’خلیجی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ قطر شام کی جنگ کے بعد۔۔۔‘ قطر اور عرب ممالک کی لڑائی کے پیچھے چھپی وہ اصل وجہ جو آپ کو معلوم نہیں

عرب دنیا

دوحہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب سمیت پانچ عرب ممالک نے قطر کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو ساری دنیا دنگ رہ گئی۔ یہ تنازعہ جتنا حیران کن ہے اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی اس کی ایک وجہ بیان کرتا ہے تو کوئی دوسری۔ اس گومگو کے عالم میں معروف صحافی رابرٹ فسک نے اصل حقیقت دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔
دی انڈی پینڈنٹ میں شائع ہونے والے خصوصی مضمون میں رابرٹ فسک لکھتے ہیں ” اگر ذرا غور سے دیکھیں تو پتہ چلتاہے کہ قطر اور شام کی بشارالاسد حکومت کے درمیان خاموش رابطے ہیں۔ خلیجی ممالک میں یہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ شام کی جنگ ختم ہونے کے بعد قطر اس ملک کی تعمیر نو کرنا چاہتا ہے۔ بشارالاسد صدارت کے عہدے پر فائز رہے بھی تو بھاری قطری قرضوں کی وجہ سے شامی معیشت قطر کے زیر اثر آجائے گی۔ یوں قطر کو الجزیرہ کی طاقت کے علاوہ ایک بڑے عرب ملک کی سرزمین پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کا موقع بھی مل جائے گا ۔ یہ صورتحال طاقتور خلیجی ممالک کے لئے ناقابل قبول ہے اور یہی تنازعے کی اصل جڑ ہے۔ “
رابرٹ فسک مزید لکھتے ہیں کہ قطر کا بحران دوچیزیں ثابت کر تا ہے: عرب ریاستوں کا نہ ختم ہونے والا بچگانہ پن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے موقع پر نظر آنے والے ظاہری سنی مسلم اتحاد کا خاتمہ۔ ایران کے خلاف لڑنے کے عزم کا اظہار کرنے کے بعد اب سعودی عرب اور اس کے ساتھی اپنے امیر ترین ہمسایوں میں سے ایک یعنی قطر کو دہشت کا منبع قرار دے کر اس پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
قطر کے شہریوں نے یقینا داعش میں کچھ حصہ ڈالا ہے لیکن اسی طرح سعودی شہریوں نے بھی کیا ہے۔ نائن الیون کی دہشت گردی کرنے والوں کا تعلق قطر سے نہیں تھا ان میں سے غالب اکثریت کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ بن لادن بھی قطری نہیں تھے وہ سعودی تھے۔
اب دیکھئے یمن بھی قطر کے ساتھ فضائی رابطہ منقطع کر رہا ہے یہ تو بیچارے قطری امیر شیخ تمیم بن حماد السانی کیلئے بہت بڑا جھٹکا ہو گا۔ سعودی اور اماراتی بمباری کے نتیجے میں یمن کے پاس ایک بھی قابل استعمال جہاز نہیں بچا ہو گا جس کے ذریعے فضائی رابطہ پیدا کیا جا سکے، توڑنا تو دور کی بات ہے۔
مالدیپ نے بھی قطر کے ساتھ تعلقات ختم کر دیئے ہیں۔ یقینا اس کا سعودی عرب کی جانب سے 30 کروڑ ڈالر (تقریباً 30 ارب پاکستانی روپے) کے حالیہ پانچ سالہ قرض اور ایک سعودی پراپرٹی کمپنی کی جانب سے 10کروڑ ڈالر (تقریبا10 ارب پاکستان روپے)کی مالدیپ میں سرمایہ کاری اور سعودی اسلامک سکالر کی جانب سے مالدیپ کی ایک مسجد پر 1لاکھ ڈالر (تقریباً 1 کروڑ پاکستانی روپے) خرچ کرنے جیسے وعدوں کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور شائد ان شدت پسندوں کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہیے جو عراق اور شام میں داعش کیلئے لڑنے کی خاطر مالدیپ سے آئے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سارا معاملہ قطری نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ کی ہیکنگ سے شروع ہوا جس پر ایران کی حمایت میں قطری امیر کا بیان شائع ہوا تھا۔ قطر نے اس رپورٹ کی تردید کی لیکن سعودی عرب نے اسے سچ قرار دیا۔ اب سعودی عرب یہ دکھانا چاہتا تھا کہ خلیج میں پالیسی وہ طے کرتا ہے ناکہ چھوٹا سا ملک قطر۔
لیکن سعودیوں کیلئے کچھ اور پریشان کن باتیں بھی ہیں۔ کویت نے قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کی بجائے تنازعہ کے حل کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں ۔ دبئی ایران کے بہت قریب ہے اور یہاں لاکھوں ایرانی تارکین وطن بھی موجود ہیں۔ یہ ابوظہبی کی طرح ایران پر غضب کا اظہار نہیں کر رہا۔ اومان چند ماہ قبل ایران کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں کر رہا تھا ۔ پاکستان نے پہلے ہی سعودی عرب کی خاطر یمن کی جنگ میں کودنے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سعودی عر ب نے صرف ایک مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے فوجی مانگے تھے جس پر پاکستان سخت تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ یہ تو پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عسکری اتحادکی سربراہی سے استعفیٰ دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ سعودی عرب سے بھاری امداد لینے والا مصر بھی یمن کی جنگ کیلئے اپنے فوجی دینے پر تیار نظر نہیں آتا ۔