سعودی عرب کا وہ علاقہ جہاں خواتین ہر کام میں مَردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور کھلم کھلا گاڑی بھی چلاتی ہیں، جانئے اس جگہ کے بارے میں جس کا باہر کی دنیا کے بہت کم لوگوں کو معلوم ہے

عرب دنیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کے جدید اور بڑے شہروںمیں توبیچاری خواتین تاحال ڈرائیونگ کا صرف خواب ہی دیکھ سکتی ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اثیر قبائل کی دیہاتی خواتین کاریں دوڑاتی پھرتی ہیں۔ یہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہر کام میں شامل ہوتی ہیں اور انہیں گاڑی چلانے کی کھلی آزادی ہے۔ یہ صرف گھریلو کاموں اور کاشتکاری سے ہی وابستہ نہیں ہیں بلکہ تعلیمیافتہ بھی ہیں اور ان کی بڑی تعداد اپنے ذاتی کاروبار بھی چلارہی ہے۔

’میری پہلی بیوی تو ہمیشہ۔۔۔‘ 2 شادیوں کے بعد سعودی بوڑھے نے تیسری نوجوان دلہن لانے کیلئے ایسی شرمناک حرکت کردی کہ خبرسامنے آنے پر ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق یہاں کے ایک گاﺅں کی رہائشی خاتون نورا الصباعی نے بتایا کہ وہ جب بھی ہمسایہ گاﺅں میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے جانا چاہتی ہے تو اپنے خاوند کی کار لے کر روانہ ہو جاتی ہے۔ نورا کی طرح یہاں کی خواتین کی بڑی تعداد ڈرائیونگ میں ماہر ہے اور جب بھی انہیں ضرورت پیش آتی ہے وہ گاڑی چلاتی ہیں۔
ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کرنل طارق الرباعیان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ان دیہاتوں کی خواتین گاڑی چلاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ یہ خواتین دیہاتوں میں ہی ڈرائیونگ کرتی ہیں، شہر نہیں جاتیں۔


رپورٹ کے مطابق مملکت کے جنوبی علاقوں میں عمومی رجحان پایا جاتا ہے کہ خواتین ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ رہتی ہیں۔ اثیر قبائل کی خواتین اس حوالے سے خصوصی طور پر ممتاز ہیں کہ وہ عام دیہاتی خواتین کی طرح محنتی اور پراعتماد ہونے کے علاوہ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور ڈرائیونگ بھی کرتی ہیں۔