فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 269

فلمی الف لیلیٰ

س اثناء میں زیبا ایک دو فلموں کی شوٹنگ کیلئے لاہور پہنچ گئی تھیں۔ سبھی اداکاروں اور ایکٹریسوں سے ہماری اچھّی ملاقات تھی سب نے ہمیں مبارک باد دی اور وعدہ کیا کہ ہمارے مہورت میں ضرور آئیں گے۔
مگر اس کے ساتھ ہی شکوے شکایت کا ایک لامتناہی دفتر بھی کھل گیا۔ جسے دیکھئے ہم سے شکایت کر رہا ہے کہ ہمیں اپنی فلم میں کیوں نہیں رکھا۔ ہر موسیقار کا منہ پھولا ہوا ہے۔ اداکار اپنی جگہ بگڑے ہوئے ہیں۔ ہر گلوکار کی فرمائش ہے کہ اس سے گانے ضرور لیں ورنہ اچھا نہ ہو گا۔ تعلقات ختم ہو جائیں گے۔ ہم نے سمجھایا کہ بھائی ‘ ایک فلم میں بھلا کتنے لوگ کام کر سکتے ہیں؟ صبر سے کام لو اور ہمارے حق میں دعائے خیر کرو۔ آئندہ بھی فلمیں بنانے کے قابل ہوئے تو باری باری سبھی دوستوں کو خوش کر دیں گے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 268 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
دلچسپ بات یہ تھی کہ معاوضے یا روپے پیسے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ نہ لالچ تھا۔ بس ہر ایک کی خواہش تھی کہ ایک دوست پہلی فلم بنا رہا ہے تو اس میں اس کا حصّہ کیوں نہ ہو۔ ہم ہر ایک کو سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ بھائی صبر کرو۔ آخر ایک فلم میں کتنے ڈائریکٹر‘ کتنے میوزک ڈائریکٹر‘ کتنے ہیرو‘ کتنی ہیروئنیں‘ کتنے اداکار‘ کتنے گلوکار‘ کتنے نغمہ نگار‘ کتنے ہنر مند کام کر سکتے ہیں۔ مگر ہر ایک کا منہ پھولا ہوا تھا۔ جسے دیکھئے ترچھی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ منہ اٹھائے پاس سے گزر گیا ہے۔ نہ دعا نہ سلام۔
ہم نے طارق صاحب سے کہا ’’طارق صاحب۔ ہم تو فلم بنانے کا اعلان کر کے پچھتا رہے ہیں‘ اب کیا کریں؟‘‘
وہ بولے ’’صبر کریں۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آپ کے ہر ایک سے تعلقات ہیں۔ دوستی ہے‘ مراسم ہیں‘ بے تکلفی ہے۔ ہر ایک آپ پر اپنا حق سمجھتا ہے۔‘‘
اور تو اور ہمیں اسٹوڈیو اونرز کی ناراضی کا منہ بھی دیکھنا پڑا۔
ایک دن شباب کیرانوی ہم سے کہنے لگے ’’آفاقی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ شوکت صاحب سے تمہارے پرانے تعلقات ہیں۔ تم نے وہیں سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا ہے مگر فلم تم ایورنیو اسٹوڈیو میں بنا رہے ہو۔ شوکت صاحب کیا سوچیں گے؟‘‘
ہم نے کہا ’’شباب صاحب‘ آپ کو معلوم ہے کہ شوکت صاحب اگر اسٹوڈیو کے کرائے کا اُدھار کر بھی لیں تو فلم اُدھار نہیں دیتے۔ آغا صاحب کے اسٹوڈیو میں ہمیں یہ سہولت مل جائے گی۔‘‘
کہنے لگے ’’ہاں یہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر تم شوکت صاحب سے کہتے تو شاید وہ یہ بندوبست بھی کر دیتے۔‘‘
ہم نے کہا ’’جب ان کا یہ دستور ہی نہیں ہے تو بلاوجہ مطالبے کرنے سے فائدہ؟ اور دیکھیں‘ آپ کبھی باتوں باتوں میں شوکت صاحب پر یہ صورتِ حال واضح کر دیں۔‘‘
چلئے‘ شوکت حسین رضوی صاحب کی طرف سے تو ہمیں اطمینان ہو گیا مگر ملک غلام باری کا کیا ہو گا؟ باری صاحب ہمارے بہت پرانے شناسا بلکہ دوست تھے۔ ان کے ساتھ بہت بے تکلفّی بھی رہی۔ ان کی حکایتیں‘ داستانیں اور مہم جوئی کی کہانیاں ہم خدا جانے کب سے سن رہے تھے۔ انہوں نے ایورنیو اسٹوڈیو کے عقب میں اپنے اسٹوڈیو کے لئے زمین خریدی تو خاص طور پر مجھ سے کہا ’’آفاقی۔ میں نے جان بوجھ کر آغا گل کے اسٹوڈیو کے برابر میں اپنے اسٹوڈیو کے لئے زمین خریدی ہے۔‘‘
’’اس میں کیا مصلحت ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔
ہنس کر کہنے لگے ’’یار مجھے ان پیسے والوں نے بہت ذلیل کیا ہے۔ میں بے مایہ اور غریب تھا تو یہ مجھے اپنے برابر میں بٹھانا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ اب اللہ نے مجھے ان کے برابر کا بنا دیا ہے تو میں انہیں کیوں خدا کی قدرت کا تماشا نہ دکھاؤں۔ میں نے آغا کے اسٹوڈیو کے ساتھ زمین لی ہے اور میں اپنے بچوں کو وصیّت کر جاؤں گا کہ میرے بعد بھی آغا صاحب کے بچّوں کے ساتھ مقابلہ جاری رکھیں۔‘‘
باری صاحب بہت زیادہ حسّاس آدمی تھے۔ اپنے برے وقتوں کی ہر بات ان کے ذہن پر نقش ہو کر رہ گئی تھی۔ ایک تو وہ تھے ہی پیٹ کے ہلکے اور باتونی۔ دوسرے ہمارے ساتھ اکثر طویل ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اپنا کون سا قصہ ہے جو ہمیں انہوں نے نہیں سنایا۔ کاروباری یہاں تک کہ ذاتی واقعات بھی سنا ڈالے۔ ان کے معاشقے‘ رومان‘ کاروباری معرکے‘ حسینوں کو فتح کرنے کی داستانیں۔ سبھی کچھ ہمارے علم میں تھا۔
انہوں نے باری اسٹوڈیوز کا سنگ بنیاد رکھا تو ہم سے کہنے لگے ۔’’آفاقی۔ آج کل کی اولاد کا بھی عجیب حال ہے‘‘
’’کیوں۔ کیا ہوا؟‘‘ ہم نے پوچھا۔
ہنس کر کہنے لگے ’’جب اسٹوڈیو کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اس کے نام کا سائن بورڈ لگایا گیا تو پتا ہے راحیل نے کیا کہا؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’مجھ سے کہنے لگا۔ ڈیڈی‘ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ باری اسٹوڈیو سے پہلے آپ ’’راحیل‘‘ کا اضافہ کر دیں۔ اس طرح راحیل باری اسٹوڈیو ہو جائے گا۔‘‘
ان کے بڑے بیٹے راحیل کی عمر اس وقت مشکل سے سات آٹھ سال ہو گی۔
ہم نے کہا ’’تو پھر اضافہ کرا دیتے۔ حرج کیا ہے؟‘‘
کہنے لگے ’’یار ان بچّوں کو بھی تو معلوم ہو کہ پیسہ کتنی محنت سے کمایا جاتا ہے اور عزّت حاصل کرنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ میں نے اسے کہہ دیا کہ بیٹا‘ میری زندگی میں تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ تم خود اگر اپنی محنت سے نیا اسٹوڈیو بناؤ گے تو اس کا راحیل باری اسٹوڈیو رکھ دینا۔‘‘
باری اسٹوڈیو کی تعمیر شروع ہوئی تو باری صاحب شام ہوتے ہی لکشمی چوک والے دفتر سے اسٹوڈیو پہنچ جاتے تھے۔ شاہ نور اسٹوڈیو اور ایورنیو اسٹوڈیوز بھی آس پاس تھے۔ ہم پیدل ہی سب جگہ گھومتے پھرتے تھے۔ باری صاحب اپنے دفتر کے سامنے باہر لان میں کرسیاں ڈال کر بیٹھ جاتے اور ہر آنے جانے والے سے علیک سلیک کر تے رہتے تھے۔ کچھ تو سلام کر کے دور ہی سے گزر جاتے۔ زیادہ بے تکلف حضرات کو وہ پکار کر بلا لیتے۔ ان کی اس محفل کو ہم نے دربار کا نام دیا تھا۔ آج کے نغمہ نگار خواجہ پرویز اس وقت نغمہ نگار نہیں بنے تھے مگر فلم والوں سے گہرا میل جول تھا۔ غضب کے لطیفہ باز اور فقرہ باز تھے۔ ہم دونوں نے باری صاحب کی محفل کو دربار کا نام دیا اور انہیں مہابلی کا خطاب عنایت کر دیا۔
’’مہابلی کس لئے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
ہم نے بتایا ’’شہنشاہ اکبر کو مہابلی کہا جاتا تھا۔ آپ بھی فلمی دنیا کے شہنشاہ سے کم تو نہیں ہیں۔‘‘
خواجہ پرویز نے کہا ’’مگر کنجوسی میں پورے بنئے ہیں۔ باری صاحب۔ اتنا بڑا اسٹوڈیو بنا رہے ہیں تو پھر دل بھی بڑا کیجئے۔ ذرا شوکت صاحب کو دیکھئے۔ آغا صاحب کو دیکھئے‘ کیسی دریا دلی سے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘
اس طرح کہہ سن کر ہم باری صاحب کو سخاوت پر اُکساتے رہتے تھے اور وہ بھی لاگے باندھے قدرے سخاوت پر آمادہ ہو گئے تھے۔
ایک دن خواجہ پرویز نے کہا ’’مہابلی۔ دربار تو آپ نے سجا لیا ہے مگر درباریوں کو نہ جاگیر‘ نہ خلعت‘ نہ خطاب‘ نہ عتاب۔ بادشاہ ایسے تو نہیں ہوتے۔ اصلی مہابلی کے دربار میں تو ’’نورتن‘‘ تھے۔ آپ کے دربار میں کیا ہے؟‘‘
باری صاحب تنگ آ کر بولے ’’وہ تو بڑے قابل لوگ تھے۔ تم لوگوں میں کون سی قابلیت ہے؟‘‘
ہم نے کہا ’’باری صاحب۔ ایسا تو نہ کہئے۔ ہم قابل نہیں ہیں تو نہ سہی مگر لطیفے سنا کر آپ کو ہنساتے رہتے ہیں‘ یہ کیا کم ہے؟‘‘
ان کا دریائے سخاوت جوش میں آ گیا‘ فرمایا ’’ٹھیک ہے۔ تو پھر تم دونوں کو بھی ہم خطاب عطا کرتے ہیں۔ ایک کو بیربل اور دوسرے کو مُلا دو پیازہ۔ اب یہ فیصلہ تم آپس میں کر لو کہ بیربل کون ہو گا اور مُلا دو پیازہ کون ہے؟؟‘‘
یہ فیصلہ کبھی نہ ہو سکا کہ ہم دونوں میں سے بیربل کون ہے اور مُلا دو پیازہ کون ہے لیکن مہابلی تو ظاہر ہے کہ باری صاحب ہی تھے۔ وہ جب کسی خاتون پر مہربان ہوتے تو ہم فوراً اسے جودھا بائی کا خطاب دے دیا کرتے تھے۔ یہ خطاب باری باری مختلف خواتین کوعطا کیا گیا۔ وہ مہارانی جودھا بائی بن بھی گئیں اور اس عہدے سے معزول بھی کردی گئیں مگر خود انہیں کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ یہ سب کچھ ہم تینوں کے درمیان ہی رہتا تھا۔ (جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 270 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں