فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 211

فلمی الف لیلیٰ

اس فلم کے مناظر میں ہم نے بالکل حقیقی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ گھروں کی آرائش‘ ملبوسات‘ سادہ اور بے ساختہ مکالمے‘ بالکل روزمرّہ جیسی اداکاری اور پھر اداکاروں نے بھی اپنے کرداروں اور کہانی کے ساتھ پورا انصاف کیا تھا۔ اس میں ہم نے بہت سے ایسے سین بھی دکھائے تھے جنہیں دیکھ کر فلم بین سوچنے لگتے تھے کہ یہ سب کچھ انہوں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔
فلم کے رومانٹک سین ہلکے پھُلکے اور سادہ تھے۔ مثلاً ایک روز زیبا وحید مراد کے گھر آتی ہیں تو صحن میں صبیحہ خانم دری بچھائے دھوپ میں بیٹھی ہیں اور لحاف سی رہی ہیں۔ وحید ایک مونڈھے پر پاس ہی بیٹھے ہیں۔
سلام دعا کے بعد زیبا دری پر صبیحہ خانم کے پاس ہی بیٹھ جاتی ہیں اور انہیں سوئی دھاگے سے لحاف میں ڈورے ڈالتے ہوئے دیکھ کر پیشکش کرتی ہیں ’’لایئے خالہ جان! میں ڈال دوں ڈورے۔‘‘
وحید معنی خیز انداز میں بول پڑتے ہیں ’’جی بس رہنے دیں۔ آپ نے پہلے جو ڈورے ڈالے تھے وہی کافی مضبوط تھے۔ اب تک چل رہے ہیں۔‘‘
زیبا ان کے ذومعنی فقرے کا مطلب سمجھ جاتی ہیں اور کہتی ہیں ’’دیکھئے خالہ جان۔‘‘

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 210 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
صبیحہ انہیں تادیب کرتی ہیں ’’اختر۔ کیوں تنگ کر رہا ہے اس کو۔‘‘
وحید فوراً بات بنا دیتے ہیں ’’میں نے کیا کہا ہے امّی؟ میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ انہوں نے پچھلے سال لحاف میں جو ڈورے ڈالے تھے۔۔۔‘‘
صبیحہ گھورتی ہیں ’’بس بس۔ رہنے دو‘ میں سب سمجھتی ہوں‘‘ پھر اٹھتے ہوئے کہتی ہیں ’’تم بیٹھو بیٹی‘ میں تمہارے لئے چائے بناتی ہوں۔‘‘
زیبا کہتی ہیں ’’آپ بیٹھئے خالہ جان۔ میں چائے بنا دیتی ہوں۔‘‘
وحید کہتے ہیں ’’ارے جانے دو جانے دو۔ تم نہیں جانتیں‘ ہماری امّی کتنی اچھی چائے بناتی ہیں۔‘‘
صبیحہ مسکراتی ہوئی اٹھ کر جاتی ہیں ’’بس ہونے لگی خوشامد۔‘‘
وحید ان کے باورچی خانے میں جانے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر جلدی سے زیبا کے پاس دری پر بیٹھ جاتے ہیں اور دبی زبان میں کہتے ہیں ’’اچھّا‘ پہلے ہماری امی پر قبضہ جمایا اب گھر پر قبضہ جمانے کا ارادہ ہے۔‘‘
زیبا اونچی آواز میں پکارتی ہیں ’’خالہ جان۔۔۔!‘‘
وحید فوراً اٹھ کر مونڈھے پر بیٹھ جاتے ہیں ’’ارے بابا ۔۔۔ رہنے دو۔ کیوں شکایت لگاتی ہو۔‘‘
اس قسم کے مناظر کی وجہ سے دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ فلم نہیں دیکھ رہے بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ حقیقت میں دیکھ رہے ہیں۔
محمد علی کی شاندار کوٹھی کے مناظر بھی بہت دلچسپ اور ڈرامائی تھے۔
اس سیٹ پر چند ڈرامائی مناظر بھی فلمائے گئے تھے۔ مثلاً ایک منظر وہ ہے جب صبیحہ کو معلوم ہوتا ہے کہ محمد علی اپنے دوست سے ناراض ہو گئے ہیں اسلئے ان کے گھر نہیں آئے۔ وحید ان کے خفا ہونے کی وجہ سے بہت اداس ہیں اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح انہیں منائیں۔ محمد علی کی ناراضی کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دادا کو بتایا تھا کہ وہ ان کیلئے بہو پسند کر چکے ہیں۔ دادا جان لڑکی کے خاندان کے بارے میں دریافت کرتے ہیں اور پھر مطمئن ہو کر پوتے کیلئے زیبا کا رشتہ طلب کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ محمد علی یہ خوشخبری زیبا کو سناتے ہیں کہ دادا حضور تمہارے ڈیڈی سے ملنے کیلئے تمہارے گھر آئیں گے۔ ہماری شادی کی بات کرنے کیلئے۔
زیبا پہلے تو مذاق سمجھ کر ہنسنے لگتی ہیں مگر پھر محمد علی سنجیدہ نظر آتے ہیں تو وہ انہیں صاف صاف بتا دیتی ہیں کہ وہ محمد علی (انور) کو پسند ضرور کرتی ہیں مگر محض دوست سمجھ کر۔
وہ کہتی ہیں ’’تم سے شادی کے بارے میں تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں۔‘‘
’’تو اب سوچ لو‘‘ محمد علی شوخی سے کہتے ہیں ۔
مگر زیبا بے حد سنجیدہ اور پریشان ہیں۔ آخر محمد علی کے اصرار پر وہ بتا دیتی ہیں کہ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہیں۔
محمد علی کو اپنے کانوں پر اعتبار نہیں آتا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی لڑکی ان پر کسی اور کو ترجیح دے سکتی ہے۔ ان کا نوابی جاہ و جلال ایک دم پوری شان سے عود کر آتا ہے اور وہ برہمی سے پوچھتے ہیں ’’کون ہے وہ جسے تم ہم پر فوقیت دے رہی ہو؟‘‘
زیبا جواب دیتی ہیں ’’اختر‘‘۔
محمد علی بے یقینی سے چونک کر زیبا کو دیکھتے ہیں ’’کیا؟ اختر! تم اس دو ٹکے کے معمولی آدمی کو ہم پر فوقیت دے رہی ہو؟‘‘
زیبا جواب دیتی ہیں ’’یہ مت بھولو کہ وہ دو ٹکے کا معمولی آدمی تمہارا بہترین دوست ہے۔‘‘
’’یہ ہماری غلطی تھی کہ ہم نے اس کی حیثیت دیکھے بغیر اس کو منہ لگایا ورنہ وہ اس قابل نہیں کہ ہم اسے اپنے پاس بھی بٹھائیں۔ کان کھول کر سن لو۔ تمہیں مجھ سے شادی کرنی پڑے گی۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔‘‘
وحید مراد کو پتہ چلتا ہے کہ محمد علی زیبا سے کسی بات پر ناراض ہیں تو وہ حسب معمول بے تکلفی سے ان کی کوٹھی پر چلے جاتے ہیں۔ محمد علی اپنے ڈرائنگ روم میں تینوں کی تصویر کے سامنے کھڑے ہیں۔ زیبا کی باتیں ان پر اوورلیپ ہو رہی ہیں۔ وہ غصے میں آ کر تینوں کی فریم شدہ تصویر کو سائیڈ بورڈ پر سے اٹھا کر پھینک دیتے ہیں۔ تصویر فرش پر پھسلتی ہوئی جاتی ہے۔ اسی وقت وحید کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ تصویر ان کے قدموں میں پہنچ جاتی ہے۔ وہ فرش پر سے تصویر کو اٹھا کر دیکھتے ہیں جس کے شیشے میں بال پڑ چکا ہے۔
محمد علی انہیں غصّے سے گھور رہے ہیں‘ پوچھتے ہیں ’’تمہیں بلا اجازت میرے گھر میں داخل ہونے کی جرأت کیسے ہوئی؟‘‘
وحید حیران رہ جاتے ہیں پھر یہ سمجھ کر کہ شاید وہ مذاق کر رہے ہیں پرانی بے تکلفی سے ان کی طرف بڑھتے ہیں مگر محمد علی بُرا بھلا کہہ کر انہیں گھر سے نکل جانے کو کہتے ہیں۔ وہ ہکّا بکّا دیکھتے رہ جاتے ہیں اور بالآخر ان کے گھر سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا اور صبیحہ خانم کا وہ سین ہے جس میں وحید اپنی ماں کو بتاتے ہیں کہ نہ جانے انور مجھ سے کیوں بگڑ بیٹھا ہے۔ صبیحہ خانم کہتی ہیں کہ میں خود جا کر اسے منا لاؤں گی۔
صبیحہ محمد علی کے گھر پہنچتی ہیں تو وہ موجود نہیں ہیں۔ ان کے ملازم سے وہ دریافت کرتی ہیں اور پھر اپنا تعارف کراتی ہیں کہ میں اختر کی ماں ہوں۔ ملازم نواب صاحب کے خاندان کا دیرینہ نمک خوار ہے۔ اس نے صبیحہ خانم کو بہو کے روپ میں حویلی میں داخل ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور پھر شوہر کے مرنے کے بعد کنیز زادی ہونے کے جرم میں انہیں حویلی سے نکلتے ہوئے بھی دیکھ چکا ہے۔ وہ صبیحہ خانم کو پہچان جاتا ہے۔ صبیحہ ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر چاروں طرف کا جائزہ لیتی ہیں اور ان کی نظریں بڑے نواب صاحب کی تصویر پر جا کر اٹک جاتی ہیں۔ وہ حیران ہو کر تصویر کو دیکھتی ہیں۔ ان کے دریافت کرنے پر ملازم بتاتا ہے کہ وہ انور میاں کے دادا حضور کی تصویر ہے۔ صبیحہ کو اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں آتا‘ ان پر پہلی بار یہ انکشاف ہوتا ہے کہ انور ان کا اپنا بیٹا ہے۔ وہ بے اختیار انور کی تصویر اٹھا کر سینے سے لگا لیتی ہیں۔ خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات میں ان کی آنکھیں اشک آلود ہو جاتی ہیں۔
’’انور ۔۔۔ میرا بیٹا ہے ۔۔۔ میرا بیٹا!‘‘
کار کے ہارن کی آواز آتی ہے۔ صبیحہ آنسو پونچھ کر اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہیں اور تصویر کو دوبارہ میز پر رکھ کر بے تابی سے دروازے کی طرف نگاہیں جما دیتی ہیں جہاں سے ان کا بچھڑا ہوا بیٹا اندر داخل ہونے والا ہے۔ وہ اپنے بے قابو مامتا بھرے دل کو قابو میں کرنے کیلئے دونوں ہاتھوں سے کلیجا تھام لیتی ہیں اور مجسّم انتظار بن کر دروازے کی طرف قدم بڑھاتی ہیں۔ اسی وقت محمد علی نوابانہ شان کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ سیاہ شیروانی اور سفید چُست موری کے پاجامے میں ملبوس وہ ایک شہزادہ لگ رہے ہیں۔
ماں کی نگاہیں ان کی بلائیں لیتی ہیں مگر وہ صبیحہ کو اچانک اپنے ڈرائنگ روم میں دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں اور غصّے کو ضبط کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ ان کے سامنے ان کے مفلس رقیب کی ماں کھڑی ہے جس کا بیٹا ان کی نوابانہ شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔
صبیحہ چند لمحے ایک عجیب کیفیت میں مبتلا کھڑی انہیں تک رہی ہیں پھر ’’بیٹا!‘‘ کہہ کر بے اختیار ان کی طرف بڑھتی ہیں۔
محمد علی کے اندر سویا ہوا مغرور‘ بے رحم اور خودغرض نواب پوری طرح جاگ اٹھتا ہے۔ وہ ایک دم پھٹ پڑتے ہیں ’’خبردار بُڑھیا! ہم ہر ایرے غیرے کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ہمیں بیٹا کہہ پکارے۔‘‘
صبیحہ ساکت کھڑی رہ جاتی ہے۔ محمد علی انہیں اور ان کے بیٹے کو جی بھر کر بُرا بھلا کہتے ہیں۔ ’’وہ ہماری دوستی کے قابل نہیں ہے۔ جاؤ‘ چلی جاؤ یہاں سے۔ آج ہم نے تمہارے بیٹے کو اس کی اصلیت بتا دی ہے۔‘‘
صبیحہ خانم کا عجب عالم ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد بچھڑا ہوا بیٹا ملا بھی تو ان حالات میں۔ وہ سانپ کے مانند اپنی کینچلی بدل چکا ہے۔ ان کی نگاہیں انور کے روپ میں اپنے مغرور اور بے رحم خُسر کو سامنے کھڑا پاتی ہیں۔ دادا کی صحبت اور تربیت نے اس کے بیٹے کو ایک خالص اور سنگدل نواب کے پیکر میں ڈھال دیا ہے۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 212 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)