فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 293

فلمی الف لیلیٰ


مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے ہوئے اب سالہا سال ہونے کو آئے ہیں۔ مگر جب وہ مشرقی پاکستان تھا اس وقت بھی ہم تین چار بار وہاں آگئے تھے۔ مشرقی پاکستان سے اوّل تو ہمیں جذباتی لگاﺅ تھا۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں سے پاکستان کی تحریک کو سب سے زیادہ تائید و حمایت حاصل ہوئی۔ متحدہ ہندوستان میں پاکستان کی تحریک کا زیادہ زور، عوامی پیمانے پر، ان علاقوں میں تھا جنہیں کسی صورت بھی پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ یوپی، دہلی، بمبئی، وسط ہند، بہار، حیدرآباد یہ وہ علاقے تھے جہاں کے مسلمانوں نے پاکستان کی تحریک کے آغاز ہی سے اپنی خدمات اور وفاداریاں قائداعظمؒ کو سونپ دی تھیں۔
یہ مسلمان اقلیت کے علاقے تھے۔ یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ جن علاقوں میں پاکستان قائم ہواتھا وہاں صورتِ حال قدرے مختلف تھی۔ پنجاب سب سے بڑا اور مسلمان اکثریت کا صوبہ تھا۔ یہاں کے مسلمانوں میں مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کا چرچا بھی بہت تھا مگر یہاں مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی۔ اس صوبے پر ہمیشہ جاگیردار اور وڈیرے سایہ فگن رہے ہیں۔ یہ مفاد پرست لوگ ہیں۔ ان پر وہی مِثل صادق آتی ہے کہ جہاں دیکھی توّا پرات، وہیں گزاری ساری رات، جدھر فائدہ دیکھا، بے پیندے کے لوٹے کے مانند بس اس طرف لُڑھک گئے۔ عام مسلمان تو مسلم لیگ اور قائداعظمؒ کے ساتھ تھے مگر حکمراں طبقہ انگریزوں اور کانگریس کے اشاروں پر چلتا تھا۔ سرخضر حیات ٹوانہ، سرسکندر حیات جیسے لوگ یونینسٹ پارٹی بناکر بیٹھے ہوئے تھے اور تحریک پاکستان کی راہ میں ہر طرح روڑے اٹکا رہے تھے۔
سندھ میں مسلم لیگ کا زور تھا مگر وہاں بھی ہندوﺅں اور کانگریس کا اثر تھا۔ یہ صوبہ ہمیشہ سے پاکستان کا حامی رہا ہے مگر یہاں بھی مسلم لیگ کو بہت زیادہ اکثریت کے ساتھ حمایت حاصل نہ تھی۔ بلوچستان میں صورتِ حال ”نیمے ذروں نیمے برواں“ والی تھی۔ صوبہ سرحد میں خان عبدالغفار خان سرحدی گاندھی بنے بیٹھے تھے۔ یہ وہ صوبہ ہے جہاں یہ معلوم کرنے کے لیے ریفرنڈم کرانے کی نوبت آگئی تھی کہ وہاں کے لوگ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا انڈیا کے ساتھ۔ اس سے وہاں کانگریس کے اثر و رسوخ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سرحدی عوام کی اکثریت نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں رائے دیکر ہمیشہ کےلئے یہ جھگڑا نمٹادیا۔ یہ اور بات ہے کہ خان عبدالغفار خان کبھی دل سے پاکستان کے حامی نہ بن سکے اور قیام پاکستان کے بعد بھی یہ ”پرابلم صوبہ“ رہا۔
اس پس منظر میں دیکھا جائے تو بنگال میں صورتِ حال یکسر مختلف تھی۔ بنگال میں ہندو کلچر کا اثر بہت زیادہ رہا ہے۔ ٹیگور تمام بنگالیوں کا محبوب شاعر ہے۔ وہاں ہندو دانش وروں اور سیاست دانوں نے ہندومت کے حق میں فضا سازگار بنا رکھی تھی۔صنعت و تجارت، کلچر، صحافت ہر جگہ ہندو چھائے ہوئے تھے۔ وہ تعلیمی، سماجی اور مالی اعتبار سے مسلمانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے اس لیے مسلمان غیر شعوری طور پر ہندوﺅں سے بہت متاثر تھے۔ اس کے باوجود جب پاکستان کی تحریک کا آغاز ہوا تو بنگالی مسلمانوں نے بہت جوش و خروش کے ساتھ تحریک پاکستان کا ساتھ دیا۔ وہ صوبہ ہے جہاں مسلم لیگی حکومت تھی اور ہندوﺅں کا تمام اثرو رسوخ مسلمانوں کو پاکستان کا مخالف بنانے میں ناکام رہا تھا۔ یہ وہ سچّے اور پکّے مسلمان تھے جو غُربت، تعلیمی پسماندگی اور ہر لحاظ سے پیچھے ہونے کے باوجود ہندوﺅں کے دام میں نہیں آئے تھے۔ مگر المیہ دیکھئے کہ قیام پاکستان کے بعد یہ صورتِ حال یکسرتبدیل ہوگئی۔ مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت کی کارکردگی ملاحظہ کیجئے کہ اس نے بہت مختصر عرصے میں بنگالی مسلمانوں کو پاکستان سے برگشتہ اور شاکی کردیا۔ وہ لوگ جو تمام خطرات مول لیکر بھی ہندوﺅں سے نبرد آزما ہوگئے تھے اور ”پاکستان پاکستان“ پکارتے تھے۔ جب پاکستان بنا تو ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ ان کی کوئی ایک شکایت ہو تو بیان کی جائے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 292

مغربی پاکستان کے لیڈروں کی خودغرضی، مفاد پرستی اور بے بصیرتی کے باعث وہ رفتہ رفتہ ہم سے دور ہوتے چلے گئے۔ جلتی پر تیل ڈالنے کے لیے مشرقی پاکستان کے ہندو اور بھارتی سرکار کے کارندے سرگرم عمل تھے۔ ادھر مغربی پاکستان کے لیڈر آنکھوں پر پٹّی باندھے اور منہ میں گھنگیناں ڈالے بیٹھے تھے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا وہ ساری دنیا نے دیکھا۔ ایک درد مند لیڈر نے صحیح کہا ہے کہ مغربی پاکستان والوں نے مشرقی پاکستان کو مار مار کر جدا کردیا۔ہم نے خود یہ منظر دیکھا ہے۔

مولوی فضل حق بنگال کے ممتاز مسلم لیگی لیڈر تھے۔ وہ صحیح معنوں میں عوامی لیڈر تھے۔ عام لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ ان ہی کی زبان بولتے تھے۔ ان ہی جیسا لباس پہنتے تھے۔ صوبے کے وزیراعلیٰ تھے مگر کسی قسم کا پروٹوکول نہیں تھا۔ ان کے گھر کے دروازے ہر ایک کے لئے چوپٹ کھلے رہتے تھے۔ دروازے پر نہ محافظ نہ چوکیدار‘ بندوق تو دور کی بات ہے‘ کوئی ڈنڈے بردار محافظ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ جس کا جی چاہتا تھا بلاتکلّف منہ اٹھا کر ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہو جاتا تھا۔ جہاں شیر بنگال مولوی فضل حق لُنگی اور بنیان پہنے فرش پر بیٹھے نظر آتے تھے۔ جوبھی آتا تھا وہ ان کے پاس زانو سے زانو ملا کر بیٹھ جاتا تھا۔ اپنا مسئلہ بیان کرتا تھا۔ نہ تحریری درخواست کی ضرورت پڑتی تھی‘ نہ کاغذ اور فائل درکار تھی۔ مولوی صاحب وہیں بیٹھے بیٹھے سائل کی شکایت سنتے تھے اور ملزم کو وہیں طلب کر لیتے تھے۔ اس حُسن سلوک سے مسلمان اور ہندو سب یکساں فیض یاب ہوتے تھے۔ جب لیڈر ایسا ہو تو عوام اس پر فدا کیوں نہ ہوں؟ بنگالی لیڈروں کا یہ انداز اور طریقہ آج بھی کارفرما نظر آتا ہے۔ سادگی اور بے تکلفی ان کا طرّہ¿ امتیاز ہے۔ کسی محفل میں چلے جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون وزیر ہے اور کون عوام؟
ڈھاکہ میں جب فلم سازی کا آغاز ہوا تو شروع شروع میں بنگالی فلمیں بنائی جاتی تھیں۔ وہاں سٹوڈیو اور دوسری سہولتیں نہیں تھیں اس لئے فلم ساز اور ہدایت کار مغربی پاکستان بلکہ لاہور آ کر سارا کام کر لیتے تھے اور فلم مکمّل کر کے واپس ڈھاکہ چلے جاتے تھے۔ بعد میں تکنیکی تربیت حاصل کرنے کی غرض سے بھی مشرقی پاکستان کے لوگ لاہور اور کراچی آنے لگے۔ احتشام صاحب بھی ان ہی دنوں پہلی بار مغربی پاکستان آئے تھے۔ سانولے سلونے خوش شکل آدمی تھے۔ حد درجہ باتونی‘ تعلیم یافتہ اور ذہین بھی تھے۔ فلم سازی کا بہت شوق تھا۔ انہیں قریبی دوست احباب ”کپٹن رحمان“ کہا کرتے تھے۔ یہ بعد میں بہت بڑے فلم ساز و ہدایت کار اور اداکار ندیم کے خُسر بھی بنے۔ اُس زمانے میں مقامی فلمی حلقوں میں وہ کپٹن کے نام سے بہت مقبول تھے۔ ہنس مُکھ‘ زندہ دل‘ حاضر جواب اور ذہین آدمی تھے۔ انگریزی اور اردو بھی اچھّی بولتے تھے۔ دوست بنانے کا گُر بھی جانتے تھے۔ اس طرح وہ لاہور کے فلمی حلقوں میں بہت جلد پہچانے جانے لگے۔
ان کی طرح مشرقی پاکستان سے اور لوگ بھی فلم سازی‘ ہدایت کاری‘ ہُنر مندی اور شاعری سیکھنے کی غرض سے لاہور‘ کراچی آتے رہتے تھے مگر مغربی پاکستان والے عموماً احساس برتری یا دوسرے لفظوں میں احساسِ کمتری میں مبتلا تھے، اس لئے انہیں خود اپنے مقابلے میں نو آموز، ناتجربہ کار اور پسماندہ خیال کرتے تھے۔ 

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

اُس زمانے میں مشرقی پاکستان کے فلمی فنکاروں اور ہُنر مندوں کا ایک وفد مغربی پاکستان کے دورے پر آیا تو پہلی بار ہمیں مشرقی پاکستان کے فن کاروں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ ڈھاکہ کی تمام ممتاز ہیروئنیں‘ ہیروز‘ فلم ساز‘ ہدایت کار اور ہُنر مند اس وفد میں شامل تھے۔ مغربی پاکستان والوں کے لئے مشرقی پاکستان کے فنکار ایک عجوبہ ہی تھے اس لئے کہ اس زمانے میں مغربی پاکستان کی اردو فلمیں تو مشرقی پاکستان میں ریلیز ہوا کرتی تھیں اور بے حد مقبول بھی تھیں‘ مگر بنگلہ فلمیں مغربی پاکستان میں نمائش کےلئے پیش نہیں کی جاتی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ یہاں بنگلہ زبان سمجھنے والے برائے نام تھے۔ پھر وہاں کی فلمیں تکنیک اور فلمی اداکاروں کے لحاظ سے زیادہ کشش نہیں رکھتی تھیں اس لئے یہاں بنگلہ فلمیں ریلیز کرنا سراسر گھاٹے کا سودا تھا۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومتی ادارے اس معاملے میں مدد کرتے اور جیسے تیسے یہاں بنگالی فلموں کی نمائش کا اہتمام ضرور کرتے۔ اس طرح دونوں بازوﺅں کے عوام کے مابین یگانگت اور شناسائی کا رشتہ پیدا ہو سکتا تھا۔ مگر ہمارے حکمرانوں اور سرکاری اداروں نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی اور دونوں صوبوں کے عوام کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ (جاری ہے)

 فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 294 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں