سعودی عرب میں لاکھوں غیر ملکی انتہائی سنگین مشکل میں پھنس گئے، سعودی حکومت کے بعد اب ایک ایسی چیز پیچھے پڑگئی کہ کسی نے خوابوں میں بھی نہ سوچا تھا

عرب دنیا

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اب تک تو سعودی حکومت ہی تارکین وطن پر مختلف قسم کی قدغنیں لگا رہی تھی لیکن اب ایک ایسی چیز بھی غیرملکی ورکرز کے پیچھے پڑ گئی ہے کہ جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق اب کی بار ہیکرز تارکین وطن کے لیے وبال جان بن گئے ہیں جن کے سعودی کمپیوٹر نیٹ ورک پر حملے کی وجہ سے گزشتہ دو ہفتوں سے وزارت محنت و سماجی ترقی کا نیٹ ورک مفلوج پڑا ہے اور تارکین وطن کے اقاموں کی تجدید کا کام معطل ہو چکا ہے۔جن لوگوں کے اقامہ کی تجدید نہیں ہو رہی بینکوں نے ان کے اکاﺅنٹ بھی منجمد کر دیئے ہیں اور وہ رقم نکلوانے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں اور کسمپرسی کے دن گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

”جو بھی کفیل یہ کام کرے گا وہ ایک بھی غیر ملکی کو نوکری پر نہیں رکھ سکے گا“ سعودی حکومت نے انتہائی خطرناک اعلان کردیا، نئی مشکل کھڑی کردی
رپورٹ کے مطابق سعودی نیٹ ورک پر ہیکرز کا یہ حملہ 23جنوری کو ہوا تھا لیکن تاحال وزارت کا نیٹ ورک بحال نہیں کروایا جا سکا۔ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں تارکین وطن ضلعی دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں اور صرف یہ پوچھ کر واپس روانہ ہو جاتے ہیں کہ نیٹ ورک کب بحال ہو گا۔ایک تارک وطن کاکہنا تھا کہ ”ہم دفتر میں جاتے اور پوچھتے ہیں کہ نیٹ ورک کب بحال ہو گا تو برانچ آفس کا منیجر جھلاہٹ کے ساتھ ہاتھ میز پر مارتا ہے اور کمپیوٹر کی سکرین کا رخ ہماری طرف کر دیتا ہے اور ہم سیاہ سکرین دیکھ کر واپس آ جاتے ہیں۔ ہم گزشتہ 9دن سے اس کے کمپیوٹر کی سیاہ سکرین ہی دیکھ رہے ہیں۔اس سے پوچھیں کہ یہ مسئلہ کب حل ہو گا تو وہ کہتا ہے شاید ایک دن، ہفتے ، مہینے یا ایک سال میں۔“