فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 152

فلمی الف لیلیٰ

لقمان صاحب سے ہماری دوستی کا کوئی خاص سبب نہیں تھا۔ دوسرے فلم والوں کی طرح ان سے بھی ملاقات رہتی تھی پھر بے تکلفی ہوگئی۔ وہ بزرگ تھے مگر دوست جیسا سلوک کرتے تھے جو ہمیں اچھا لگتا تھا۔ خامیاں کس انسان میں نہیں ہوتیں۔ لقمان صاحب میں بھی تھیں مگر چند خوبیاں بھی تھیں جن کی وجہ سے ہم ان سے بہت قریب ہوگئے تھے۔ سب سے بڑی بات تو یہ کہ وہ ایک بہت اچھے اور ہنر مند ہدایت کار تھے۔

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 151 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
پاکستان میں شاہدہ کے بعد وہ ایک فلم ’’محبوبہ‘‘ کے ہدایت کار بنے۔ یہ فلاپ ہوگئی۔ اس کے بعد دوسرے فلم والوں کی طرح لاہور کی خاک چھانتے اور آئندہ کے لئے منصوبے بناتے رہے۔ اس زمانے میں فلمیں ہی کتنی بنتی تھیں۔ زیادہ تر فلم والے بے کار ہی پھرتے تھے۔
جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ایک پنجابی فلم ’’پتن‘‘ کے ہدایت کار منتخب ہوئے ہیں تو ہم حیران رہ گئے۔ دہلی میں پیدا ہوئے‘ بمبئی میں پروان چڑھے‘ پنجابی بول نہیں سکتے‘ پھر پنجابی فلم کیسے بنائیں گے؟ یہی اعتراض دوسرے لوگوں نے بھی کیا تھا۔
لقمان صاحب نے ہمارے سوال کے جواب میں کہا ’’یار بے وقوفی کی باتیں مت کرو۔ فلم تو فلم ہوتی ہے۔ اس کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ تکنیک ہوتی ہے۔‘‘
ہم نے کہا ’’مگر آپ کو تو پنجابی بولنی نہیں آتی۔ پوری طرح سمجھتے بھی نہیں ہیں۔‘‘
بولے تو پھر کیا ہوا میرا سارا یونٹ پنجابی ہے بابا عالم سیاہ پوش جیسا مصنف میرے ساتھ ہے۔ میرے اسسٹنٹ پنجابی ہیں۔ لب و لہجہ اور تلفظ بتانے والے بہت ہیں۔ اچھا تم بے کار بحث مت کرو۔ اگلے فلم ایڈیشن میں خبر بنا کر لگا دو۔‘‘
یہ 1954-55ء کا ذکر ہے ہم ان دنوں روزنامہ ’’آفاق‘‘ میں تھے اور فلم کا صفحہ مرتب کیا کرتے تھے۔ ہم نے خبر بنا کر شائع کر دی۔
اگلے دن لقمان صاحب ہمیں اپنے پروڈیوسر کے پاس لے گئے۔ ان کا نام شیخ لطیف تھا۔ وہ فلم ڈسٹری بیوٹر تھے اور فلم بنانے کے لئے سرمایہ بھی فراہم کرتے تھے۔ بے حد شریف‘ کم گو اور کم آمیز بلکہ شرمیلے آدمی تھے اس لئے سامنے آنا پسند نہیں کرتے تھے۔ سمجھدار اور تعلیم یافتہ تھے اس لئے ان کی سوچ عام فلم والوں سے مختلف تھی۔ پہلی ملاقات ہی میں ہم ان سے بہت متاثر ہوئے۔ بعد میں تعلقات بڑھتے گئے اور ان کی خوبیاں ہم پر عیاں ہوتی رہیں۔ وہ پہلے فلم ساز تھے جنہیں ہم نے زندگی میں پہلی بار کہانی سنائی تھی اور یہ بھی لقمان صاحب اور ظہورالحسن ڈار صاحب کے اصرار پر۔ کہانی سنانے کا ہنر ہمیں نہ اس وقت آتا تھا نہ اب آتا ہے بلکہ ہم تو کہانی پڑھ کر بھی نہیں بنا سکتے۔ بس لکھ کر ہدایت کار کے حواے کر دیتے ہیں۔ وہ پڑھتا ہے یا کسی اور سے پڑھوا کر سنتا ہے تو ہم بھی سنتے رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً پڑھنے والے کی غلطیاں نکالتے رہتے ہیں۔ تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم نے پہلی کہانی کس طرح سنائی ہوگی۔ مختصراً یہ کہ ابھی کہانی آدھی بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہم بور ہوگئے۔ سننے والوں کی بوریت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آخر ہم خاموش ہوگئے سب ہماری شکل دیکھ رہے تھے۔
ہم نے کہا ’’ہم سنا نہیں سکتے‘ لکھ کر دے دیں گے۔‘‘
اس اعلان پر تمام حاضرین نے اطمینان کا سانس لیا سب کے چہروں پر خوشیاں لوٹ آئیں۔ فوراً چائے کا آرڈر دیا گیا اور دوسری باتیں شروع ہوگئیں۔ مگر یہ ’’پتن‘‘ ریلیز ہونے کے بعد کی باتیں ہیں۔
شیخ لطیف نے ہمیں بتایا کہ فلم کی ہیروئن صبیحہ خانم تھیں مگر کسی وجہ سے اب کوئی اور ہیروئن ہوگی۔ وہ کوئی نئی ہیروئن تلاش کرنا چاہتے تھے۔ بلکہ انہوں نے تلاش بھی کرلی تھی۔ یہ مسرت نذیر تھیں۔ مسرت نذیر کے بارے میں ہم پہلے ہی کافی تفصیل بیان کر چکے ہیں۔ ان کا تذکرہ آئندہ بھی مناسب مواقع پر ہوتا رہے گا۔ سنتوش کمار اس فلم کے ہیرو تھے۔ وہ حیدرآباد (دکن) میں پلے بڑھے تھے مگر تھے خالص پنجابی‘ اس لئے دونوں زبانیں مادری زبان کی طرح بولتے تھے۔ ان کے دوسرے بھائیوں کا بھی یہی حال تھا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جب ہم نے انہیں پہلی مرتبہ روانی سے بامحاورہ ٹھیک پنجابی بولتے پایا تو حیران رہ گئے۔
اس فلم کی کہانی کا مرحلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ بابا عالم سیاہ پوش کہانی اور مکالمے لکھ رہے تھے۔ لقمان صاحب نے ہمیں دعوت دی کہ کل شام ہمارے دفتر آؤ تو تمہیں بابا عالم سیاہ پوش اور بابا چشتی سے ملائیں گے۔
بیک وقت دو باباؤں سے ملاقات کا تصور کچھ زیادہ خوشگوار نہیں تھا۔ بابا عالم سیاہ پوش کو ہم دو چار بار دیکھ چکے تھے۔ بابا چشتی سے بھی سٹوڈیو میں سرسری سی ملاقات تھی مگر ان کے گُنوں کا ہمیں پوری طرح علم نہ تھا۔ نام ان کا جی اے چشتی‘ غلام احمد چشتی ہی تھا مگر وہ غالباً ہوش سنبھالتے ہی بابا چشتی کہلانے لگے تھے۔ بہت کم لوگ انہیں محض چشتی کہہ کر پکارتے تھے ورنہ عموماً بابا چشتی یا صرف بابا کہا جاتا تھا اور سب سمجھ جاتے تھے کہ یہ جی اے چشتی کا تذکرہ ہے۔
فلم والوں کے دفتروں میں ہم جاتے رہتے تھے۔ یہ دفتر نگار خانوں میں تھے مگر پتن کا دفتر میکلوڈ روڈ پر مانسرور ہوٹل کے ایک کمرے میں تھا۔ یہ علاقہ فلم والوں کی آماجگاہ بلکہ چراگاہ تھا۔ پاکستان کی فلمی صنعت سے متعلق ہر قابل ذکر اور ناقابل ذکر‘ مشہور اور گمنام‘ کامیاب اور ناکام شخص یہاں رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں کسی نہ کسی وقت‘ کسی نہ کسی ریستوران میں ضرور مل جاتا تھا۔ جو ’’کچھ‘‘ تھے وہ بھی اور جو ’’کچھ‘‘ بننا چاہتے تھے وہ بھی۔ ان میں سے بہت سے آگے چل کر بہت نامور ہوئے لیکن بیشتر گمنامی اور ناکامی کی دھند میں کھو کر رہ گئے۔ اس مشہور و معروف لکشمی چوک پر ہی مانسرور ہوٹل تھا جو کسی زمانے میں بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں فلمی د فاتر ہی رہ گئے تھے۔ ہوٹل ختم ہو چکا تھا‘ داستانیں البتہ باقی رہ گئی تھیں کہ کس طرح سر شام یہاں مے خانوں میں جام لنڈھائے جاتے تھے اور نامور فلم والے یہاں قیام کرتے تھے۔ یہ ہوٹل اسی شکل و صورت میں آج بھی موجود ہے۔ وہی سیڑھیاں‘ وہی برآمدے‘ وہی کمرے لیکن ویران اور اجاڑ‘ نہ کوئی تبدیلی نہ کوئی بہتری‘ کچھ خرابی البتہ نظر آ جاتی ہے۔
سیڑھیاں چڑھ کر تیسری منزل پر پہنچے تو آگے چل کر ایک کمرا تھا جس میں دری کا فرش دیوار سے دیوار تو بچھا ہوا تھا ایک طرف طبلے والا بیٹھا تھاپ لگا رہا تھا۔ اس کے سامنے بابا چشتی ہارمونیم لئے بیٹھے تھے اور طرز بنانے میں مصروف تھے۔ چشتی صاحب کی ایک خوبی ہم نے یہ دیکھی کہ ان کے سراپا میں تبدیلی برائے نام ہی دیکھی۔ 1952ء میں انہیں جس طرح دیکھا تھا 1994ء میں بھی کم و بیش ویسا ہی پایا۔ اب ذرا ان کا حلیہ ملاحظہ فرمائیے۔
سیاہ رنگ یعنی واقعی کالا سیاہ‘ درمیانہ قد‘ مضبوط جسم‘ چہرے کا ناک نقشہ موزوں‘ آنکھوں پر موٹے شیشوں کا چشمہ جس کے شیشوں کی موٹائی میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا۔ آخری دنوں میں یوں لگتا تھا جیسے عینک میں محدب عدسہ لگوا کر بیٹھے ہیں۔ ہم نے بابا جی کو جب دیکھا تو فارغ البال ہی دیکھا۔ ابتدائی زمانے میں سر پر تھوڑے بہت بال تھے۔ البتہ سر کے اردگرد بالوں کی جھالر سی تھی۔ جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا۔ سر کے درمیانی حصے سے بال جتنے کم ہوتے رہے آس پاس کی جھالر بڑھتی رہی یہاں تک کہ پنوں کی صورت اختیار کر لی۔ وہ اپنے بالوں میں مہندی لگاتے تھے۔ اس کے سوا انہیں کوئی سنگار کرتے نہیں دیکھا۔ سر کے بالوں کی جھالر میں انگلیاں پھیر لیتے تھے۔ لیجئے کنگھی ہوگئی۔ خدا جانے وہ سر میں باقاعدگی سے تیل استعمال کرتے تھے یا ان کا سر ہی زیادہ روغنی تھا۔ ہر وقت ان کے چہرے پر ایک چکناہٹ اور چمک سی نظر آتی تھی۔ پانے کھانے کے شوقین تھے جس کی وجہ سے دانت سرخ رہتے تھے۔ گرمیوں میں وہ ہمیشہ سفید لباس استعمال کرتے تھے۔ عموماً سفید قمیض اور پتلون یا پھر سفید قیمض شلوار‘ یہی ان کی خوش لباسی کی ابتدا تھی اور یہی انتہا۔ بابا جی اپنے رنگ اور شکل و صورت کی جانب سے قطعی بے پرواہ اور بے نیاز تھے۔ خدا جانے سچ مچ کے درویش تھے یا انہوں نے خود پر درویشی طاری کر لی تھی۔ وہ آس پاس بکھرے ہوئے حسن و رعنائی سے بھی قطعی بے تعلق تھے۔ ان کے بارے میں کبھی کوئی سیکنڈل نہیں سنا حالانکہ انہوں نے کئی خواتین گلوکاراؤں کو متعارف کرایا اور انہیں مقوبلیت کے چبوترے پر بٹھایا۔ انہیں صرف آرام سے غرض تھی۔ باتیں کم کرتے تھے اور بامقصد۔ دوسروں کے بارے میں رائے زنی یا گفتگو انہیں پسند ہی نہیں تھی۔ ہم نے کبھی ان کی زبانی کسی دوسرے موسیقار یا گلوکار کی برائی نہیں سنی۔ اگر کوئی تذکرہ چھیڑ بھی دیتا تھا تو وہ موضوع تبدیل کر دیتے تھے۔
یہ تھے بابا چشتی جو پتن کے دفتر میں بیٹھے فلم کے گانوں کی دھنیں بنانے میں مصروف تھے۔ بابا جی گیت نگاروں سے بھی کام لیتے تھے مگر وہ خود بھی شاعر تھے۔ کم از کم فلمی شاعری میں انہیں بڑی مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے بہت سی فلموں کے گیت لکھے لیکن عموماً شاعر کے طور پر اپنا نام دینا پسند نہیں کرتے تھے۔ دلکش مکھڑے (یعنی استھائیاں) تو انہوں نے سینکڑوں بنا ڈالے اور نام شاعر کا ہوا۔ وہ قیام پاکستان سے پہلے سے گیت لکھنے اور طرزیں بنانے میں مصروف تھے اور پاکستان بننے کے بعد بھی پاکستان کی فلمی صنعت کو انہوں نے موسیقی کے شعبے میں بہت فراخ دلی اور فروانی سے بہت کچھ دیا۔ (جاری ہے)

فلمی وادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 153 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)