تازہ ترین

ای پیپر

روہنگیا مسلمانوں کا قتل، دنیا کی بے حسی

برما کے روہنگیا مسلمانوں کی داستان بھی تہذیبوں کے تصادم سے جنم لینے والی ان داستانوں میں سے ایک ہے جن میں انسانیت پیچھے رہ جاتی ہے اور مذہب و عقائد آگے آ جاتے ہیں آج کل برما میں مسلمانوں پر ظلم کی جو وحشیانہ خبریں اور تصویریں آ رہی ہیں انہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیا انسان اس قدر بھی درندہ صفت ہو سکتا ہے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اس بربریت میں برما کی ریاست ملوث ہے اور برمی فوج یہ سارے عمل کو کہیں سپورٹ کر رہی ہے اور کہیں خود جاری رکھے ہوئے ہے۔ افسوس ناک حد تک عالمی برادری نے اس وحشت پر چپ سادھ رکھی ہے، اقوام متحدہ خاموش ہے اور بڑی طاقتوں میں سے کسی ایک نے بھی اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ دنیا اس وقت مسلم اور غیر مسلم میں بٹ کر رہ گئی ہے۔

دنیا کے کسی کونے میں غیر مسلموں پر کڑا وقت آئے تو پورا مغرب اور امریکہ اس کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے مگر مسلمانوں پر چاہے قیامت ٹوٹ پڑے ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی خود پاکستان کی خاموشی پر لوگ حیرت زدہ ہیں کہ ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے اس نے اقوام متحدہ کا اجلاس بلانے کی درخواست کیوں نہیں دی اور میانمار (برما) کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج کیوں نہیں ریکارڈ کرایا۔ صرف ہلکی پھلکی مذمت کرنے سے تو بات نہیں بنے گی، پاکستانی عوام میں سوشل میڈیا پر جاری تصاویر اور ویڈیو کلپ کی وجہ سے سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے، پاکستانی حکومت کو ان کے جذبات کی ترجمانی ضرور کرنی چاہئے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان چین کی وجہ سے برما کے خلاف احتجاج نہیں کر رہا، کیونکہ چین برما کی مکمل حمایت کرتا ہے، بدھ مذہب کی وجہ سے بھی دونوں میں مضبوط تعلق ہے، پھر چین کی سب سے بڑی سرحد برما کے ساتھ لگتی ہے اور برما چینی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے چین اپنی سرحدی سکیورٹی کے لئے بھی برما سے دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے اس لئے برما کے خلاف کوئی بھی سخت قدم شاید چین کو پسند نہ آئے۔


برما کے روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ بھی کشمیریوں اور فلسطینیوں سے تقریباً ملتی جلتی ہے۔ ان پر آج جو ظلم ہو رہا ہے وہ کوئی آج کی بات نہیں بلکہ وہ بدھ حکومتوں اور دہشت گردوں کے ہاتھ سے ہزاروں جانیں گنوا چکے ہیں تاریخ پر نظر ڈالیں تو پہلی بار روہنگیا مسلمان 14 سو عیسوی میں برما کے صوبے اراکان میں آباد ہوئے۔ روایت ہے کہ اس وقت کے بدھست بادشاہ من سامن (Min saw mun)نے مسلمانوں کو خوش آمدید کہا، ان میں سے کچھ کو دربار میں مشیر رکھا اور باقیوں کو عدالتوں کا جج بنا دیا۔ گویا اس وقت مسلمانوں کی پوزیشن بہت اچھی تھی، بعد میں آنے والے بدھ بادشاہوں نے مسلمانوں سے یہ سلوک جاری رکھا اور اراکان کو مسلم صوبہ قرار دے دیا۔ یہ تشخص ملنے کے بعد جہاں مسلمانوں کو خوشی ہوئی، وہیں انتہا پسند بدھ مت والے شدید نفرت کا اظہار کرنے لگے اس وقت صوبہ اراکان کا مغربی بارڈر برما سے ملتا تھا اور دوسری جانب بنگال سے۔ بنگال کے راستے روہنگیا مسلمانوں کی آمد صوبہ اراکان میں جاری رہی اور بدھ بادشاہ اسے ایک مسلم صوبہ قرار دے کر اپنی حکمرانی کرتے رہے، تاوقتیکہ 1785ء میں برما کی فوج نے اپنے طور پر فیصلے کے تحت اس پر بڑا حملہ کر دیا اور صوبے کو فتح کر کے اس پر بدھ حکمران بٹھا دیا۔ اس وقت جتنے مسلمان تھے یا تو انہیں قتل کر دیا یا پھر کشتیوں میں بھر کر کھلے سمندر میں چھوڑ دیا۔ تقریباً 3000 کے قریب مسلمان جان بچا کر بنگال پہنچنے میں کامیاب ہوئے، بنگال اس وقت برطانیہ کے کنٹرول میں تھا۔ جب برما میں بھی برٹش راج قائم ہوا تو روہنگیا مسلمانوں کو دوبارہ صوبے اراکان میں آباد ہونے کی اجازت مل گئی اور وہ بنگال سے بڑی تعداد میں آ کر برما کے صوبے میں قیام پذیر ہو گئے اور ایک لحاظ سے مسلمانوں کا اچھا وقت شروع ہو گیا انہیں روز گار ملنے لگا اور برطانوی حکومت نے تحفظ بھی فراہم کیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی روہنگیا مسلمان برطانوی راج کو یاد کرتے ہیں اور ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے ہیں کہ کاش پھر برطانیہ اس علاقے کو اپنے قبضے میں لے تاکہ وہ امن سے زندگی گزار سکیں۔


جنگ عظیم دوم ختم ہوئی تو صوبہ اراکان کے مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں مسلم ریاست کا درجہ دیا جائے۔ بس یہی وہ مطالبہ تھا جس نے مسلمانوں کے لئے یہ زمین تنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ برما کی ملٹری جنتا نے یہاں ظلم کے پہاڑ توڑے۔ ہزاروں لوگوں کو مار دیا اور ہزاروں کو ملک بدر کر دیا۔ اس دن سے لے کر آج تک روہنگیا مسلمان علیحدہ ریاست کا حق مانگنے کی پاداش میں نسل کشی کا شکار ہیں ستم ظریفی یہ ہے کہ سینکڑوں سال سے برما میں آباد ہونے کے باوجود انہیں برما کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا۔ حتی کہ انہیں مہاجرین کا اسٹیٹس بھی نہیں دیا گیا۔ بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ برما میں زبردستی گھس آنے والے، چینی ہیں،جنہیں یہاں سے ہر صورت جانا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہیں کوئی ہمسایہ ملک پناہ دینے کو تیار نہیں۔ برما کے صوبے اراکان کی سرحدیں بنگلہ دیش، ملائشیا اور انڈونیشیا سے ملتی ہیں۔ ملائشیا اور انڈونیشیا نے تو صاف انکار کر رکھا ہے کہ وہ کسی روہنگیا مسلمان کو پناہ نہیں دیں گے۔ رہ گیا بنگلہ دیش تو وہ پناہ دینے میں حیلے بہانوں سے کام لیتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی ہزاروں روہنگیا مسلمان کھلے سمندر یا اس کے کناروں پر پناہ کی تلاش میں زندگی کے دن گن رہے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر میں تو پھر بھی مزاحمتی تحریکیں چل رہی ہیں اور مجاہدین اپنی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں، روہنگیا مسلمان جنگجو نہیں، نہ ہی ان کے پاس اسلحہ ہے کہ وہ اپنا دفاع ہی کر سکیں سو ان کا بری طرح قتل عام ہو رہا ہے، لاشیں جلائی جا رہی ہیں، اعضاء کاٹے جا رہے ہیں، عورتوں اور بچوں کو وحشت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔


اقوام متحدہ کا چارٹر اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ہر ملک اپنے اقلیتی شہریوں کو تحفظ دے گا۔ برما کی آبادی ساڑھے ساتھ کروڑ ہے، جس میں صرف آٹھ لاکھ مسلمان ہیں۔ اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کرے، لیکن غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق خود برما کی فوج اس قتل عام میں ملوث ہے۔ ظاہر ہے وہ حکومت کی مرضی کے بغیر تو ایسا نہیں کر سکتی جہاں حکومت اپنے شہریوں کا قتل عام شروع کر دے وہاں اقوام متحدہ کو امن فورس کے ذریعے کاروروائی کا اختیار مل جاتا ہے مگر حیرت ہے کہ اتنے بڑے قتل عام کے باوجود اقوام متحدہ نے ابھی تک اس کا نوٹس نہیں لیا شاید اس لئے کہ امریکہ نے ’’آنکھیں‘‘ بند کر رکھی ہیں دہشت گردی کے خلاف دنیا کے کسی بھی حصے پر کارروائی کے دعویدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس طرف نہیں دیکھ رہے اور نہ ہی مغرب نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ دنیا میں تہذیبوں کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ اسلام مخالف سب اکٹھے ہیں اور انہوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو اپنی ہٹ لسٹ پر رکھا ہوا ہے۔ اگر برطانیہ میں مذہبی بدھوؤں کے ہاتھوں اسی طرح صیہونی یا عیسائی شہریوں کا قتل عام ہور ہا ہوتا تو اب تک سلامتی کونسل کا اجلاس ہو چکا ہوتا، امن فورس بھی وہاں پہنچ گئی ہوتی اور ذمہ داروں کو سزا بھی مل جاتی، مگر چونکہ تشدد کا نشانہ مسلمان ہیں، اس لئے سب لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں اور تو اور خود اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ یہ صورت حال بہت مایوس کن ہے اس کا مطلب ہے اب دنیا میں انسانی حقوق نام کی شے موجود نہیں رہی اب اس چیز کو اپنے مفاد اور تہذیب کی عینک لگا کر دیکھا جاتا ہے بس یہی وہ نکتہ ہے جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ایسا طرز عمل اختیار کرنے سے ہم دنیا میں امن لا سکتے ہیں، دہشت گردی ختم کر سکتے ہیں۔؟


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کری