سعودی عرب میں وہ چیز جو پوری دنیا کی نسبت سب سے سستی ملتی تھی اب اتنی مہنگی ہونے والی ہے کہ جان کر لوگوں کے پیروں تلے سے واقعی زمین نکل جائے، ملک میں مقیم لوگوں کا خرچہ بے حد بڑھنے والا ہے کیونکہ۔۔۔

عرب دنیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں کئی دہائیوں تک صارفین کو پٹرول انتہائی سستا اور فراوانی کے ساتھ دستیاب رہا، اتنا سستا کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، مگر گزشتہ دو سال کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے سے صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ اقتصادی بحران کے پیش نظر سعودی عرب میں پہلی بار 2015 میں ایندھن کی قیمت میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا، لیکن اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ قیمتوں میں اکٹھا 30 فیصد اضافہ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
گلف نیوز نے انڈسٹری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 30فیصد اضافہ جولائی میں کیا جاسکتا ہے، جو کہ مملکت میں ایندھن کی قیمتوں کو بین الاقوامی قیمتوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا جارہا ہے۔ دسمبر 2015ءمیں 95 اوکٹین گیسولین کی فی لیٹر قیمت 0.60 ریال سے بڑھا کر 0.90 کردی گئی، لیکن اس کے باوجود سعودی عرب میں پٹرول کی قیمت دنیا میں کم ترین سطح پر تھی۔ اب یہ بتایا جارہا ہے کہ حکومت 2020ءتک مقامی قیمتوں کو بین الاقوامی سطح تک لانے کی خواہش رکھتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومتی خزانے سے دی جانے والی سبسڈی کا بوجھ کم کرنا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کابہتر استعمال ہو گا اور اس کی زیر استعمال مقدار میں بھی کمی آئے گی۔

سعودی عرب میں پہلی دفعہ خاتون پروفیسر کو ڈین متعین کر دیا گیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بھی غالباً متحدہ عرب امارات کی مثال کی تقلید کرتے ہوئے ایندھن کی مقامی قیمتوں کو بین الاقوامی قیمتوں سے منسلک کرے گا۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر لوگوں نے پہلے ہی کم درجے کے ایندھن کی جانب منتقلی شروع کردی ہے، اور جنہوں نے ابھی نہیں کی وہ متوقع طور پر اسی سال کے دوران کم درجے کے ایندھن کی جانب منتقل ہوجائیں گے۔