فلمی ، ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔۔۔ قسط 66

فلمی الف لیلیٰ

فلم ’’گلنار‘‘ کا ذکر آپ سن ہی چکے ہیں۔ قمر زیدی کا بھی اس ضمن میں نام آچکا ہے۔ قمر زیدی ’’گلنار‘‘ میں سید امتیاز علی تاج کے اسسٹنٹ تھے۔ وہ کام سے زیادہ لطیفہ بازی میں دلچسپی لیا کرتے تھے۔ چھوٹے قد کے موٹے سے گول مٹول آدمی تھے۔ ہر وقت ہنستے ہنساتے رہتے تھے۔ لوگوں کی نقلیں اتارنے میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیٹ پر بھی ان کی ضرورت کام کے وقت نہیں بلکہ اس وقت پڑتی تھی جب کام نہیں ہوتا تھا۔ انہیں بلا کر ان سے لطیفے اور نقلیں سنی جاتیں اور مختلف شعرا کے ہو بہو انداز میں شعر پڑھنے میں مظفر نرالا کو بھی بہت مہارت حاصل تھی۔ خاص طور پر استاد قمر جلالوی کا پورا دیوان انہیں از بر تھا اور وہ خوب لہک لہک کر ان کے اشعار ان ہی کے ترنم میں سناتے تھے اور خوب داد سمیٹتے تھے۔ مظفر نرالا کا ذکر چل نکلا ہے تو کچھ تفصیل بھی سن لیجئے۔

قسط نمبر 65 پڑنے کیلئے یہاں کلک کریں
مظفر نرالا کراچی کے رہنے والے تھے۔ نقلیں اتارنے اور لطیفے سنانے میں وہ بھی کسی سے کم نہیں تھے۔ اس زمانے میں لہری صاحب بھی کراچی کی محفلوں میں مزاحیہ کرداروں کے نمونے اور چھوٹے چھوٹے خاکے پیش کیا کرتے تھے۔لیکن لہری کو جو عروج اور شہرت ملی وہ مظفر نرالا کو حاصل نہ ہو سکی۔ اس کی کچھ نہ کچھ تو وجہ ہو گی لیکن ہمارے خیال میں اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ مظفر نرالانے خود کو الگ تھلگ یعنی ریزرو نہیں رکھا جس کی وجہ سے ایک فن کار کے طور پر ان کا امیج نہ بن سکا۔ وہ میل جول میں بھی لہری کی طرح بے تکلف اور پر اعتماد نہ تھے۔دوسرا سبب تھا کہ لہری کے مقابلے میں ان کی صلاحیتیں محدود تھیں۔ وہ مخصوص قسم کے کرداروں میں ایک مخصوص انداز میں مکالمے ادا کرتے تھے۔ یعنی ان کی اداکاری میں تنوع نہیں تھا لیکن سب سے بڑی وجہ تو مقدر تھی۔ لہری کے مقابلے میں وہ مقدر کے سکندر ثابت نہ ہوئے۔ انہیں اتنے مختلف قسم کے کردار نہ مل سکے جتنے لہری کو ملے تھے لیکن اس سلسلے میں کچھ قصور خود مظفر نرالاکا بھی تھا۔ لاہور فلمی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور کراچی میں ابھرنے والے فن کار اور ہنر مند تھوڑی سی کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہی لاہور کا رخ کیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ انہیں آنے کے ساتھ ہی تو کام اور شہرت نہیں مل جاتی تھی لیکن وہ لاہور میں مستقل ٹھکانا بنا کر فلم سازوں سے میل ملاپ بڑھاتے تھے اور فلمی حلقوں میں نظر آنے لگتے تھے۔ اس طرح انہیں کام ملنے لگتا تھا اور صلاحیت کے مطابق کامیابی بھی حاصل ہو جاتی تھی۔ کراچی کے جن فنکاروں نے یہ طریقہ اپنایا وہ بہت کامیاب اور مقبول ہوئے۔ جنہوں نے کراچی ہی میں رہنے کو ترجیح دی اور گاہے بگاہے لاہور کا پھیرا لگاتے رہے وہ پیچھے رہ گئے۔
لہری صاحب کو جب احساس ہوا کہ انہیں فلمی حلقوں میں پسند کیا گیا ہے تو وہ فوراً بوریا بستر سنبھال کر لاہور آگئے اور یہیں مستقل ٹھکانا بنالیا۔ ان کے گھر والے کراچی میں تھے۔ ان کے ساتھ رہنے کے لئے لاہور بھی آتے جاتے رہتے تھے مگر لہری کا گھر لاہور ہی میں تھا۔ ہر فلم ساز جانتا تھا کہ ضرورت پڑنے پر لہری کہاں دستیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن مظفر نرالا کے ساتھ یہ معاملہ نہیں تھا۔ جب کسی فلم میں کام ہوتا تو وہ لاہور تشریف لے آتے اور اعلان کر دیتے کہ اب میں لاہور ہی میں رہوں گا۔ مگر جیسے ہی مصروفیت ختم ہوتی اور چند دن بے کاری میں بسر ہوتے تو وہ ٹکٹ کٹا کر عازم کراچی ہو جاتے۔ جن فلموں میں ان کا کام باقی رہتا تھا ان کے فلم سازوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ ہمارے ہاں فلم بندی کسی منظم منصوبہ بندی کے تحت تو ہوتی نہیں ہے۔ بس یہ ہوتا ے کہ جب ہیرو اور ہیروئن کی تاریخیں مل گئیں فوراً شوٹنگ کا بندوبست کر لیا لیکن جو فن کار کراچی چلے جاتے تھے ان سے رابطہ کرنا اور انہیں مقررہ وقت پر لاہور لانا ایک مسئلہ بن جاتا تھا۔ اس طرح فلم ساز کو پریشانی بھی ہوتی تھی اور اکثر نقصان بھی اٹھانا پڑتا تھا۔ مظفر نرالا کہا کرتے تھے کہ اگر لاہور میں رہوں گا تو کھاؤں گا کہاں سے اور بیوی بچوں کوکہاں سے کھلاؤں گا؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ ہم انہیں یہ سمجھاتے تھے کہ بھائی کچھ عرصہ تو انتظار کرنا ہی پڑے گا۔ جب فلم سازوں کو اطمینان ہو جائے گا کہ اب تم لاہور کے ہو گئے ہو تو وہ تمہیں کام دینے لگیں گے۔ ان کی اداکاری بہت اچھی تھی۔ اگر وہ لاہور میں مستقل رہتے تو یقیناً بہت معروف ہو جاتے۔ کئی بار محمد علی صاحب نے بھی یہ کوشش کی کہ مظفر نرالا کو لاہور میں رکھ لیا جائے۔ انہوں نے نرالا کو اپنے گھر میں مہمان بھی رکھا مگر جب بے کاری کا ایک مہینہ گزرا تو نرالا صاحب رسی تڑا کر کراچی روانہ ہو گئے۔
خود ہمارے ساتھ بہت تلخ تجربہ پیش آیا۔ ہماری فلم ’’آس‘‘ میں ہم نے نرالا کو ایک کردار کے لئے منتخب کیا۔ وہ فلم کے ہیرو محمد علی کے بے تکلف دوست تھے‘ شاعر تھے اور کوئی بات شعر کے بغیر نہ کرتے تھے۔ ہمیں اس کردار کے لئے نرالا بہت موزوں نظر آئے۔ ان دنوں وہ لاہور ہی آئے ہوئے تھے اور انہوں نے ہمیں یقین دلادیا کہ اب وہ لاہور ہی میں رہیں گے۔ محمد علی صاحب نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔ ان دنوں بھی نرالا محمد علی ہی کے ہاں مہمان تھے۔ فلم کا ایک سیٹ مکمل ہو چکا تو دوسرے اداکاروں کا کام شروع ہو گیا۔ نرالا صاحب ہر روز ہم سے تقاضے کرتے کہ میرا کام کب کریں گے ؟ ہم انہیں تسلی دیتے رہتے تھے۔ جب کچھ دن گزرے تو نرالا صاحب کو پھر کراچی کی یاد نے ستایا اور وہ ہم سے یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ بس تھوڑے دنوں میں واپس آجاؤں گا۔ محمد علی صاحب نے ہم سے کہا بھی کہ آفاقی اسے روک لو۔ یہ گیا تو پھر جلدی واپس نہیں آئے گا۔
مگر نرالاصاحب بولے۔ ’’آفاقی بھائی آپ کس کی باتوں میں آ رہے ہیں؟ میں تو بس دو چار دن کے بعد واپس پہنچ جاؤں گا۔‘‘
کئی دن گزر گئے مگر نرالا صاحب نہ لوٹے اس دوران میں ہماری شوٹنگ شروع ہو گئی۔ ایک سیٹ پر شبنم‘ محمد علی‘ ساقی اور نرالا کا یکجا کام تھا۔ اور سب تو موجود تھے مگر نرالا غائب تھے۔ ایک مشکل یہ تھی کہ کراچی میں ان کے گھر پر ٹیلی فون بھی نہیں تھا۔ ہم نے پہلے کراچی میں کئی لوگوں کو فون کیا جنہوں نے نرالا صاحب کا گھر ڈھونڈا اور انہیں پیغام پہنچایا پھر ان کے لئے سیٹ بک کرائی گئی۔ اس طرح دو تین دن ضائع ہو گئے ادھر ہمارے لئے ہر لمحہ قیمتی تھا اور ہم بے حد پریشان تھے۔ خداخدا کر کے نرالا صاحب لاہور پہنچے اور انہوں نے شوٹنگ میں حصہ لیا۔
بے حد شریف آدمی تھے۔ بہت معذرت کی اور یقین دلایا کہ اگلی بار یہ مشکل پیش نہیںآئے گی مگر دودھ کا جلا چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد چند روز وہ لاہور میں کام کی تلاش میں ٹھہرے اور پھر کراچی رخصت ہو گئے۔ انہی وجوہات کی بنا پر مظفر نرالا کو وہ شہرت اور کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اچھے انسان اور بہت اچھے فن کار تھے۔ بہت شریف اور مرنجان مرنج آدمی تھے۔ شعرو ادب کے دلدادہ تھے۔ ان کی گفتگو بہت مزیدار ہوتی تھی جس میں مزاح سے زیادہ ادبی چاشنی ہوتی تھی۔ انہیں بے شمار اشعار یاد تھے۔ باتوں باتوں میں کسی شاعر کاذکر لے کر بیٹھ جاتے اور پھر شعر و شاعری کا آغاز ہو جاتا۔ مظفر نرالا میں ہم نے کوئی بری عادت نہیں دیکھی۔ سوائے اس کے کہ پان بہت کھاتے تھے۔ ان کے منہ میں ہروقت پان بھرا رہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بولتے تھے تو بہت سی باتیں صاف طور پر سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ ان کے ہونٹ ہمیشہ سرخ ہی نظر آتے تھے۔ کوئی اس طرف توجہ دلاتا تو کہتے ’’حضرت‘ یہ تو خون دل ہے۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ انہیں فراغت اور خوش حالی کے دن کبھی دیکھنے نصیب نہیں ہوئے ان کی گھریلو زندگی کے بارے میں بھی بہت کم معلومات تھیں۔ وہ اس موضوع پر بات کرنے سے احتراز کرتے تھے۔ انہیں مزاحیہ اداکاری میں جو مقام حاصل کرنا چاہیے تھا وہ اس تک نہ پہنچ سکے۔کچھ عرصہ قبل کراچی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ فلمی دنیا ایک اچھے فن کار سے محروم ہو گئی۔ مگر فلمی دنیا کے لئے تو وہ کافی زمانہ پہلے ہی مرحوم ہو چکے تھے۔ اول تو انہیں فلموں میں کم ہی کام ملتا تھا مگر جب پنجابی فلموں کا سیلاب آیا تو وہ اور ان جیسے بہت سے اداکار اس ریلے میں بہہ گئے۔ نرالا خود بھی شعر کہتے تھے اگرچہ وہ اس راز کوا فشا نہیں کرتے تھے۔
ہم نے ایک بار کہا ’’ نرالا صاحب‘ ہمیں کوئی بتا رہا تھا کہ آپ بھی شاعر ہیں۔ شعر کہتے ہیں۔‘‘
کہنے لگے ’’حضور ! افسوس ہے کہ آپ کو یہ بات کسی کے بتانے سے معلوم ہوئی۔ آپ نے خود محسوس نہیں کیا کہ آخر یہ ’’ نرالا ‘‘ کیا بلا ہے ؟‘‘
’’ تو پھر کوئی شعر سنائیے ؟‘‘
بولے ’’ اب تو دوسروں کے اشعار سنانے کی اتنی عادت پڑ گئی ہے کہ اپنا کوئی شعر یاد ہی نہیں آتا۔ ‘‘
تذکرہ قمر زیدی اور فلم ’’ گلنار ‘‘ کا ہو رہا تھا اور درمیان میں مظفر نرالا آن کودے۔ قمر زیدی باغ و بہار شخصیت تھے جن کے متعلق شوکت تھانوی مرحوم کہا کرتے تھے کہ یہ باغ ہی باغ ہیں۔ بہار سے ابھی تک محفوظ ہیں۔ مگر قمر زیدی کو دوسروں کی فقرہ بازی کی زیادہ پرواہ نہیں تھی۔ اگر کوئی ان پر فقرہ چست کرتا وہ اس کا بدلہ اس شخص کی نقل اتار کر ادا کردیا کرتے تھے۔ سوجھتی انہیں بھی خوب تھی۔ نقل تو اصل کے مطابق کرتے ہی تھے مگر اس میں اپنی طرف سے بھی اضافہ کر دیتے تھے۔
قمر زیدی کے بارے میں جب ایک دن انکشاف ہوا کہ وہ کسی کے عشق میں گرفتار ہیں تو سب کو اس لڑکی سے ہمدردی پیدا ہو گئی۔
’’ بھئی وہ کون بد نصیب ہے اور اسے تم نے بتایا بھی ہے یا نہیں ؟‘‘
پہلے تو وہ شرماتے رہے پھر اعتراف محبت کر لیا۔ معلوم ہوا‘ وہ ایک معاون اداکارہ شاہانہ کی محبت میں گرفتار ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق شاہانہ بھی ان کو پسند کرتی تھی۔
شاہانہ کے بارے میں سنتے ہی ہر ایک کو اسے دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہو گیا۔ ہم شاہ نور اسٹوڈیو گئے تو خاص طور پر قمر زیدی سے دریافت کیا کہ شاہانہ کون ہے۔ کہاں ہے ؟
انہوں نے شرما کر جواب دیا۔’’ ابھی سیٹ پر ان کا کام نہیں ہے۔ آؤ تمہیں ان سے ملواتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ ہمیں سیٹ سے باہر لے گئے۔ شاہ نور اسٹوڈیو کے درمیانی بڑے لان میں سایہ دار درختوں کی چھاؤں میں سیمنٹ کی ایک بینچ پر شاہانہ اپنی بہن کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ قمر زیدی نے ان سے ہمارا تعارف کرایا اورخوب بڑھا چڑھا کر بتایا کہ ہم کیسے صحافی ہیں۔(جاری ہے)

قسط نمبر 67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)