تازہ ترین

ای پیپر

قائد اعظمؒ کا سب سے بڑا کارنامہ

بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر کا فون آیا کہ لاہور میں ہم ’’ قرار داد لاہور ۔۔۔حقیقت اور داستان طرازی‘‘ کے عنوان پر ایک مجلس مذاکرہ کا اہتمام کررہے ہیں، جس میں میری شمولیت بھی ضروری ہے۔ اس فون کے بعد ان کی طرف سے بار بار یاد دہانی اور اصرار میرے لاہور جانے اور اس تقریب میں شمولیت کا باعث ہوا۔ تقریب میں میرے علاوہ ڈاکٹر صفدر محمود، ایس ایم ظفر، سجاد میر، محمد سعید اظہر اور خود حامد سعید اختر نے بھی قرار داد لاہور کے اصل حقائق کے حوالے سے گفتگو کی۔ تقریب میں روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر ضیاء شاہد، سابق آئی جی پولیس محمد الطاف قمر اور پروفیسر ہمایوں احسان بھی آخر تک موجود رہے، لیکن وقت کم ہونے کے باعث ہم ان کے گراں قدر خیالات سننے سے محروم رہے۔ اگریہ احباب قرار داد لاہور کے حوالے سے گفتگو کرتے تو مجھے یقین ہے کہ ان کی تقاریر سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا۔۔۔قرار داد لاہور سے متعلق پاکستان میں سب سے پہلے یہ شوشہ چھوڑنے اور شرانگیز بات پھیلانے والے صوبہ سرحد کے ایک سیاست دان عبدالولی خان تھے کہ قرار داد لاہور ایک انگریز وائسرائے لارڈ لنلتھگو نے اپنی کابینہ کے ایک رکن سر ظفر اللہ خان سے لکھوائی تھی اور یہی قرار داد آل انڈیا مسلم لیگ نے مارچ 1940ء میں اپنے لاہور کے سالانہ اجلاس میں منظور کی تھی۔ یہ بے بنیاد، جھوٹی اور فتنہ انگیز بات پھیلانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ قائد اعظمؒ کی عظمت کردار پر حملہ کیا جائے۔ قیام پاکستان درحقیقت قائد اعظمؒ کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ یہ کہنا انتہا درجے کی بیہودگی اور قائد اعظمؒ دشمنی ہے کہ پاکستان کا معرض وجود میں آنا، قائد اعظمؒ کا تاریخ ساز کارنامہ نہیں، بلکہ انڈیا کو تقسیم کرنے والے اور قیام پاکستان کی راہ ہموار کرنے والے خود انگریز حکمران تھے۔ پچھلے ماہ ایک نام نہاد محقق ڈاکٹر مبارک علی نے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا کہ پاکستان کو بنانے والے انگریز ہیں، کیونکہ انڈیا کے ایک وائسرائے نے سرظفر اللہ خان سے قرار داد لاہور لکھوا کر قائد اعظمؒ کے سپرد کردی تھی۔ ڈاکٹر مبارک علی تاریخ سے اتنے لاعلم اور بے خبر ہیں کہ ولی خان نے جب یہ بے بنیاد خبر پھیلائی تھی کہ انگریز وائسرائے لارڈ لنلتھگو نے سر ظفر خان سے قرار داد لاہور تحریر کروانے کے بعد ہندوستان کی تقسیم کا یہ فارمولا قائد اعظمؒ کے حوالے کیا تھا، تو دسمبر 1981ء میں سر ظفر اللہ خان نے انتہائی پرزور انداز میں ولی خان کے اس جھوٹ کی تردید کردی تھی۔
روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے صفحہ اول پر 1981ء 25دسمبر میں یوم قائد اعظمؒ کے موقع پر میں نے خود سر ظفر اللہ خان کا یہ بیان پڑھا تھا کہ انہوں نے کبھی تقسیم ہند کا کوئی فارمولہ لارڈ لنلتھگو کو لکھ کر نہیں دیا تھا اور اس بات کے بارے میں تو سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ ان کی تحریر کردہ کوئی تجویز قائد اعظمؒ کے حوالے کردی گئی ہو اور وہ اس کو قبول کرلیتے۔ ولی خان نے جس شخص کو قرار داد لاہور کا اصل لکھنے والا قرار دیا تھا، جب خود اس نے ہی ولی خان کے جھوٹ کی قلعی کھول دی اور ولی خان کی غلط بیانی دسمبر 1981ء ہی میں سب پر عیاں ہوگئی، تو ڈاکٹر مبارک علی کس بنیاد پر دوبارہ سر ظفر اللہ خان کو قرار داد لاہور کا اصل لکھنے والا قرار دے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود اور مجیب الرحمن شامی کے مدلل جوابات کے بعد اگرچہ ڈاکٹر مبارک علی نے اب اپنی زبان بند کرلی ہے، لیکن بعض بدنیت حضرات یہ فتنہ انگیزی پھر سے شروع کردیتے ہیں، کیونکہ ان کا مقصد صرف تاریخ کو مسخ کرکے قائد اعظمؒ کے کردار پر کیچڑ اچھالنا ہے۔ ان احمقوں کو شاید یہ نہیں معلوم کہ چاند پر خاک ڈالنے سے چاند کی روشنی کم نہیں ہوسکتی ۔ جھوٹ جتنا بھی تو اترسے بولا جائے، وہ جھوٹ ہی رہتا ہے۔ قائد اعظمؒ کی عظمت اور تحریک پاکستان کی صداقتوں کے خلاف مخالفین اپنی بھرپور بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، جتنا مرضی ہو جھوٹ بول لیں، وہ ہماری نوجوان نسل کو تحریک پاکستان کے حوالے سے گمراہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ قائد اعظمؒ کی عظیم المرتبت شخصیت اور بے مثال قائدانہ صلاحیتوں کے معترف توان کے دشمن بھی تھے۔ قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کی لیڈر شپ اور انگریز حکمرانوں دونوں کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ تم مسلمانوں میں پیدا ہوجانے والی آزادی کی روح کو فنا نہیں کرسکتے اور تم دونوں مل کر بھی اس اسلامی تہذیب کو مٹا نہیں سکتے جو ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ قائد اعظمؒ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جب تک ہمارا نورِ ایمان زندہ ہے، اس وقت تک دشمن ہمیں مغلوب نہیں کرسکتے۔ قائد اعظمؒ نے انگریزوں پر یہ بھی واضح کردیا تھا کہ اگرچہ مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن اگر ہم مسلمان ارادہ کرلیں تو ہم کانگریس سے سوگنا زیادہ انگریز حکومت کو عذاب میں مبتلا کرسکتے ہیں۔


قائد اعظمؒ نے دو ٹوک انداز میں مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے، تمام سیاسی قوتوں کو یہ بتادیا تھا کہ برطانیہ اپنی حکومت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ہندو انگریزوں کے بعد ہم پر اپنی حکمرانی مسلط کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن ہم انگریزوں اور ہندوؤں، دونوں طاقتوں سے آزادی چھین کرلیں گے۔ قائد اعظمؒ نے اس دور کی تمام سیاسی قوتوں کو یہ بھی بتادیا کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہمارے قیام پاکستان کے مطالبہ کا تعلق کسی قسم کی سودے بازی سے ہے۔ آزادی ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور حصول آزادی سے کم ہم کسی بات پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کا حصول ہمارے لئے صرف قائد اعظمؒ کے آہنی عزم وارادے اور مضبوط سیرت و کردار کی وجہ سے ممکن ہوا۔ قائد اعظمؒ کے تدبر، فراست اور استقامت نے ہی ہمیں آزادی کی منزل مراد تک پہنچایا۔ خود جناح سے قائد اعظمؒ کے مقام و مرتبہ پر فائز ہونے کا سبب بھی قائد اعظمؒ کی یہ خوبی تھی کہ انہیں اپنے عظیم مقصد، یعنی قیام پاکستان پر غیر متزلزل ایمان تھا اور ان ہی کے یقین محکم اور مسلسل جدوجہد کے باعث ایک شکست خوردہ قوم میں زندگی کی نئی لہر پیدا ہوگئی اور مسلمانانِ برصغیر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کے قیام میں کامیاب ہوگئے۔

اب آتے ہیں، اس نکتے اور الزام تراشی کی طرف جو یہ بار بار کہا جاتا ہے کہ پاکستان بنانے والے تو اصل میں انگریز تھے۔ سب سے پہلے اس بے بنیاد الزام کی تردید میں مجھے سیکرٹری آف سٹیٹ لارڈزٹیلنیڈ کی تقریر کا وہ اقتباس پیش کرنا ہے، جو انہوں نے قرار داد لاہور کی منظوری کے بعد برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’قرار داد لاہور مسئلے کا ایک مایو سانہ حل ہے۔ اس تجویز کو قبول کرلینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ان تمام انگریز وہندوستانی حضرات کی کوششوں کی شکست کو تسلیم کرلیا جائے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کو متحد رہنا چاہئے اور اسے متحد رکھا جاسکتا ہے‘‘۔لبرل پارٹی کے لارڈ سیموئیل نے 14اگست 1940ء کو ہاؤس آف لارڈز میں تقریر کرتے ہوئے قیام پاکستان کے منصوبے پر سخت تنقید کی اور پھر ایک اخبار میں ان کا ایک مضمون بھی شائع ہوا، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’’ہندوستان کا جغرافیہ اور تاریخ دونوں میں سے کوئی بھی پاکستان کے منصوبے کی حمایت نہیں کرتا‘‘۔


17فروری1944ء کو اسمبلی اور کونسل آف سٹیٹ نے ارکان کے سامنے انگریز وائسرائے لارڈ ویول نے جو تقریر کی تھی، اس سے بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ برطانوی حکمران ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کے یکسر خلاف تھے۔ لارڈ ویول نے کہا تھا کہ ’’ہندوستان کی تقسیم اور غیر تقسیم کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ دفاع، امور خارجہ اور بہت سارے اندرونی وبیرونی اقتصادی معاملات کے حوالے سے ہندوستان ایک یونٹ ہے اور اس کی جغرافیائی حالت بدلی نہیں جاسکتی۔ تم (ایک ہندوستان) میں جس طرح کا چاہو آئین بنالو، لیکن تم جغرافیائی حالت تبدیل نہیں کرسکتے‘‘۔۔۔جس وقت پاکستان قائم ہوا۔ اس دور میں برطانیہ کے وزیراعظم مسٹر ایٹلی نے اپنی کتاب’’ ایک وزیر اعظم کو یاد ہے‘‘۔ کے صفحہ 211پر لکھا ہے کہ ’’ہمیں بدقسمتی سے جس بات پر اپنی مرضی کے خلاف راضی ہونا پڑا، وہ ہندوستان کی تقسیم ہے۔ ہم نے مسلمانوں کو ہر طرح کے تحفظات کا یقین دلایا، لیکن وہ آزاد اسلامی مملکت پاکستان کے مطالبے پرجم چکے تھے۔ ہماری ترجیح متحدہ ہندوستان تھی، مگر اپنی انتہائی کوششوں کے باوجود ہم اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے‘‘۔۔۔ اگست 1945ء کے پہلے ہفتے متحدہ ہندوستان کے تمام صوبائی گورنرروں کے اجلاس وائسرائے لارڈ ویول کی صدارت میں مسلسل منعقد ہوتے رہے، جس میں متفقہ طور پر تصور پاکستان کو ایک ناقابل عمل منصوبہ قرار دیا گیا۔ لارڈ ویول نے متحدہ ہندوستان کے تمام انگریز گورنروں کی مشترکہ رائے اور تجزے سے برطانیہ کے لئے سیکرٹری آف سٹیٹ مسٹر پیتھک لارنس کو آگاہ بھی کردیا۔ یہ تمام ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ انگریز ہندوستان کی تقسیم کے قطعی خلاف تھے اور پاکستان کا قیام قائد اعظمؒ کا عظیم کارنامہ ہے۔۔۔کالم کے آخر میں یہ اعتراف کرنا ضروری ہے کہ میں نے اپنے اس کالم کو لکھنے کے لئے اپنے استاد گرامی پروفیسر وارث میر مرحوم کے تین مضامین سے مددلی ہے، جو انہوں نے ستمبر اور اکتوبر 1982ء میں تحریر کئے تھے۔ ولی خان کو خاموش کرانے والا جیسا جواب وارث میر مرحوم نے دیا تھا، ایسا مدلل جواب شاید ہی کسی اور دانشور نے دیا ہو۔ ہماری خوش بختی ہے کہ ہمارے استاد وارث میر نے جو شمع جلائی تھی، اس سے ہم آج بھی روشنی حاصل کررہے ہیں۔ وارث میر کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے 30سال کا عرصہ گزر چکا، لیکن مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کی نظریاتی اور فکری سرحدوں کے دفاع کے لئے آج بھی موجود ہیں۔ قائد اعظمؒ سے وارث میر کا عشق ہمارے لئے آج بھی قابلِ رشک اور لائقِ تقلید ہے۔


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کری