داعش میں شمولیت کی کوشش میں پکڑے جانے والے سعودی مرد نے عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ جج بھی ہکا بکا رہ گیا، کیا سمجھ کر ان کے کیمپوں میں ٹریننگ کرتا رہا؟ جان کر آپ کی ہنسی نہ رُکے گی

عرب دنیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے دہشت گرد جب پکڑے جاتے ہیں تو جان بچانے کے لئے طرح طرح کے ہیلے بہانے کرنے لگتے ہیں۔ یہ مجرم اکثر اپنے جرائم کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں لیکن شاید ہی کبھی کسی دہشت گرد نے ایسا دلچسپ و عجیب بہانہ بنایا ہو جو سعودی عرب کی ایک عدالت میں پیش کئے جانے والے ایک دہشت گرد نے بنایا۔

داعش کی قید میں اس نوجوان لڑکی نے اپنے آپ کو خود ہی آگ لگالی، ایسا کیوں کیا؟ فرار کے بعد ایسی وجہ بتادی کہ سن کر آپ کا دل بھی خون کے آنسو روئے گا
اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کو افغانستان میں شدت پسند تنظیم داعش کے ایک ٹریننگ کیمپ میں تربیت حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جب یہ عدالت میں پیش ہوا تو کہنے لگا کہ اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ دہشت گردوں کا کیمپ ہے، وہ تو اسے ایک فٹنس کیمپ سمجھتا رہا، جس کا مقصد موٹے لوگوں کو چست و توانا بنانا تھا اور یہی سوچ کر اس کا حصہ بن گیاکہ اپنا موٹاپا ہی کچھ کم کر لے۔
ملزم دہشت گرد کا یہ بیان سن کر عدالت میں ہر کوئی ہکا بکا رہ گیا۔ اگرچہ اس شخص نے انتہائی معصوم بننے کی کوشش کی، لیکن سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ داعش کے کیمپ میں دہشت گردی کی تربیت مکمل کرچکا تھا اور عنقریب عملی کارروائیوں کا آغاز کرنے والا تھا۔