سعودی ہسپتال میں اس پاکستانی کو آپ کی مدد کی شدید ضرورت ہے، اس کی کہانی کیا ہے اور اس حالت کو کیسے پہنچا؟ جان کر آپ کیلئے آنسوﺅں پر قابو رکھنا ناممکن ہوجائے گا

عرب دنیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) رزق حلال کی تلاش میں دیار غیر جانے والوں پر جب غریب الوطنی میں کوئی مصیبت آن پڑتی ہے تو بیچاروں کی کسمپرسی کا کیا عالم ہوتا ہے اس کا اندازہ آپ سعودی عرب کے ایک ہسپتال میں سسکتے پاکستانی خاندان کی دردناک داستان سے بخوبی کر سکتے ہیں۔
سید جاوید ذاکر کراچی سے تعلق رکھنے والے مکینیکل انجینئر ہیں۔ وہ سعودی عرب کی ایک بڑی انڈسٹریل پروڈکشن کمپنی کیلئے کام کرتے تھے لیکن 8نومبر 2016ءکے دن وہ اچانک اپنی ڈیوٹی کے دوران بیہوش ہوکر گر گئے۔ انہیں ہسپتال لیجایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ دماغ کے فالج کا نشانہ بنے تھے اور ان کا عصبی نظام شدید متاثر ہوا تھا۔

’اس پاکستانی سے شادی کرنے کیلئے میں مسلمان ہوگئی، پھر شادی کے 7 سال بعد ایک دن وہ ہماری 3 بیٹیوں کو پارک لے کر گیا اور کبھی واپس نہ آیا، چند دن بعد ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا کہ۔۔۔‘ یورپی لڑکی کے ساتھ پاکستانی شہری نے ایسا کام کردیا کہ جان کر آپ کی بھی آنکھیں نم ہوجائیں
سید جاوید ذاکر 56 سال کی عمر میں بھی انتہائی چاق و چوبند اور محنتی شخص تھے لیکن بیماری کا ایسا حملہ ان پر ہوا ہے کہ چھ ماہ سے ہسپتال میں بے حس و حرکت پڑے ہیں۔ ہاتھ پیر تو دور کی بات وہ اپنی آنکھوں کو بھی حرکت نہیں دے سکتے اور کسی کو بھی پہچاننے کے قابل نہیں رہے۔
ان کی اہلیہ اور دو بچوں کیلئے ایک اور اندوہناک خبر اس وقت آئی جب تین ماہ قبل ان کے کفیل نے ان کے تنخواہ بند کردی۔ ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے خاوند کی تنخواہ ہی ان کا واحد مالی سہارا تھا، جس کی عدم موجودگی میں وہ بچوں کی فیس ادا نہیں کرپارہی ہیں، گھر کا کرایہ ادا کرنا اور حتیٰ کہ کھانے کا انتظام کرنا بھی ناممکن ہوگیا ہے۔ سید جاوید ذاکر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ماہ میں ان کی انشورنس کوریج اور اقاموں کی مدت بھی ختم ہوجائے گی اور تب ان کا اور ان کے بچوں کا کیا حال کیا ہو گا خدا ہی بہتر جانتا ہے۔