سعودی عرب میں حراست میں ہونے کے باوجود ولید بن طلال نے اپنی دو ایسی عمارتیں فروخت پر لگا دیں کہ سن کر ولی عہد محمد بن سلمان بھی دنگ رہ جائیں گے

عرب دنیا

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن )سعودی شہزادے ولید بن طلال نے حراست کے دوران ہی لبنان میں اپنے دو ہوٹلز فروخت کیلئے لگا دیئے ہیں ۔
ڈیلی میل کے مطابق پرنس ولید بن طلال دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں اور انہیں گزشتہ ہفتے میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خلاف سعودی عرب میں حراست میں لیا گیاہے جبکہ دیگر شہزادے اور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں تاہم اب اطلاعات سامنے آئیں ہیں کہ ولید بن طلال نے لبنان کے دارلحکومت میں واقع ’فور سیزنز ‘اور ’مون پک ‘ ہوٹل فروخت کیلئے لگا دیے ہیں ۔لبنان کے اخبار ڈیلی سٹار کا کہناہے کہ لبنان کا ایک بینک ان کے اثاثوں کی فرخت کیلئے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ خریداروں کی تلاش کر رہاہے اور یہ کام ایک ماہ یا اس سے کم وقت میں مکمل کر لیا جائے گا ایک بار یہ کام مکمل کر لیا گیا تو اس کا عوامی سطح پر اعلان کیا جائے گا ۔
واضح رہے کہ پرنس الولیدنے فوکس اور نیوز کارپوریشن میں موجود اپنے شیئر فروخت کردئیے تھے اور یہ میڈیا انڈسٹری کی سب سے بڑی خبر ہے۔ سعودی شہزادہ گزشتہ دو دہائیوں سے روپرٹ مرڈوک کے سب سے بڑے شراکت دار تھے۔ سعودی عرب میں گرفتار 11شہزادوں اور 38سابق وزراءکے بینک اکاﺅنٹص بھی منجمد کر دیئے گئے ہیں ۔ان تمام افراد کو ریاض کے فائیو سٹار ہوٹل میں حراست میں رکھا گیاہے ۔