چونتیسویں قسط۔ ۔ ۔ فلمی ا دبی شخصیات کے سکینڈلز

فلمی الف لیلیٰ

منٹو صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں یہ خاکہ تحریر کیا تھااور انور کمال پاشا کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا تھا۔ جو لوگ پاشا صاحب کی زبان کے گھائل تھے یا ان کی کامیابیوں کی وجہ سے حسد کرتے تھے انہیں یہ مضمون بہت پسند آیا۔ پاشا صاحب نے بھی یہ مضمون پڑھا، ظاہر ہے کہ سرتاپا آگ بگولا ہو گئے مگر سامنے سعا دت حسن منٹو جیسا بے باک‘ نڈر اور منہ پھٹ آدمی تھا جس کے قلم کا کاٹا پانی تک نہیں مانگتا تھا۔اس لیے اس توہین کوہضم کرگئے مگر اس بات کو دل میں رکھ لیا۔
اسی زمانے میں سعادت حسن منٹو کو سید شوکت حسین رضوی نے شاہ نور اسٹوڈیو میں اسٹوری ڈیپارٹمنٹ میں رکھ لیا۔ ان کے لیے ایک کمرہ مخصوص کر دیا گیا۔ صبح شوکت صاحب کی گاڑی منٹو صاحب کو ان کے فلیٹ سے لے کر اسٹوڈیو جاتی تھی اور شام کے وقت انہیں گھر چھوڑ آتی تھی۔

تینتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
یہ وہ زمانہ تھاجب پاشا صاحب ’’ گمنام ‘‘ کی کامیابی کے نشے میں چور تھے۔ اس زمانے میں پاکستان میں فلم ساز ہی گنتی کے تھے اورکامیاب اورتسلسل کے ساتھ فلمیں بنانے والوں کا تو وجود ہی نہیں تھا۔ انورکمال پاشا شاہ نور اسٹوڈیو میں فلمیں بنارہے تھے جہاں ان کے نام کا سکہ چلتا تھا۔ ان کے پاس بہت بڑی امریکن کار تھی۔ جب ان کی کار اسٹوڈیو میں داخل ہوتی تھی تو سارے اسٹوڈیو کو خبر ہو جاتی تھی اور سب لوگ اٹینشن ہو جاتے تھے۔ اب اسی اسٹوڈیو میں سعادت حسن منٹو نے بھی ٹھکانا بنا لیا تھا۔ گویاا یک جنگل میں دو شیر دندنا رہے تھے۔
پاشا صاحب نے پہلے تو منٹو صاحب کی موجودگی کا نوٹس ہی نہیں لیا حالانکہ دل میں کھٹک تھی۔ ادھر منٹو صاحب نے کبھی کسی کی پروا ہی نہیں کی تھی‘ وہ پاشا صاحب کے کروفر سے بے نیاز اپنے معمولات میں مصروف رہا کرتے تھے۔ لیکن پاشا صاحب اپنے دل کی چبھن مٹانے کے بہانے ڈھونڈ رہے تھے۔ وہ اپنی آئندہ فلم ’’ انتقام ‘‘ کی تیاریوں میں مصروف تھے جو ریلیز ہونے کے بعد ایک اور زبر دست ہٹ فلم ثابت ہوئی۔
ایک روز منٹو صاحب اپنے کمرے کے سامنے دھوپ میں ٹہل رہے تھے کہ پاشا صاحب حسب معمول اپنے دو تین مصاحبوں کے ساتھ نمودار ہوئے۔ منٹو صاحب کو دیکھا تو ان کے پاس گئے۔ علیک سلیک ہوئی۔ اس کے بعد پاشا صاحب نے کہا ’’ منٹو صاحب۔میری کہانی میں ایک سچویشن پھنس گئی ہے۔اس سلسلے میں آپ سے مشورہ لینا چاہتا ہوں۔‘‘
منٹو صاحب نے جواب دیا ’’ میں کسی کو مفت مشورہ نہیں دیتا۔‘‘
پاشا صاحب کا سرخ وسفید چہرہ اور زیادہ گلنار ہو گیا۔ غصہ تو بہت آیا مگر ضبط کیا۔ اپنے پیچھے کھڑے ہوئے پروڈکشن کنٹرولر کو اشارہ کیا جنہوں نے فوراً بریف کیس میں سے چیک بک نکال کر پاشا صاحب کی خدمت میں پیش کر دی۔ پاشا صاحب نے کھڑے کھڑے پانچ سو روپے کا ایک چیک کاٹا اور منٹو صاحب کے حوالے کر دیا اور بولے ’’ اب تو آپ مشورہ دیں گے نا ؟‘‘
’’ ہاں۔ اب بتائیے کیا مشکل ہے ؟‘‘
پاشا صاحب نے انہیں کوئی سچویشن بتائی۔ منٹو صاحب نے کہا ’’ یہ تو کوئی ایسی پرابلم نہیں ہے ‘‘ اور وہیں کھڑے کھڑے تین چار حل بتادیے۔
پاشا صاحب نے شکریہ ادا کیا اور رخصت ہو گئے مگر فلم میں منٹو صاحب کے مشورے کو کہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ تو بس بات کرنے کا ایک بہانہ تھاجسے منٹو صاحب کی حقیقت نے پروان نہ چڑھنے دیا۔
’’ انتقام ‘‘ ریلیز ہوئی اور گمنام سے بھی زیادہ کامیاب ہوئی۔ اس کے نغموں کی بمبئی تک دھوم مچ گئی۔اب پاشا صاحب پاکستان کی فلمی دنیا کا سب سے بڑا نام بن چکے تھے۔پاشا صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ ہمیں بھی ان سے واسطہ پڑااور انہیں نزدیک سے دیکھنے کا بھی موقع ملا۔ یہ بیان پھر کبھی۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ انور کمال پاشا نے پاکستان کی فلمی صنعت کی تعمیر میں بہت اہم کردار اد اکیا تھا۔ انہوں نے جو مقام‘ مرتبہ اور اہمیت حاصل کر لی تھی وہ ان کے بعد کسی دوسرے کو نصیب نہ ہوئی۔ مستقبل میں تو کسی دوسرے انور کمال پاشا کے جنم لینے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ فلم بین ان کے مکالموں کے شیدائی تھے اور فلم کے دوران ہی سینما میں بلند آواز سے ان کے لکھے ہوئے فقروں پر داد دیا کرتے تھے۔ پاشا صاحب ایک زمانے میں اس قدر خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنے لگے تھے کہ کہانی تحریر کرتے وقت ہی بتا دیا کرتے تھے کہ کن مکالموں پر تماشائی تالیاں بجائیں گے اور لوگ بلاشبہ ان ہی مناظر اور مکالموں پربے تحاشہ داد دیا کرتے تھے۔
پاشا صاحب کے مکالموں میں گھن گرج اور ڈرامائی عنصر زیادہ تھا۔ کسی حد تک اس پر تھیٹر کا رنگ بھی چھایاہو ا تھا۔ وہ شوکت الفاظ کے قائل تھے۔ ایسے فقرے تحریر کرتے تھے کہ عام فلم بین کے دل پر اثر کرتے تھے۔ ان کی فلم ’’ سر فروش ‘‘ میں انہوں نے ایک مکالمہ لکھا تھا جو سارے ملک میں مشہور ہو گیا۔ ترقی پسند لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا لیکن عوام نے اس کی بے اندازہ داد دی۔ مننظر یہ تھا کہ فلم کے ہیرو سنتوس کمار رات کے وقت چوری کے ارادے سے ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ تمام سامان پوٹلی میں باندھ لیتے ہیں کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوتی ہے۔ وہ چوری کا مال ایک طرف رکھ کر وہیں نیت باندھ لیتے ہیں اور نماز پڑھنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس اثنا میں ہیروئن کی بھی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ چوری کا سامان بھی دیکھ لیتی ہے اور چور کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر بہت حیران ہوتی ہے۔ جب سنتوش کمار سلام پھیرتے ہیں تو وہ حیران ہو کر ان سے کہتی ہے ’’ تم کیسے چور ہو۔ایک طرف چوری کرتے ہو اور دوسری طرف نماز بھی پڑھتے ہو۔ ‘‘
اس کے جواب میں سنتوش کہتے ہیں ’’ چوری میرا پیشہ ہے اور نماز میرا فرض۔‘‘
اس فقرے کی عام تماشائیوں نے تو بہت داد دی لیکن ترقی پسند لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ لیکن کسی نہ کسی حوالے سے سارے ملک میں اس کا چرچا ہو گیا۔ اس بات کو طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ انور کمال پاشا اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور نہ ہی سنتوش کمار اور فلم کی دوسری ہیروئن مینا شوری بقید حیات ہیں لیکن آج کے دور میں اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اس فقرے کے پیچھے پوشیدہ فلسفہ نظر آجاتا ہے۔ ہمارے آس پاس ہر طرف مسجدیں آباد ہیں۔رمضان المبارک میں روزے داروں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ حج کے زمانے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ فریضہ حج ادا کرنے جاتے ہیں۔ عمرہ کرنے والوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے۔ جمعہ کے روز مسجدیں نمازیوں سے لبا لب بھر جاتی ہیں۔ تبلیغی جماعتوں کے اجتماعات میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں۔اس کے باوجود ہر طرف ملاوٹ‘ دھاندلی‘ رشوت‘ چوری‘ ڈاکا زنی اور بد دیانتی کا دور دورہ ہے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر اتنے بہت سے نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے معاشرے میں اتنی خرابیاں کیوں ہیں؟ اس کا جواب وہی ہے کہ آج ہم لوگ مذہبی فرائض کو مذہب تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ مذہب نے انسانوں کو بہتر انسان بننے کے سلسلے میں جو ہدایات دی ہیں ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ آج کے ماحول کو دیکھ کر انور کمال پاشا کے اس فقرے کی صداقت واضح ہو جاتی ہے کہ ’’ چوری میرا پیشہ ہے اور نماز میرا فرض ‘‘ یعنی بقول شاعر ؂رند کے رندرہے‘ ہاتھ سے جنت نہ گئی۔
انور کمال پاشا فلم بینوں اور عوام کے مزاج شناس تھے اسی لیے وہ ان کو خراج تحسین پیش کرتے تھے۔
صرف انور کمال پاشا کو پاکستان کے فلم سازوں اور ہدایت کاروں میں یہ خصوصیت حاصل تھی کہ ان کی فلم کے بارے میں لوگ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے تھے کہ اس میں اداکار کون ہے ؟ موسیقار کون ہے۔ وہ تو بس انورکمال پاشا کا نام دیکھ کر سینماؤں پر ٹوٹ پڑتے تھے اور سینما گھروں کے سامنے والی سڑکوں پر ٹریفک جام ہو جاتا تھا۔ یہ مقام ہندوستان اور پاکستان کے اور کس فلم ساز کو حاصل ہوا ؟ انور کمال پاشا کو بھی اپنے اس ’’ کرشمے ‘‘ کا احساس ہو گیا تھا۔ ایک تو وہ تھے ہی خود پسند۔ جب کامیابیاں نصیب ہونے لگیں تو اور زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ بڑے اداکار وں کو معاوضہ بھی زیادہ دینا پڑتا تھا جب کہ انور کمال پاشا کو یہ زعم تھا کہ فلم ان کے نام پر چلتی ہے۔انہوں نے ایک بار زیادہ معاوضہ طلب کرنے کے باعث سنتوش کمار اور صبیحہ خانم کو اپنی فلم میں کاسٹ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور ان کے بجائے نئے اور نو آموز اداکاروں کو آزمایا۔ انہوں نے اپنی پنجابی فلم ’’ چن ماہی ‘‘ میں ایک بالکل نئی ہیروئن کو متعارف کرا دیا۔ یہ اداکارہ بہار تھیں جو بعد میں ایک مشہور اور کامیاب ہیروئن بن گئی تھیں۔ اس فلم کے ہیرو اسلم پرویز تھے۔ اس وقت تک اسلم پرویز کو ہیرو کے طور پر کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی۔
نامور اداکاروں کو نظر انداز کر کے بالکل نئی کاسٹ سے فلم بنانا ہر زمانے میں بڑے دل گردہ کی بات سمجھی گئی ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ پاشا صاحب کچھ زیادہ ہی خود اعتمادی کا، خوش فہمی کا شکار ہو گئے ہیں اور کوئی ان کی فلم دیکھنے ہی نہیں جائے گا۔ مگر جب ’’ چن ماہی‘‘ ریلیز ہوئی تو تماشائی سینماؤں پر ٹوٹ پڑے۔ اور یہ فلم ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم سے انور کمال پاشا نے اپنی ذات کو منوالیا اور پھر جب تک ان کا زوال شروع نہیں ہوا۔ان کانام ہی سند کے طور پر معتبر سمجھا جاتا رہا۔
پاشا صاحب صحیح معنوں میں ایک’’ شومین ‘‘ تھے اور اس زمانے میں پاکستان کے سب سے بڑے ’’ شو مین ‘‘ تھے۔ کسی نہ کسی حوالے سے وہ ہر وقت خبروں میں رہتے تھے۔ حاسد اور ان کی کامیابی سے جلنے والے بھی کم نہیں تھے اور پھر پاشا صاحب اپنی باتوں کی وجہ سے بھی فلمی حلقوں میں زیر بحث رہا کرتے تھے۔ وہ پھبتی کسنے اور فقرہ چست کرنے میں ماہر تھے۔ لیکن ان کی گفتگو میں غرور اور خود پسندی کا عنصر زیادہ ہو گیاتھا جو لوگوں کو پسند نہیں تھا۔ لاڈلے تو وہ بچپن ہی سے تھے مگر فلموں میں کامیابیاں اور شہرت حاصل کرنے کے بعد آس پاس کے لوگوں اور ضرورت مندوں نے انہیں خوشامند پسند بھی بنا دیاتھا۔ ان کو بھی ایسے ہی لوگ زیادہ پسند آتے تھے جو چاپلوسی اور خوشامند میں دوسروں سے بڑھ کر ہوں۔ نتیجہ یہ ہو ا کہ ان کے یونٹ کے بہت سے لوگ محض انہیں خوش کرنے کے لیے ان کی ہر بات میں ہاں میں ہاں ملاتے رہتے تھے اور انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ان سے بڑھ کر تو کیا ان کے مقابلے کا بھی کوئی دوسرا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ پاکستان کی فلمی صنعت کی شاید ہی کوئی قابل ذکر ہستی ایسی ہو جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو اورا س کے بارے میں ریمارکس نہ پاس کئے ہوں۔ جب وہ بولنے پر آتے تھے تو مسلسل بولتے تھے اور یوں لگتا تھا جیسے رفتہ رفتہ ان پر ایک خمار سا طاری ہو گیا تھا۔ پھر وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ سامنے کون بیٹھا ہے اور نہ یہ سوچتے تھے کہ ان کی باتیں کسی پر کیا اثر کریں گی ؟
جب بمبئی سے ضیا سرحدی پاکستان آئے تو ان کا بہت شہرہ تھا۔ اپنی فلم ’’ ہم لوگ ‘‘ کی وجہ سے وہ سارے برصغیر میں شہرت حاصل کر چکے تھے۔ اس فلم سے پہلے بھی مصنف کے طور پر انہیں ایک بلند مقام حاصل تھا۔ بمبئی سے پاکستان آنے سے پہلے وہاں ان کی آخری فلم’’ فٹ پاتھ ‘‘ تھی جس میں دلیپ کمار ہیرو تھے لیکن یہ فلم ناکام ہو گئی تھی۔
ایک دن پاشا صاحب کے سامنے ضیا سرحدی کا تذکرہ ہوا اور ایک صاحب نے ان کی بہت تعریف کی۔پاشا پہلے تو سنتے رہے پھر بولے ’’ واقعی آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ ضیا سرحدی بہت بڑے رائٹر اورڈائریکٹر ہیں۔ جو شخص دلیپ کمار جیسے شخص کو ہوٹ کرا دے اس سے بڑا اور کون ہو سکتا ہے ؟‘‘


ان کے فقروں اور زہر بھرے تبصروں سے فلمی صنعت کا کوئی بھی شخص محفوظ نہیں تھا۔ ایک بار ایک ہی کہانی پر پاشا صاحب اور منشی صاحب دونوں مقابلے میں فلم بنا رہے تھے۔ پاشا صاحب نے کہا ’’ منشی صاحب میرے مقابلے میں کیا فلم بنائیں گے وہ تو خود تقسیم کاروں اور فلم سازوں کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں جب کہ میں نے اپنی خوشامد کرانے کے لیے تنخواہ دار لوگ رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
ایک بار پرانے ایورنیو اسٹوڈیو میں ہمارا جانا ہوا۔ نہر کے کنارے پہلے پنچولی اسٹوڈیو تھا۔ بعد میں اسے آغا جی اے گل نے کرائے پر حاصل کر کے اس کانام ایور نیو اسٹوڈیو رکھ دیا تھا۔ جب انہوں نے ملتان روڈ پر اپنا نیا اور شاندار اسٹوڈیو بنایاتو اسے بھی ایورنیو اسٹوڈیو کا نام دیا جو کہ ان کے ادارے کا پرانا نام تھا۔ اس طرح پہلے والا اسٹوڈیو ’’پرانا ایورنیو ‘‘ کہلانے لگا۔ اس زمانے میں پاشا صاحب اسی اسٹوڈیو میں اپنی فلمیں بنا رہے تھے۔ ہم چند دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچے تو دروازے پر سبطین فضلی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی اندر داخل ہوئے۔ وہاں صحن میں پاشا صاحب کا ’’دربار ‘‘ لگا ہوا تھا۔ ان کے عملے کے لوگ ان کے چاروں طرف بیٹھے پاشا صاحب کی باتیں سن رہے تھے۔ ہم لوگ نزدیک پہنچے توسبطین فضلی صاحب کی عظمت اور احترام کے پیش نظر چند لوگ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ پاشا صاحب بدستور کرسی پر بیٹھے رہے۔ جب علیک سلیک کے بعد سبطین فضلی صاحب اور ہم لوگ بیٹھ گئے تو پاشا صاحب اپنے اسٹاف کے ان لوگوں سے مخاطب ہوئے جو احتراماً اٹھ کر کھڑے ہو گئے تھے اور بولے ’’ تنخواہ تو میں تم کو دیتا ہوں اور تم دوسروں کے احترام میں اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہو۔‘‘
سبطین فضلی صاحب بہت وضع دار اور خوش اخلاق انسان تھے مگر یہ فقرہ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ ہم لوگوں کو بھی پاشا صاحب کی یہ بات پسند نہ آئی اس لیے ان کی چائے کی دعوت کے باوجود شکریہ کر کے چلے آئے۔

جاری ہے۔ پینتیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)