سعودی عرب نے بڑے اسلامی ملک کے ائیرپورٹ پر بم برسا دئیے

عرب دنیا

صنعاء(ڈیلی پاکستان آن لائن) یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی فوجی اتحاد پر ملک کے مرکزی ائیرپورٹ پر حملہ کر کے نیوی گیشن سٹیشن کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ یہ ائیرپورٹ ملک میں آنے والی محدود امداد کیلئے انتہائی اہم تھا۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”بری صحبت میں گھرے اس لڑکے کے کپڑے گندے اور جوتے پھٹے ہوئے تھے ،میں نے غورسے دیکھا تو وہ پاکستان کا یہ معروف ترین باولر تھا“عاقب جاوید کس کرکٹر کو اس حال سے کھیل کے میدان میں واپس لے آئے ؟جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی
حوثی حکام نے غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کو بتایا کہ منگل کے روز دو فضائی حملوں میں باغیوں کے زیر قبضہ صنعاءکے انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، اس حملے کے باعث ائیرپورٹ امدادی پروازوں کیلئے ناقابل استعمال ہو گیا ہے جبکہ ملک میں انسانی حقوق سے متعلق کی جانے والی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
ایک حوثی باغی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”اس حملے کا مقصدزیادہ سے زیادہ نقصان پہچانا اور لاکھوں یمنیوں کو اس خوراک اور دواﺅں سے محروم کرنا تھا جو ان کی زندگی کیلئے ضروری ہیں۔“
سعودی فوجی اتحاد نے اگست 2016ءمیں صنعاءانٹرنیشل ائیرپورٹ کو بند کروایا تھا اور اس کے بعد سے اقوام متحدہ کی جانب سے آنے والی امدادی پروازیں ہیں اس ائیرپورٹ کو استعمال کرتی تھیں۔
حوثی باغیوں کی جانب سے سول ایوی ایشن کیلئے بنائی گئی جنرل اتھارٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”فضائی حملوں کے باعث VOR/DME ریڈیو نیوی گیشن سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
نیوی گیشن سسٹم تباہ ہونے سے صنعاءائیرپورٹ پر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی آرگنائزیشنز کی جانب سے آنے انسانی بنیادوں پر آنے والی امدادی پروازیں بھی رک گئی ہیں۔ یہ حملہ بین الاقوامی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔“

یہ بھی پڑھیں۔۔۔جج سزا نہیں دے گا بلکہ سزا دلوائی جا رہی ہے: نواز شریف

یمن کیلئے اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر جارج خوری نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ فکرمند ہیں کہ منگل کے روز ہونے والے فضائی حملے ملک میں جاری امدادی آپریشنز پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”لاکھوں یمنی امداد کیلئے اس ائیرپورٹ پر انحصار کرتے ہیں اور سینکڑوں افراد پر مشتمل ہمارا سٹاف ملک میں امداد لانے اور لے جاتا ہے۔ ہم تاحال حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔۔۔ لیکن فضائی حملے سے سپلائی پائپ لائن کیلئے پیدا ہونے والے رسک پر فکرمند ہیں۔ “