سعودی عرب کو 33 ارب ڈالر کی فوری ضرورت کیوں پڑگئی اور شہزادوں کی گرفتاری کا اس سے کیا تعلق ہے؟ سب سے حیران کن دعویٰ سامنے آگیا، یہ تو کسی نے سوچا ہی نہ تھا کہ۔۔۔

عرب دنیا

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف اچانک شروع ہونے والے کریک ڈاﺅن کے دوران درجن بھر شہزادوں اور وزراءسمیت سینکڑوں دولتمند شخصیات کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس غیر متوقع پیش رفت نے دنیا کو حیران کر ڈالاہے۔ کوئی اسے واقعی کرپشن کے خلاف کاروائی قرار دے رہا ہے تو کوئی پس پردہ دیگر مقاصد کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تھنک ٹینک ’بروکنگز انسٹی ٹیوشن‘ کے انٹیلی جنس پراجیکٹ کے ڈائریکٹر اور عنقریب شائع ہونے والی کتاب ’کنگز اینڈ پریذیڈنٹس‘ کے مصنف بروس ریڈل نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک اور حیران کن پہلو کی جانب اشارہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ” (سعودی)مملکت اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باعث اس کی معیشت رکی ہوئی ہے، یمن کی جنگ ایک دلدل کی صورت اختیار کرچکی ہے، قطر کا مقاطعہ مﺅثر نہیں، ایران کا اثر و رسوخ لبنان، شام اور عراق میں عام ہے، اور جانشینی ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ یہ سعودی تاریخ کا نازک ترین دور ہے۔“
بروس ریڈل کے مطابق اقتصادی مسائل داخلی و خارجی حالات کے باعث سنگین ہو رہے ہیں اور مملکت اربوں ڈالر کے حصول کے لئے کوشاں ہے تا کہ اقتصادی، اور اس کے نتیجے میں متوقع سیاسی بحران کو ٹالا جا سکے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ سعودی عرب معاشی مسائل کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور اس سے پہلے باراک اوباما، کے ساتھ کئے گئے ہتھیاروں کی خریداری کے معاہدوں کو پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، جبکہ یمن کی جنگ پر ہونے والے اخراجات بھی اپنے منفی اثرات دکھارہے ہیں۔ یہ ملک معاشی بحران کا سامنا کررہا ہے جیسا کہ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے ”بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے جولائی میں واضح کیا کہ مملکت کا بحران رواں سال اس کے جی ڈی پی کا 9.3فیصد ہوگا۔ بیروزگاری کی شرح 12.3 فیصد ہے۔ تیل کی کم قیمتیں جی ڈی پی کی مجموعی شرح نمو کو تقریباً صفر رکھیں گی۔“ بروس ریڈل کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ مملکت کی کچھ اہم ترین شخصیات ا س کریک ڈاﺅن کی زد میں آئی ہیں، جس کا نتیجہ 33ارب ڈالر (تقریباً 33 کھرب پاکستانی روپے) کے حصول کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔