا۔ بولا۔’’بیگم صاحبہ سچ کہہ رہا ہوں۔ یہ لیں ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر73

خوشیوں کو گہن لگتے دیر نہیں لگتی۔بھولو برادران کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ نیروبی میں وہ اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑنے کے بعد غم و اندوہ میں ڈوب جائیں گے۔ بس کا تب تقدیر نے یک لخت ہی انہیں سوگوار کرنا تھا سو کر دیا اور پھر ان کی خوشیوں ا ور مسرتوں کے سہانے دن پژمردہ ہوتے چلے ...

تفصیل پڑھیں

بےنظیر بھٹو کا اصلی قاتل

بے نظیر بھٹو کے قتل میں دو سابق صدور میں الزامات کی جنگ چھڑ گئی ہے۔اتفاق سے دونوں صدور پر ہی ”قاتل“ ہونے کا الزام ہے ،بدقسمتی سے ایک صدر شہید بی بی کا شوہر اور دوسرا بدترین دشمن ہے۔یہ دشمن جنرل مشرف ہیں جن کے اقتدار میں بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا ،لیکن انکے تخت صدارت سے ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر71

گاماں رستم زماں اورامام بخش اس قافلے کے سالار اعلیٰ تھے جو نیروبی روانہ ہو چکا تھا۔نیروبی پہنچنے پرہائی کمشنر نواب صدیق علی خاں اور پاکستان کی نامور شخصیات نے پہلوانوں کا استقبال کیا اورمقامی پہلوانوں کو دنگل کے شیڈول کا اعلان کرنے کا کہہ دیا گیا۔پہلی جوڑ مادھو سنگھ ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر70

خلیفہ چنن دین نے ملک واحد کی طرف دیکھا اورپوچھا۔’’ملک جی اب کیا حکم ہے۔کالا چھاتی پرہی بیٹھا رہے۔تسلی ہو تو اسے باہر بلوالیں۔‘‘ملک واحد اپنی شرط ہارگیا اورتمام انعام کالا کے سپرد کردیا۔قیام پاکستان تک کالا آسمان شاہ زوری پربلند ہوتا گیا۔1947ء کے اوائل میں دہلی میں ...

تفصیل پڑھیں

وہ پہلوان جنہوں نے تاریخ رقم کی۔ ۔ ۔ قسط نمبر69

کالا پہلوان 1928ء میں چوہٹہ مفتی باقر لاہور میں پیدا ہوا۔اس کے والد بڑے ملنسار اور نیک انسان تھے لیکن ان کی طبیعت کراری اورزود اثرتھی۔کسی غلط بات پر جلد غصہ میں آجاتے تھے۔ کالا کے والد خلیفہ چنن دین فن پہلوان سے غائیت درجہ محبت کرتے تھے۔ ان کا گھرپہلوانوں کی سرائے بن گیا تھا۔ جب ...

تفصیل پڑھیں