وہ نوجوان سعودی لڑکی جو گزشتہ ہفتے جبری شادی سے بچنے کیلئے ملک سے بھاگ نکلی لیکن سعودی حکام فلپائن سے پکڑکر واپس لے آئے، اب یہ کہاں اور کس حال میں ہے؟ جان کر کوئی بھی پریشان ہوجائے

عرب دنیا

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں دینا علی (Dina Ali)نامی ایک سعودی لڑکی پناہ کے لیے آسٹریلیا جا رہی تھی جسے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں روک کر سعودی سفارت خانے کے حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اب دینا کے متعلق نئی معلومات سامنے آ گئی ہیں۔ بلومبرگ نے سعودی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس وقت دینا سعودی عرب کی ایک خواتین کی جیل میں ہے اور حکام اس کے کیس کو حل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ’دینا قید نہیں ہے بلکہ اس کو حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے، تاکہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘

زبردستی شادی سے بچنے کیلئے نوجوان سعودی لڑکی گھر سے بھاگ نکلی لیکن جیسے ہی جاکر جہاز میں سوار ہوئی تو ایسا منظر کہ زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگ گیا، وہ کام ہوگیا جس کا کبھی خوابوں میں بھی تصور نہ کیا تھا
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ”حکام دینا کے کیس کا کوئی مناسب حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ دوبارہ نارمل زندگی گزار سکے۔“ واضح رہے کہ دینانے پناہ کے لیے آسٹریلیا میں درخواست دے رکھی تھی۔ آسٹریلیا جاتے ہوئے اسے منیلا میں پرواز تبدیل کرنی تھی لیکن وہاں فلپائنی حکام نے اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا اور پھر سعودی سفارتخانے کے کچھ لوگ آئے اور اسے ساتھ لے گئے۔ جب وہ اسے لیجا رہے تھے تو وہ چیخ و پکار کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ”اگر مجھے سعودی عرب واپس بھیجا گیا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا۔“ واضح رہے کہ دینا علی کا کہنا تھا کہ وہ زبردستی کی شادی سے بچنے کے لیے فرار ہو کر آسٹریلیا جا رہی تھی۔