تازہ ترین

ای پیپر

ڈاکٹر جاوید اقبال۔۔۔ فرزند اقبالؒ

 مفکر پاکستان شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال 5اکتوبر 1924ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

آپ نے ابتدائی تعلیمی مدارج طے کرنے کے بعد 1944ء میں گورنمنٹ کالج(یونیورسٹی) لاہور سے بی اے کیا، بعدازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی اور ایم اے فلاسفی کی ڈگریاں حاصل کیں۔1954ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے ’’برصغیر پاک و ہند میں اسلامی سیاسی فلسفے کا ارتقاء‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔

1956ء میں لنکن ان لندن سے بار ایٹ لاء کیا اس کے بعد آپ نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں وکالت کی۔ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ڈاکٹر جاوید اقبال کا تعارف صرف قانون دان‘ چیف جسٹس اور ڈرامہ نگار کا ہی نہیں بلکہ آپ تحریک پاکستان کے کارکن بھی تھے۔ جاوید منزل کے درودیوار آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے فکری محاذ پر تحریک پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دیں۔

آپ یہاں مختلف موضوعات پر ہم خیال دوستوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تحریک کے جلسے جلوسوں کے متعلق حکمت عملی تیار کرتے۔ آپ نے تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کے مختلف جلسوں میں شرکت کی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس منعقدہ 23مارچ 1940ء میں بھی شریک تھے۔

آپ نے 1946ء کے انتخابات میں پنجاب یونیورسٹی اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء کے ہمراہ گجرات اور منڈی بہاؤ الدین میں مسلم لیگی امیدواروں کے انتخابی حلقوں میں کام کیا۔ بطور خاص آپ نے سیالکوٹ میں چودھری جہاں خان بوسال کے حلقے میں کام کیا۔ والٹن کے مہاجر کیمپ میں امین ترین‘ قاسم رضوی‘ ظہور اختر کیانی‘ حامد محمود‘ میاں سلیم اور حمید المکی کے ہمراہ بھی کام کیا۔


قیامِ پاکستان کے بعد قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آپ وکالت کے پیشے سے منسلک ہوگئے اور وطن عزیز پاکستان کی خدمت کے لئے نہ صرف فکری اور نظریاتی بلکہ عملی طور پر اپنے آپ کو وقف کردیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک ماہر قانون دان کے طور پر اپنا سکہ منوایا۔ 1971ء میں لاہور ہائیکورٹ کے جج اور 1982ء میں چیف جسٹس کے اعلیٰ منصب پر فائز رہے۔ 1986ء سے 1989ء تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج رہے بعدازاں آپ سینٹ آف پاکستان کے رکن بھی رہے۔ اس دوران ہماری سیاسی و ملی تاریخ کے سینکڑوں ایسے یادگار واقعات موجود ہیں جن میں ڈاکٹر جاوید اقبال نے ثابت کردیا کہ وہ سیاستدان بھی تھے اور قانون دان بھی، سماجی دانشور اور فلسفی بھی تھے اور دردِ دل رکھنے والے مخلص اور غیور پاکستانی بھی۔

پاکستان کے متعدد مقتدر اداروں اور جامعات کے کلیدی عہدوں پر فائض رہنے کے علاوہ آپ کو مختلف بین الاقوامی اعزازت بھی دےئے گئے۔ 1989ء میں اردن کی رائل اکیڈمی نے آپ کو تاحیات رکنیت دی۔ 1990ء میں ترکی کی سجلوق یونیورسٹی نے اسلامی ادب اور سائنس کے ڈاکٹریٹ ڈگری دی۔اسلامی فکر کے موضوع پر آپ کے متعدد مقالات انگریزی اور اُردو اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔

آپ نے اس موضوع پر بون‘ پیرس‘ استنبول‘ سپین‘ سڈنی‘ عمان ، میکسیکو اور بے شمار دیگر ممالک میں لیکچر بھی دےئے۔ 1960ء 1962ء اور 1977ء میں آپ نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی امریکہ اور کینیڈا کی مختلف یونیورسٹیوں میں پاکستان کے بارے میں لیکچر دےئے آپ نے دنیا کے تمام اہم ممالک کی سیاحت بھی کی۔ آپ کی اہم تصنیفات مئے لالہ فام‘ نظرےۂ پاکستان‘ میراث قائداعظمؒ افکار پریشان‘ حیات اقبال‘ زندہ رود اور گریباں چاک شامل ہیں۔ 1931ء میں جب علامہ محمد اقبالؒ گول میز کانفرنس میں شمولیت کے لئے لندن گئے تو ڈاکٹر جاوید اقبال جن کی اس وقت عمر سات سال تھی انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کو ایک خط لکھا اور یہ فرمائش کی کہ جب وہ وطن واپس آئیں، تو ان کے لئے ایک گراموفون لیتے آئے اس کے جواب میں علامہ محمد اقبالؒ نے ایک نظم لکھ کر بھیجی :
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
دراصل یہ صرف جاوید اقبال کے لئے نہیں بلکہ پوری نئی نسل کے لئے علامہ محمد اقبالؒ کا ایک پیغام تھا۔ علامہ محمد اقبالؒ آرزو مند تھے کہ ان کا فرزندِ ارجمند خودی کو زادِ راہ بنا کر غریبی میں نام پیدا کرے‘ ان کے ثمر سے مئے لالہ فام کشید کرے۔ خدائے بزرگ و برتر نے ان کی آرزوؤں کو عملی صورت عطا فرمادی اور ڈاکٹر جاوید اقبال کو اس قدر فراست سے نوازا کہ ان سے ملاقات کے بعد لوگ خود کو علمی لحاظ سے پہلے کی نسبت زیادہ بلند مقام پر محسوس کرتے تھے۔

فرزندِ اقبالؒ ہونے کی تکریم اپنی جگہ‘ انہوں نے مسلسل محنت سے دنیائے علم و تحقیق میں خود اپنے لئے بھی ایک منفرد مقام حاصل کرلیا تھا۔ ان کی سوچ روایت اور جدت کا حسین امتزاج اور فکر و عمل کے نئے دریچے وا کرتی تھی۔ مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق افکارِ اقبالؒ کے دقیق پہلوؤں کی تشریح پر انہیں قدرتِ کاملہ حاصل تھی۔


انہیں اس بات پر بڑا ناز تھا کہ ان کے عظیم المرتبت والد نے برصغیر میں مسلمانوں کیلئے ایک الگ مملکت کے قیام کا تصور پیش کیا اور اس کے حصول کی خاطر میرِ کارواں قائداعظم محمد علی جناحؒ کا انتخاب بھی کیا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال اس مملکت خداداد کی نظریاتی اساس کے بہت بڑے علمبردار تھے۔ اپنی کتاب ’’آئیڈیالوجی آف پاکستان‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں: ’’یہ بات واضح ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اس کی بقاء تب ہی ممکن ہے اگر اس کی نظریاتی سالمیت کو برقرار رکھا جائے۔

یہ نظریہ ہی ہمارے تصور قومیت کی بنیاد ہے۔ یہ نظرےۂ ہماری قومی‘ سیاسی‘ اقتصادی‘ ثقافتی‘ مذہبی واخلاقی اقدار اور اصولوں نیز اُن کے اظہار کا سرچشمہ ہے۔‘‘ ڈاکٹر جاوید اقبال کو بجا طور پر احساس تھا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستانی قوم کو نظریاتی انحطاط کا شکار بنایا جارہا ہے اور کچھ مفاد پرست عناصر پاکستان کے اساسی نظریات کو اپنی پسندوناپسند کے سانچوں میں ڈھالنے کی جسارت کررہے ہیں‘ لہٰذا وہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں نظرےۂ پاکستان کو ریاست پاکستان کی بقاء کا ضامن قرار دیتے تھے‘ علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے افکار و نظریات کی روشنی میں پاکستان کو ایک جدید اسلامی‘ جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے لئے جدوجہد کی ترغیب دیتے تھے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے تحریک پاکستان میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔

جمہوریت کی بحالی کی خاطر مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے جب فوجی آمر جنرل محمد ایوب خان کے مقابل صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو انہوں ں نے مادرِ ملت کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ہمراہ وطن عزیز کے مختلف علاقوں کا طویل سفر کیا۔ڈاکٹر جاوید اقبال سولہ برس تک تریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چےئرمین کے منصب پر فائز رہے اور اس دوران تحریک پاکستان کے کارکنوں کی فلاح و بہبود کیلئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے انتہائی معزز اور متحرک رکن کی حیثیت سے بھی وہ مملکت خداداد کے اساسی نظریہ کی ترویج کیلئے کوشاں رہے۔ ان کے عزیز دوست محترم ڈاکٹر مجید نظامی انہیں ’’مرشد زادہ‘‘ قرار دیتے تھے اور ان کی بے انتہا تعظیم کرتے تھے۔ -3اکتوبر 2015ء کو ڈاکٹر جاوید اقبال دنیا سے رخصت ہوئے۔ دعا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر ان کے درجات کو بلند تر فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فکرِ اقبالؒ کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)


ڈیجیٹل فارمیٹ میں اس خبر کو پڑھنے کے لئے یہاں کلک کری