فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 179

فلمی الف لیلیٰ

آغا صاحب نے یہ تجویز بھی منظور کرلی۔ نغمات لکھنے کیلئے تنویر نقوی صاحب موجود ہی تھے۔ موسیقار کے طور پر رشید عطرے صاحب کے نام پر فیصلہ ہوگیا۔ یہ سب باتیں ہوگئیں مگر ہم سے بات طے کرنا رہ گئی تھی۔ آغا صاحب کا یہ دفترکافی وسیع اور کشادہ تھا مگروہ کاروباری بات کرنے کیلئے اکثر اپنے کمرے سے نکل کر باہر پچھلے صحن میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ ان کی کاروباری بات چیت چند منٹ سے زیادہ طویل نہیں ہوتی تھی۔اکثر تو ایک دو منٹ میں ہی فیصلہ کرلیتے تھے۔
انہوں نے اپنے ملازم کو ’’چائے روڑا‘‘ یعنی چائے لانے کا آرڈر دیا اور کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بولے ’’آفاقی، ذرا ایک منٹ کو ادھر آؤ۔‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 178 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بغلی دروازے سے ہم ان کے پیچھے پیچھے باہر صحن میں چلے گئے۔ وہاں ایک سائیکل کھڑی تھی۔ آس پاس کوئی شخص نہ تھا۔ ہم سمجھ گئے کہ اب آغا صاحب معاوضے کی بات کریں گے اور عادت کے مطابق ہمارے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

مختصر سے عقبی صحن میں پہنچتے ہی آغاصاحب کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر بولے ’’بولو تم پیسے کتنے لو گے؟‘‘
ہم بوکھلا گئے۔ یہ موضوع ہمیشہ ہمارے لئے پریشان کن رہا ہے اور پیسوں کی بات کرتے ہوئے ہمیں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے بلکہ شرم سی آتی ہے۔
’’بولو!‘‘ انہوں نے دوبارہ پوچھا۔
ہم نے نگاہیں جھکا کر کہا ’’آغا صاحب۔ آپ ہی بتایئے‘‘
جواب میں آغا صاحب نے خلاف عادت مختصر سی تقریر کردی۔ انہوں نے کہا ’’دیکھو آفاقی۔ میں نے سنا ہے کہ تم اچھا لکھتے ہو۔ نئے آئے ہو اس لئے تمہارے پاس نئے خیالات ہیں۔ میں نے سال میں چھ فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی ہردوماہ بعد ایک فلم۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ سب فلمیں تم ہی لکھو۔‘‘
ہم نے دبی زبان میں کہا ’’شکریہ آغا صاحب‘‘
پوچھا’’تو پھر بولو۔ ایک فلم کے کتنے پیسے لو گے؟‘‘
ہم پھر شرما گئے۔ کہا’’آغا صاحب آپ ہی بتا دیجئے۔‘‘
اس کے جواب میں آغا صاحب نے پھر ایک مختصر سی تقریر کردی۔ کہنے لگے’’آفاقی۔میں نے کئی رائٹرز سے کام کرایا ہے۔ فلاں رائٹر کو میں نے اٹھارہ سو معاوضہ دیا تھا۔ فلاں کو پندرہ سو دیئے تھے۔ فلاں رائٹر کتنا بڑا اور مشہور ہے۔ اسے میں نے دو ہزار روپے دیئے تھے۔ صرف رحیم گل کو میں نے ساڑھے تین ہزار روپے ایک فلم کا معاوضہ دیا تھا مگر اس کی وجہ کچھ اور تھی۔‘‘
ہم خاموش ان کا منہ دیکھتے رہے۔ آغا صاحب نظریں جھکا کر کاروبار کی بات کرنے کے عادی تھے۔ اس وقت بھی انہوں نے نگاہیں نیچی کیں اور کہنے لگے’’تم نوجوان اور فریش ہو۔ تمہارے خیالات بھی فریش ہیں۔ میں تمہیں ویسے بھی پسند کرتا ہوں۔ بس میں تمہیں فلم لکھنے کا معاوضہ تین ہزار روپے دوں گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘
ہم نے کہا ’’آغا صاحب۔یہ تو بہت کم ہے۔‘‘
بولے ’’آفاقی۔ اتنے پیسے میں نے پہلے کسی رائٹر کو نہیں دیئے اور بات یہ ہے کہ ابھی تمہارا بھاؤ بھی نہیں کھلا ہے۔‘‘
ہم نے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا ’’جی؟‘‘
’’بات یہ ہے کہ جب ریس میں کوئی گھوڑا وِن کرتا ہے تو اوپر اسکرین پر اسکا بھاؤ لکھ دیا جاتا ہے۔ تمہاری ابھی تک کوئی بھی فلم ہٹ نہیں ہوئی ہے اس لئے فلم انڈسٹری میں بھاؤ نہیں کھلا ہے۔ جب فلم ہٹ ہوگی تب اور بات ہوگی۔‘‘
ہماری آغا صاحب سے کافی بے تکلفی تھی۔ معاوضے کی بات کا قصّہ الگ ہے لیکن دوسرے موضوعات پر ہم ان سے کُھل کر بات کرسکتے تھے۔ اس لئے ہم نے کہا ’’آغا صاحب، ہم اس طرح سوچتے ہیں کہ آپ کی فلم ساڑھے تین چار لاکھ روپے میں بنے گی۔ اس میں رائٹر کا کتنا حصہ ہے؟ آپ کچھ دیر پہلے ہمالیہ والا کو چند سین کے عوض آٹھ دس ہزار روپے معاوضہ دینے پر آمادہ ہوگئے تھے حالانکہ وہ ہمارے لکھے ہوئے تھوڑے سے ڈائیلاگ ہی بولیں گے۔ مگر جو رائٹر پورا اسکرپٹ لکھے گا اس کو صرف تین ہزار؟‘‘
آغا صاحب تھوڑے مسکرائے’’یار تم بحث بہت زیادہ کرتے ہو۔ آرٹسٹ کی بات اور ہوتی ہے اور پھر تمہارا بھاؤ۔۔۔‘‘
ہم نے کہا ’’معاف کیجئے آغا صاحب۔ ابھی آپ نے جن رائٹرز کا نام لیا ہے ان سب کا بھاؤ کُھل چکا ہے۔ ایک صاحب کی تین چار فلمیں سپرہٹ ہو چکی ہیں۔ دوسرے کی بھی کئی فلمیں ہٹ ہیں۔ مگر ان کا بھاؤ نہیں کُھلا۔ جب کسی ہیرو یا ہیروئن کی فلم ہٹ ہوتی ہے تو آپ کے بقول اس کا بھاؤ کُھل جاتا ہے۔مگر کئی ہٹ فلموں کے رائٹرز کا بھاؤ کیوں نہیں کُھلتا۔‘‘
آغا صاحب خلاف عادت کافی طویل گفتگو کر چکے تھے اور مزید مذاکرات کیلئے تیار نہ تھے۔ بولے ’’یارتمہاری عقل کہاں چلی گئی ہے؟ سنا ہے تم تیز لکھتے ہو۔ تم سال میں چھ فلمیں لکھو گے۔ یعنی اٹھارہ ہزاروپے کماؤ گے۔ ایک سال میں اٹھارہ ہزار کم آمدنی تو نہیں ہے۔ تم اور کیا چاہتے ہو؟‘‘
ہم نے کہا ’’آغا جی۔ ہمیں تو بہت شرم آرہی ہے کہ رائٹر کا بھاؤ ایک معمولی ڈانسر کے بھاؤ سے بھی کم ہے۔‘‘
’’شرم کو چھوڑو۔ بولو ہاں کہ ناں؟‘‘
ہم نے جی کڑا کر کہا ’’دیکھئے نا آغا صاحب، آپ تو‘‘
انہوں نے بے چینی سے ہماری بات کاٹ دی ’’ٹھیک ہے۔ آؤ اندر چلیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ آگے اور ہم ان کے پیچھے دوبارہ ان کے دفتر میں داخل ہوگئے۔ ہمارے پہنچتے ہی ملازم نے شیشے کی ٹاپ والی بڑی میز پر خوب صورت قیمتی پیالیوں میں چائے لاکر رکھ دی۔ انگلش بسکٹ (جو اس زمانے میں نایاب تھے) اور شیزان کا کیک بھی موجود تھا۔
چائے کا دور چلا اوراس کے ساتھ اِدھر اُدھر کی باتیں بھی ہوتی رہیں۔ کچھ دیر بعد ہم اٹھ کر کھڑے ہوگئے ’’اچھا آغا صاحب اجازت دیجئے‘‘ یہ کہہ کر ہم نے وہ پتلی سی کاپی نجم نقوی صاحب کے سامنے رکھ دی اور دفتر سے باہر نکل گئے۔ نجم نقوی صاحب کی حیرت زدہ آواز ہمارا پیچھا کرتی رہی۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ سارے معاملات طے پا چکے ہیں مگر کاپی ان کے حوالے کرنے پر وہ واقعی حیران رہ گئے تھے۔
ہم دفتر سے باہر نکلے اورکُھلی فضا میں ایک لمبی سانس لے کر یہ سوچتے ہوئے چل پڑے کہ ہم نے آج جو حرکت کی ہے وہ غلط ہے یا درست؟ اتنے بڑے آدمی کی اتنی اچھی پیشکش مسترد کرکے ہم نے حماقت تو نہیں کردی؟ اتنی دیر میں نجم نقوی صاحب تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے آگئے۔
’’میاں کیا بات ہے؟‘‘
ہم نے کہا ’’بس۔ معاوضے پر تصفیہ نہیں ہوسکا۔‘‘
وہ سوچ میں پڑ گئے۔ پھربولے ’’جیسی اللہ کی مرضی۔ میرا خیال تھا کہ تم ہی میرے ساتھ کام کرو گے، خیر۔‘‘
وہ ہمارا کندھا تھپک کر واپس لوٹ گئے۔
اس رات ہم بہت دیرتک بستر میں لیٹے سوچتے رہے کہ بھائی آخرتم چاہتے کیا ہو؟ اخبار نویسی تو تم چھوڑ ہی چکے ہو حالانکہ کئی سال وہاں صرف کئے ہیں۔اب اتنے بڑے فلم ساز کی آفر بھی مسترد کردی۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ اس زمانے میں رائٹر کو تین ہزار روپے معاوضہ شاذ و نادر ہی ملتا تھا اور پھر سال میں چھ فلمیں مل رہی تھیں۔ یعنی اٹھارہ ہزار نقد جو کہ اس زمانے میں ایک معقول رقم تھی۔ آغا گل جیسے فلم ساز اور نجم نقوی جیسے ہدایت کار کے ساتھ کام کرکے ہماری شہرت اور وقار میں بھی خاصا اضافہ ہوسکتاتھا۔ اس کے باوجود حماقت کر آئے۔
مگر ہم نے ذرا ٹھنڈے دل سے غور کیا تو ایک اور ہی شکل ذہن میں ابھرنے لگی۔ یہ تو ہم پہلے جان چکے تھے کہ کارکن صحافی کبھی خوشحال نہیں ہوسکتا۔ اب ہم پر یہ راز منکشف ہوا تھا کہ رائٹر کی حیثیت سے بھی ہم کبھی خوشی کا منہ نہیں دیکھ سکیں گے۔تو پھر کیا کریں؟ صحافت کی طرح فلمی صنعت کو بھی خیرباد کہہ دیں؟ اس کے بعد ہمارا ٹھکانا کہاں ہوگا۔ ساری زندگی میں صرف دو ہی کام تو سیکھے ہیں۔ ان ہی سے کنارہ کش ہوگئے تو کریں گے کیا؟ ہمیں تو کوئی اور کام آتا ہی نہیں ہے۔
یکایک خیال آیا۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ فلم ساز بن جاؤ۔ خود ہی کہانی لکھو اور خود ہی فلم بناؤ۔ قسمت میں ہوگا تو منافع بھی مل جائے گا۔
مگر سرمایہ کہاں سے آئے گا؟
سرمایہ اس زمانے میں فلم سازی کیلئے بنیادی مسئلہ نہیں تھا۔ اوّل تو یہ کہ فلموں کی لاگت ہی بہت کم تھی۔ دوسرے یہ کہ بڑے اداکار کئی فلموں میں ادھار پر کام کر لیتے تھے۔ فلم مکمّل ہونے کے بعد انہیں معاوضہ ادا کردیا جاتا تھا۔ اسٹوڈیو کی خدمات بھی ادھار پر حاصل ہو جاتی تھیں بلکہ خام فلم بھی اسٹوڈیو کے مالک ادھار پر فراہم کردیا کرتے تھے۔ مگر یہ رعایت صرف بھروسے کے لوگوں کو حاصل تھی۔ جن کی کاروباری ساکھ بھی اہم ہو اور فلمی دنیا میں ان کا نام بھی ہو۔ ورنہ ڈھیروں سرمایہ لے کر آنے والے نوواردوں سے بھی فلم کے لوگ سیدھے منہ بات نہیں کرتے تھے۔
اس رات ہمیں بہت دیر تک نیند نہیں آئی۔ یہ بات بھی نہیں ہے کہ ہم کہانی نویس کے طور پر کام ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہمارا مُدّعا صرف یہ تھا کہ اگر ہم خود اپنی فلمیں بنائیں گے تو اپنی پسند کے موضوعات پراسکرپٹ لکھیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق انہیں فلمائیں گے تو اس طرح ایک تو ہم دوسرے فلم سازوں اور ہدایت کاروں کے محتاج ہو کر نہیں رہ جائیں گے دوسرے یہ کہ کامیابی کی صورت میں ہمیں مجبوراً ہر ایک کی کہانیاں لکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور ہم کو چوائس کی آزادی ہوگی۔ ایسا نہیں ہوگا کہ پیٹ بھرنے کیلئے ہم ہر ایک کی بات ماننے پر مجبور ہوجائیں۔
دوسرے دن ہم صبح اٹھے تو اپنی ذاتی فلم بنانے کا عزّم کر چکے تھے۔ ہمارے پاس ایک کہانی کا آئیڈیا اور اسکرین پلے موجود تھا جو ہمیں بے حد پسند تھی مگر کوئی فلم ساز اس کو خریدنے پر آمادہ نہیں تھا۔ سب سے پہلے تو ہم نے اپنے دوست ہدایت کار حسن طارق کو یہ کہانی سنائی۔ وہ اس زمانے میں ’’شکوہ‘‘ بنانے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ ’’شکوہ‘‘ کی کہانی انہیں کافی عرصے سے اکسا رہی تھی اس لئے انہوں نے پہلے اسے فلمانے کا فیصلہ کرلیا۔
اقبال شہزاد ان دنوں کراچی میں رہتے تھے اور خلیل قیصر کو انہوں نے ایک فلم کی ہدایت کاری کیلئے سائن کیا تھا۔ ہم نے یہی کہانی اپنے دوست اقبال شہزاد کے حوالے کردی۔ وہ اسے لے کر کراچی چلے گئے۔ وہاں سے ان کا فون آیا کہ سوفی صاحب۔ کہانی تو ٹھیک ہے مگر اس میں تفریح کا پہلو زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے لاہور آ کر وہ کہانی ہمیں لوٹا دی۔ جب ہم نے کہا کہ اپنے ڈائریکٹر کی بھی رائے لے لو تو انہوں نے یہ اسکرین پلے خلیل قیصر کو پڑھنے کیلئے دے دیا۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 180 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)