فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 240

فلمی الف لیلیٰ

کچھ عرصے تک ہم آرام اور سیر و تفریح کرتے رہے۔ کبھی کراچی‘ کبھی اسلام آباد اور کبھی مری۔ اس دوران میں ہم دوسری فلم کی کہانی کے بارے میں بھی سوچتے رہے۔ ابھی سوچ بچار ہی کر ر ہے تھے کہ اچانک ہم السر کے حملے کی زد میں آگئے۔ شدید بیمار ہو کر ہسپتال پہنچ گئے اور پھر ایک ڈیڑھ سال تک ہسپتال آنے جانے اور آرام کرنے میں مصروف رہے۔ اس طرح ’’کنیز‘‘ کے بعد ہماری دوسری فلم قدرت کی مصلحتوں کے باعث بن ہی نہ سکی۔ اس بیماری کا قصّہ ہم آگے بیان کریں گے۔ اس دوران میں پنجاب پکچرز کے دونوں ’’میاؤں‘‘ پر کیا گزری وہ بھی سن لیجئے۔
میاں ذوالفقار بہت صحت مند اور سرخ و سفید آدمی تھے مگر اچانک ہائی بلڈ پریشر اور دل کے عارضے میں مبتلا ہوگئے۔ ہم بیمار تھے تو وہ اور میاں خادم حسین ہسپتال میں آ کر ہماری عیادت کرتے رہتے تھے۔ جب وہ بیمار ہوئے تو ہمیں خبر ہی نہ ہوئی کیونکہ ہم خود بیماریوں اور ہسپتالوں کے چکروں میں پھنسے ہوئے تھے۔ خدا خدا کر کے ہم سال ڈیڑھ سال بعد تندرست ہوئے تو دوسری فلم بنانے کی سوچی۔
اسی زمانے میں مشرقی پاکستان کی فلم ’’چندا‘‘ اور ’’تلاش‘‘ کی نمائش ہوئی اور ان دونوں فلموں نے بالکل نئی کاسٹ کے باوجود بے حد کامیابی حاصل کی تو ہمیں یہ خیال سوجھا کہ کیوں نہ یہاں بھی نئے اداکاروں کو لے کر ایک اچھّی رومانی فلم بنائی جائے۔ اس طرح نہ تو مصروف آرٹسٹوں کی ڈیٹس کے جھگڑے ہوں گے اور نہ ہی بلاوجہ کے اخراجات یکسوئی سے ایک اچھّی فلم تخلیق کی جا سکے گی۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 239 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں 
ہمارے اچانک بیمار پڑنے سے پہلے بڑے بڑے تقسیم کار ہماری آئندہ فلم کو خریدنے کے خواہش مند تھے لیکن ہم ڈیڑھ دو سال کے لئے غوطہ لگا گئے۔ اب یہ نیا خیال سوجھا تو ہم سب سے پہلے پنجاب پکچرز کے دفتر میں پہنچے۔ دیکھا کہ میز کے سامنے ایک حصے پر میاں خادم جلوہ افروز ہیں۔ میاں ذوالفقار نظر نہیں آئے۔ معلوم ہوا کہ وہ کافی بیمار رہے ہیں۔ اب روبہ صحت ہیں مگر دفتر کم ہی آتے ہیں۔ آرام کر رہے ہیں۔ ہم نے ان کی مزاج پرسی کے لئے ان کے گھر جانے کا ارادہ کیا مگر بتایا گیا کہ وہ تبدیلی آب و ہوا کے لئے مری گئے ہوئے ہیں۔ چند روز بعد ہم بھی مری پہنچ گئے۔ اس وقت تک ہم کنوارے تھے۔ ظاہر ہے اکیلے ہی مری جایا کرتے تھے۔ پُرسکون اور الگ تھلگ سے ہوٹل‘ ’’سیسل‘‘ میں ٹھہرتے تھے۔ کتابیں پڑھتے اور کاہلی سے دھوپ میں بیٹھے رہتے۔ لنچ اور شام کی چائے کے بعد مال روڈ کا ایک چکّر لگاتے اور پھر ہوٹل میں پناگزیں ہو جاتے۔ ایک دن مال روڈ پر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ میاں ذوالفقار ایک موٹی سی چھڑی تھامے چلے آ رہے ہیں۔
ہم بھی اپنی پتلی سی چھڑی تھامے ان کے پاس پہنچ گئے۔ اتنے طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی تو ہم دونوں کو بہت خوشی ہوئی۔ ایک ریستوران میں جا بیٹھے اور اِدھر اُدھر کے قصّے شروع ہو گئے۔ میاں صاحب کچھ جھٹک سے گئے تھے چہرے پر سُرخی کی جگہ زردی کھنڈ گئی تھی۔ قہقہوں میں بھی وہ پہلے جیسا زور و شور نہ تھا مگر زندہ دلی میں کوئی کمی نہ آئی تھی ۔
کچھ دیر ہم انہیں ہنسانے کی کوشش کرتے رہے پھر انہوں نے ہماری اور ہم نے ان کی بیماری کے دنوں کی تفصیل دریافت کی۔ آئندہ پروگراموں کے بارے میں پوچھا۔
ہم نے انہیں بتایا ’’ ہم بالکل نئی کاسٹ کی ایک فلم بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سارے مغربی پاکستان کے لئے یہ فلم آپ خرید لیں۔‘‘
میاں صاحب اداسی سے مسکرائے اور بولے ’’آفاقی صاحب میری صحت دیکھ رہے ہیں؟ شوگر،بلڈ پریشر اور دل کا مریض ہوں۔‘‘
ہم نے کہا ’’تو پھر کیا ہوا، بیماری اپنی جگہ ہے اور فلم اپنی جگہ۔‘‘
بے دلی سے بولے ’’ٹھیک ہو گیا تو پھر آپ کے ساتھ کام ضرور کروں گا‘‘
ان کے ایک گہرے دوست رفیع ٹھیکیدار بھی ان کے ہمراہ تھے ۔کہنے لگے ’’میاں کیسی مایوسی کی باتیں کرتے ہو۔ آفاقی کو دیکھو اتنی لمبی اور خطرناک بیماری اٹھائی ہے ابھی تک کتنا کمزور ہے ،پھر بھی آئندہ کے منصوبے سوچ رہا ہے۔آپ تو اللہ کے فضل سے بالکل صحت مند ہیں پھر بھی مایوس ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ آفاقی کے ساتھ فلم شروع کر دو۔‘‘
میاں صاحب اداسی سے مسکرائے اور بولے ’’ٹھیک ہے۔ تھوڑے دن بعد سوچ لیں گے۔‘‘
کچھ دیر بیٹھے گپ شپ کی اور رخصت ہو گئے۔تھوڑے عرصے بعد ایک دن خبر ملی کہ میاں ذوالفقار اچانک انتقال کر گئے۔ دیکھنے میں تو ایسے نہیں لگتے تھے خدا جانے انہوں نے ہمت ہار دی تھی یا موت کی پرچھائیاں پہلے ہی انہیں نظر آنے لگی تھیں؟ اللہ مغفرت کرے بہت اچھے انسان تھے۔
ان ہی دنوں مری میں ناول نگار رشید اختر ندوی صاحب سے بھی ملاقات ہوگئی۔ وہ شیروانی اور تنگ موری کا پاجامہ پہنے مال روڈ پر نظر آئے تو ہم ان سے نظر بچا کر نکلنے لگے مگر وہ خود ہی ہمارے پاس آ گئے۔ ہم ’’آفاق‘‘ کے زمانے کا ایک واقعہ پہلے بیان کر چکے ہیں جب رشید اختر ندوی صاحب اپنے ایک ناول کا مسوّدہ ہمارے ادبی ایڈیشن میں شائع کرانے کی غرض سے آئے تھے اور ظہور عالم شہید صاحب نے انہیں ہمارے پاس بھیجا تھا۔ اس وقت ہماری کرسی پر اے حمید بیٹھے ہوئے تھے اور مذاق کے موڈ میں تھے۔ رشید اختر ندوی صاحب سے بالمشافہ ملاقات بھی نہ تھی۔ انہوں نے خود کو آفاقی اور ہمیں اے حمید کہہ کر ان سے متعارف کرایا۔ کچھ عرصے بعد ان پر یہ راز فاش ہو گیا اور رشید اختر ندوی صاحب برہمی سے اپنا مسوّدہ لے کر چلے گئے تھے۔
اس وقت کے بعد ہماری یہ اُن سے پہلی ملاقات تھی۔ درمیان میں نو دس سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ ہم تو انہیں فوراً پہچان گئے مگر ان کا حافظہ بھی غضب کا تھا ۔وہ بھی ہمیں پہچان گئے اور بذات خود ہمارے پاس چلے آئے۔ خدا جانے وہ ہماری اس گستاخی یا شرارت کو فراموش کر چکے تھے یا ان کی عالی ظرفی اور کشادہ دلی تھی کہ ہمیں معاف کر دیا تھا۔ وہ بڑی شفقت اور خلوص سے ملے۔
پوچھا ’’آپ غالباً آفاقی صاحب ہیں۔‘‘
’’جی ہاں‘‘ ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا۔


’’آپ موسم کے بغیر یہاں کیسے ۔۔۔اور کچھ کمزور بھی لگ رہے ہیں۔‘‘ ہم نے اپنی طویل بیماری کے بارے میں بتایا تو وہ پریشان ہو گئے۔ دیر تک کُرید کُرید کر پوچھتے رہے اور حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ریستوران میں لے گئے اور چائے پلائی پھر ہمیں اپنے گھر کا پتہ نشان بتایا اور مدعو کیا۔ وہ سال کے چھ مہینے مری میں گزارتے تھے۔ یہ ان کا معمول تھا ۔بہت مقبول ناول نگار تھے۔ وہ ان معدودے چند خوش نصیب لکھنے والوں میں تھے جو محض ناول نگاری سے روزی حاصل کرتے رہے اور خوش حال زندگی بسر کی۔ ہم نے معذرت کر لی کیونکہ دوسرے دن مری سے ہماری واپسی تھی مگر انہوں نے بڑے خلوص سے دعوت دی کہ آئندہ مری آنا ہو تو میرے مہمان بن کر قیام کریں۔
اللہ اللہ، کیسے عظیم بزرگ تھے۔ اللہ میاں نے اب ایسے انسان پیدا کرنے بند کیوں کر دیئے ہیں؟
****
مشرقی پاکستان کی فلم ’’تلاش‘‘ کی نمائش کے ساتھ ہی ایک نئی ہیروئن نے سارے پاکستان کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا۔ یہ شبنم تھیں، ان کا نام تو جھرنا تھا، اس نام سے ڈھاکا کی چند بنگالی فلموں میں کام بھی کیا اور یہ فلمیں کامیاب بھی ہوئیں۔ اس سے متاثر ہو کر بلکہ حوصلہ پا کر فلم سازوہدایت کار احتشام نے ایک اردو فلم ’’تلاش‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا اور اس میں شبنم کو ہیروئن کے طور پر پیش کیا۔ ’’تلاش‘‘ شبنم کی پہلی اردو فلم تھی اور اس قدر کامیاب ہوئی کہ مشرق و مغرب میں اس نے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔ کراچی سے خیبر اور ڈھاکا سے چٹاگانگ تک ہر جگہ اس فلم نے کامیابی حاصل کی اور شبنم ایک نئی ہیروئن کے طور پر سامنے آئیں۔ شبنم کی مقبولیت اور تازگی کو دیکھ کر مغربی پاکستان کے بہت سے فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے بھی انہیں اپنی فلموں میں کاسٹ کرنے کا قصد کیا اور اس غرض سے ڈھاکا میں ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر مطلب براری نہ ہوئی۔ معلوم ہوا کہ شبنم کو مغربی پاکستان کی فلمی صنعت کے بارے میں خوف زدہ کر دیا گیا ہے کہ وہاں تو غنڈوں اور بدمعاشوں کا راج ہے، کوئی عورت اس ماحول میں کام نہیں کر سکتی۔
مشرقی پاکستان میں فلمیں بہت کم لاگت سے بنائی جاتی تھیں ۔اردو فلموں کے اخراجات بھی زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ نئے نئے اداکار متعارف کرائے جاتے تھے جس کی وجہ سے اخراجات اور بھی کم ہو جاتے تھے۔ شبنم کو ایک اردو فلم میں کام کرنے کا موقع مل رہا تھا اس لئے وہ بہت کم معاوضے پر بھی کام کرنے پر آمادہ ہو گئیں۔ ظاہر ہے کہ انہیں ایک بہت بڑی مارکیٹ میّسر آنے والی تھی۔ اس لالچ میں انہوں نے فلم ساز کا برائے نام معاوضہ بھی قبول کر لیا۔ یہ فلم ہٹ ہو گئی تو فلمی دستور کے مطابق وہ اچانک سُپر اسٹار بن گئیں۔ ڈھاکا میں بھی ان کی مانگ میں اضافہ ہو گیا اور مغربی پاکستان کے فلم ساز بھی ان کے طلب گار ہو گئے۔ بیس ہزار روپے اس زمانے میں بہت زیادہ معاوضہ سمجھا جاتا تھا۔ فلم سازوں نے شبنم کو ایک فلم کے لئے بیس ہزار روپے کی پیشکش بھی کر دی مگر شبنم اتنی سہمی ہوئی تھیں کہ پھر بھی مغربی پاکستان کی فلموں میں کام کرنے پر راضی نہ ہوئیں۔
چند مہم جُو فلم ساز کراچی اور لاہور سے بذات خود ڈھاکا پہنچے اور شبنم سے ملنے کی کوشش کی۔ ڈھاکا کے فلم سازوں کو بخوبی یہ علم تھا کہ اگر شبنم ایک بار کراچی یا لاہور پہنچ گئیں تو پھر ڈھاکا واپس آنے کا نام نہیں لیں گی۔ مغربی پاکستان میں بڑے اور معروف فلم سازوں اور ہدایت کاروں کے ساتھ زیادہ معاوضے پر کام کرنے کے بعد ڈھاکا کی فلموں میں ان کے لئے کوئی کشش باقی نہ رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مغربی پاکستان کے فلمی ماحول کے بارے میں ایسی خبریں مشہور کر دی تھیں جن کی وجہ سے خواتین فن کار تو کیا مرد بھی مغربی پاکستان کا رُخ کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ دیکھا جائے تو ڈھاکا کے فلم ساز اس میں حق بجانب بھی تھے۔ بڑی مشکل سے وہ کسی اداکار یا اداکارہ کو دریافت کر کے فلموں میں پیش کرتے تھے اور وہ بہتر مستقبل کی خاطر مغربی پاکستان کا ہو کر رہ جاتا تھا۔ کراچی والوں کو یہی شکایت لاہورسے بھی تھی کہ وہ اداکار اور گلوکار تلاش کرتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ کراچی سے لاہور کا ٹکٹ کٹا لیتے ہیں، مگر لاہور والے بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں۔ لاہور ہمیشہ سے فلمی صنعت کا مرکز رہا ہے یہاں بہت زیادہ فلمیں بنائی جاتی ہیں جن کے لئے زیادہ فن کاروں کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن یہاں اداکاروں اور اداکاراؤں کی ہمیشہ قلّت رہی ہے۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ صف اوّل کے ایک درجن یا نصف درجن فن کار دستیاب ہوں، ایک وقت میں صف اوّل کے تین ہیرو اور تین ہیروئنوں سے زیادہ انہیں کبھی نصیب نہ ہوئے۔ اُدھر ہر فلم ساز کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ مقبول ترین فن کاروں کی خدمات سے فائدہ اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ مٹھّی بھر اداکار منہ مانگے معاوضے وصول کرتے رہتے ہیں اور اپنی شرائط منواتے ہیں۔
ہم نے اپنی نئی فلم کی منصوبہ بندی شروع کی تو ایک دن حسن طارق صاحب نے ہم سے کہا ’’آفاقی صاحب اگر ہم اپنی نئی فلم کے لئے شبنم کو کاسٹ کر لیں تو کیسا رہے؟‘‘
ہم نے کہا ’’مگر شبنم تو مغربی پاکستان آنے کے لئے تیّار نہیں ہے۔‘‘
کہنے لگے ’’نہ جانے کس قسم کے لوگ شبنم کو سائن کرنے کے لئے گئے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم جائیں گے تو شبنم مان جائے گی۔‘‘
میاں خادم حسین بھی اس تجویز میں پیش پیش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر شبنم کو لے کر فلم بنائی جائے تو فلم بینوں کو اس میں بہت زیادہ دلچسپی ہو گی۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز...قسط نمبر 241 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں