سعودی حکومت نے ریزیڈنسی اور لیبر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک چھوڑنے کیلئے3ماہ کا وقت دیدیا

عرب دنیا

جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن )سعودی وزارت داخلہ نے ریزیڈنسی اور لیبر قانون کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنے کیلئے 3ماہ کا وقت دیدیا۔ 

عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے ریزیڈنسی اور لیبر قانون کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کوجرمانوں کے بغیر 90روز میں ملک چھوڑنے کیلئے ”اے نیشن ودآﺅٹ وائیلیشنز “ کے نام سے مہم کا آغاز کر دیا ۔
شہزادہ محمد بن نافع ، ولی عہد ، نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 29مارچ سے شروع ہونے والی اس 90روزہ توسیع سے فائدہ اٹھاکر اپنا سٹیٹس درست کرانے اور حکومت کی جانب سے فراہم کر دہ اس تعاون کو بروئے کار لانے کی ترغیب دی۔

سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ، تحریک انصاف کی امیدوں پر پانی پھر گیا

ولی عہد نے حکام کو ہدایت کی کہ اس متعینہ مدت میں ملک چھوڑنے والوں کیلئے طریقہ کار کو آسان بنانے اور انہیں پابندیوں سے مستثنیٰ کرنے میں مدد کریں ۔
وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور ال ترکی نے کہا کہ 19حکومتی ایجنسیاں اس مہم میں معاونت کریں گی اور حج یا عمرہ کے ویزٹ کے دوران سعودی عرب میں مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرنے یا دیگر اقسام کے ویزے رکھنے والے اس فیصلے میں آئیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے طریقہ کار طے کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی طریقے سے سرحدوںپار کرنے والوں کورہائش یا ورک پرمٹ نہ دیا جا سکے تاہم ایسے افراد کو سفری پرمٹس جاری کیے جائیں گے اور اس حوالے سے جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے پاسپورٹس و امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے خلاف ورزیاں کرنے والوں کو ملک بدر کرنے کیلئے تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں ۔

سپریم کورٹ نے سابقہ دور حکومت میں سامنے آنے والے حج کرپشن کیس کا فیصلہ سنا دیا 

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب میں شناختی کارڈز کے بغیر حج ویزے پر مقررہ مدت سے زیادہ وقت تک قیام کرنے والے افراد طریقہ کار مکمل کرنے کیلئے اپنے قریبی پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ جا کر تعاون حاصل کر سکتے ہیں ۔
انہوں نے شہریوں کو تلقین کی کہ ایسے افراد کو نوکریاں نہ دیں جنہوں نے ریزیڈنسی یا ورک پرمٹ کی خلاف ورزی کی ہو اور نہ ہی انکا تحفظ کریں بلکہ 999پر کال کر کے ایسے افراد کی اطلاع حکومت کو دیں ۔
ال ترکی کا کہنا تھا کہ 90روز پورے ہونے کے بعد قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کوبھاری جرمانے کیے جائیں گے ۔”اسی قسم کی مہم تین سال قبل بھی شروع کی گئی تھی جس کے تحت 25لاکھ افراد کو بے دخل کیا گیاتھا “۔