تازہ ترین

ای پیپر

پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کی تین سالہ کارکردگی

کسی بھی ادارے کی کامیابی کے پیچھے اس کے بانی سربراہ کی قابلیت، دیانت اورمحنت پنہاں ہوتی ہے۔ ایک متحرک، قابل، محنتی اور کام جاننے والا سربراہ ہی اپنی پوری ٹیم کو متحرک کرکے اور اس سے کام لے کر ادارے کی ہر سطح پر بہترین نمائندگی کرکے اسے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرواسکتا ہے، لیکن اگر ادارے کا سربراہ ہی کام نہ جانتا ہو تو اس کے نیچے جتنی مرضی قابل، محنتی ٹیم ہو وہ ادارے کوکامیابی نہیں دلاسکتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومتِ پنجاب نے اپنے دورِ حکومت میں ہمیشہ میرٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل اور محنتی لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا ہے، اس بات کا اندازہ اداروں کی ترقی و کامیابی کا تجزیہ کرکے بخوبی لگایا جاسکتا ہے،بہرحال بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ موجود رہتی ہے، لیکن پنجاب حکومت کا فوکس سب کے سامنے ہے۔ سیاسی اپوزیشن جماعتیں تو ہمیشہ حکومتِ وقت کے کاموں میں خامیاں ڈھونڈ کر نمبر گیم کی کوشش میں رہتی ہیں، بہت کم ایسا ہونا ہے کہ اپوزیشن حکومتِ وقت کے کسی کام و نمائندے کی اس کے دورحکومت میں ہی تعریف کرے، لیکن اس بات کا سہرا صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو جاتا ہے جن کی بہترین انتظامی و متحرک خدمات کا اپوزیشن نے ان کے دورِ حکومت میں ہی اعتراف کیا ہے۔ تنقید برائے تنقید اپنی جگہ، لیکن خادم اعلیٰ کے صوبہ پنجاب میں تیزی سے مکمل ہوتے ہوئے ترقیاتی پروگرام اپنی مثال آپ ہیں ،جن کا آئندہ آنے والی نسلوں کو فائدہ ہو گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے جہاں صوبے بھر سے عوام کے لئے ترقیاتی، فلاحی، تعلیمی، صحت کے بے شمار پراجیکٹ شروع کئے ہیں، وہیں مُلک پاکستان کی آدھی آبادی،یعنی عورتوں کے حقوق کے لئے بھی لازوال اقدامات کئے ہیں۔2012ء میں عورتوں کے حقوق کے لئے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام اور پھر 2014ء میں پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین ادارے کا قیام اپنی مثال آپ ہیں۔

محترمہ حمیدہ وحید الدین صوبائی وزیر برائے ترقی خواتین پنجاب کی تعیناتی بھی خادم اعلیٰ کی دوراندیش اور چھوٹے ضلعوں پر توجہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ تو اعلیٰ سرکاری قابل خاتون افسروں کے زیر سایہ چلایا جارہا ہے، لیکن پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین کی سربراہی ایک متحرک، قابل، پڑھی لکھی سول سوسائٹی تنظیم میں عرصہ دراز سے خدمات انجام دینے والی خاتون فوزیہ وقار کے سپرد ہوئی۔ نیا ادارہ جس کے لئے کرائے کی بلڈنگ کی تلاش،، تھوڑا سافرنیچر، چھوٹا سا عملہ ایک نائب قاصد،ایک چوکیدار، ایک کمپیوٹر آپریٹر، ایک سیکشن آفیسر، ایک اکاؤنٹنٹ،ایک ڈرائیور اور ایک سیکرٹری پر مشتمل چیئرپرسن فوزیہ وقار نے 09 مارچ 2014ء کو بطور پہلی سربراہ پنجاب کمیشن کام شروع کیا۔ ادارے کے ہر کام سے متعلق سرکاری خط و کتابت، فائلوں کا اوپر نیچے جانا تمام پیچیدگیوں و طریقہ کار کو احسن طریقے سے عبور کرتے ہوئے چیئرپرسن نے نئے نویلے ادارے کو پہلے سال ہی میں اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا۔ چیئرپرسن فوزیہ وقار نے اپنے سول سوسائٹی و فنڈنگ اداروں سے بہترین تعلقات کی بناء پر پنجاب کمیشن حکومتی ادارے کا ان کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ قائم کیا۔ اگست 2014ء میں صوبہ پنجاب کی پہلی ویمن ہیلپ لائن قائم کرکے ایک ایسا کارنامہ انجام دے دیا جو صوبے بھر کی خواتین کے لئے ایک مسیحا کے طور پر آج بھی دن رات 24 گھنٹے خواتین ہیلپ لائن 1043 کام کررہی ہے، جس میں خواتین گھر بیٹھے ایک فون کال کے ذریعے اپنے مسائل سے متعلق خواتین سے ہی معلومات و راہنمائی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حقوق کی تلافی پر شکایت درج کروا کر متعلقہ حکومتی اداروں سے دادرسی بھی حاصل کر رہی ہیں۔ چیئرپرسن فوزیہ وقار ہیلپ لائن پر درج ہونے والی تمام شکایات،موصول ہونے والے خط،درخواست یا اخبار میڈیا کے ذریعے منظرعام پر آنے والی عورت پر ظلم و ستم کی خبرسے متعلق خود سے ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ سرکاری حکام کوبذریعہ خط دادرسی کے لئے لکھتی ہیں اور متعلقہ حکام سے رپورٹ بھی طلب کرتی ہیں۔


چیئرپرسن فوزیہ وقار نے پنجاب کمیشن کے ممبرزوڈویژنل فوکل پرسنز کے لئے صوبے بھر سے محنتی، قابل اور اہل ممبران کو میرٹ پر تعینات کیا۔ فوزیہ وقار نے صوبے بھر کے اضلاع کے دورے کئے، ڈسٹرکٹ جیلوں کے وزٹ کئے اور عورتوں کی حالت زار سے متعلق مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتری کے اقدامات تجویز کئے۔ ضمنی انتخابات اور لوکل گورنمنٹ بلدیاتی انتخابات کی مانیٹرنگ کے بعد رپورٹ مرتب کرکے الیکشن کمشنر پنجاب کوبھجوائی، جیلوں ،دارلامان عورتوں کے وراثتی حقوق سے متعلق رپورٹس مرتب کیں ۔فوزیہ وقار نے دوسرے سرکاری، نیم سرکاری اداروں سے مل کر عورتوں کے حقوق کے لئے ایک مضبوط لائحہ عمل مرتب کیا، اربن یونٹ سے مل کر صوبے بھر کی خواتین سے متعلق اعدادوشمار اکٹھے کر کے میں پہلی مرتبہ صنفی اعدادوشمار کی صوبہ پنجاب کی رپورٹ 2015ء تیار کی اورشائع کی جس کا وزیراعلیٰ پنجاب نے افتتاح کیا اور کمیشن کی خدمات کو سراہا۔ کمیشن نے ماضی کی روایات برقرار رکھتے ہوئے اگلے سال 2016ء کی بھی صنفی اعداد و شمار کی رپورٹ تیار کی جس کا دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہی افتتاح کیا۔ چیئرپرسن فوزیہ وقار نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی ، پنجاب پولیس ڈیپارٹمنٹ، صوبائی و ضلعی عدلیہ کے جوڈیشل افسران سے میٹنگز، ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کرکے عورتوں کے مسائل کو اُجاگر کیا اور ان کے مسائل کے حل میں درپیش مشکلات و پیچیدہ طریقہ کار کو آسان بنانے کے لئے تجاویزپیش کیں۔


صوبہ پنجاب میں عورتوں کے حقوق کے لئے نئی قانون سازی اور موجودہ قوانین میں مثبت ترامیم کے لئے فوزیہ وقار نے پنجاب کمیشن کے آفس میں بے شمار مشاورتی میٹنگز کا انعقاد کیا، جس میں پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ، لاء ڈیپارٹمنٹ، پراسیکیویشن ڈیپارٹمنٹ، میڈیکولیگل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، سوشل ویلفیئر، پولیس ڈیپارٹمنٹس وغیرہ شریک ہوئے اور باہمی مشاورت کے ذریعے سفارشات مرتب ہوئیں۔ فیملی لا ز میں ترامیم، پراپرٹی لا ز میں ترامیم، غیرت کے نام پر قتل و دیگر جرائم کی روک تھام کی بابت تعزیراتِ پاکستان و فوجداری قوانین میں ترامیم میں پنجاب کمیشن کی سفارشات کا قابل ذکر کردار ہے۔ یہ چیئرپرسن پنجاب کمیشن فوزیہ وقار کی ہی انتھک محنت و جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ حکومت پنجاب نے پنجاب کمیشن کو مزید چار نئے پراجیکٹ شروع کرنے کا ذمہ دار بنا دیا، جس میں ہر سال پنجاب صنفی رپورٹ کی اشاعت، ویمن ان لیڈرشپ، تشدد سے متاثرہ خواتین کے لئے رہائش، ٹریننگ و دادرسی کا سہارا اور صوبے بھر کے 39000 سے زائد نکاح رجسٹرار/ نکاح خواں کے ٹریننگ پراجیکٹ پیش پیش ہیں۔ چیئرپرسن فوزیہ وقار نے ان چاروں پراجیکٹس کو کامیابی سے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے جو عورتوں کے حقوق کی ترقی و پاسداری کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔چیئرپرسن پنجاب کمیشن فوزیہ وقار کی متحرک ٹیم میں سیکرٹری محمد عثمان، فریال تبسم، شبیرحسین، نشتر لودھی،چودھری وحید، مہرین صدیقی، عالیہ خان، زینب جعفری، احسن رشید اورعمران بلوچ ، عمران علی،محمد کاشف، سجاد تعریف کے مستحق ہیں۔ پنجاب کمیشن برائے حقوق خواتین، حکومت پنجاب کا عورتوں کے لئے ایک بہترین ادارہ ہے جس کی سربراہ فوزیہ وقار ایک قابل، محنتی، متحرک خاتون ہیں، جن کی محنت، لگن و قابلیت سے حکومت پنجاب کا یہ ادارہ صوبے بھر کی خواتین کے لئے بہترین خدمات انجام دے کر حکومت پنجاب کی عورتوں کے حقوق و تحفظ سے متعلق پالیسیوں کی بہترین نمائندگی کر رہا ہے۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کری