’غیر ملکی ملازمین بلا روک ٹوک اپنا کفیل تبدیل کرسکتے ہیں اگر۔۔۔‘ سعودی حکومت نے بڑا اعلان کردیا، غیر ملکی ملازمین کو خوشخبری سنادی

عرب دنیا

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی وزارت محنت و سماجی ترقی نے غیر ملکی محنت کشوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس بات کے ثبوت مل جائیں کہ کفیل کسی گھریلو ملازم کی تنخواہ مسلسل تین ماہ سے تاخیر سے ادا کر رہاہے یا تین مختلف اوقات پر تنخواہ تاخیر سے دی گئی ہے تو ملازم کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنا کفیل تبدیل کرلے۔
عرب نیوز کے مطابق وزیر محنت علی بن ناصر الغافس نے 13 مختلف صورتوں میں کفیل کی تبدیلی کے متعلق وزارتی فیصلہ جاری کیا ہے۔ وزارت کے ترجمان خالد اباالخیل کا کہنا تھا کہ ان صورتوں میں سے ایک تنخواہ کی ادائیگی میں تاخیر ہے۔ یہ تاخیر تین ماہ مسلسل ہو یا تین مختلف اوقات پر کی گئی ہو، ہر دو صورتوں میں ملازم کو حق حاصل ہے کہ وہ کفیل تبدیل کرلے۔

’اب اس کام کے بھی حکومت کو پیسے ادا کرنا پڑیں گے‘ سعودی عرب نے غیرملکی ورکروں کیلئے نیا اعلان کردیا، سب کو شدید پریشان کردیا
اسی طرح کفیل اپنے ملازم کو پورٹ آف انٹری پر وصول کرنے کیلئے موجود نہیں ہے یا 15 دن کے دوران اسے شیلٹر ہاﺅس سے اسے نہیں لیجاتا تو ایسی صورت میں بھی کفیل کی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ دیگر صورتوں میں کفیل کی جانب سے اقامے کے حصول میں ناکامی یا اقامہ ایکسپائر ہونے کے 30 دن کے اندر اس کی تجدید نہ کروانا شامل ہے۔
ملازم کی مرضی کے بغیر اس کی خدمات کسی اور کفیل کے حوالے کرنے، ملازم کو دوسرے درجے کے رشتہ داروں کی خدمات پر مجبور کرنے، یا ملازم کو ایسے کام پر لگانے سے کہ جس میں اس کی صحت و سلامتی کو خطرہ ہو، کفیل کی تبدیلی کی اجازت ہے۔ کفیل کے تشدد کا نشانہ بننے والے ملازمین کو بھی قانون حق دیتا ہے کہ وہ اپنا کفیل تبدیل کرلیں۔ کفیل کے موجود نہ ہونے، سفر پر جانے یا وفات کی صورت میں ملازم کو تین ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی نہ ہو تو اس صورت میں بھی اسے نئے کفیل کے ہاں ملازمت کی اجازت ہوگی۔ مزید یہ کہ شیلٹر ہاﺅس میں ملازم کے قیام کے اخراجات اور کفیل کی تبدیلی کے اخراجات نیا کفیل ادا کرے گا۔