متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ایک ایسے کام میں بازی لے گئے کہ جان کر ہر پاکستانی کو بے حد شرمندگی ہوگی

عرب دنیا

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات میں ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح نے ٹریفک پولیس کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ سب سے زیادہ حادثات اچانک لین تبدیل کرنے اور یوٹرن لینے کی وجہ سے پیش آتے ہیں، اور بدقسمتی سے یہ غلطی کرنے والوں میں پاکستانی شہریوں کی نمایاں تعداد بھی شامل ہے۔
دبئی پولیس کے جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ٹریفک کے ڈائریکٹربریگیڈیئر سیف ہریر المزروعی نے بتایا کہ بغیر اشارہ دئیے لین تبدیل کرنے والے اماراتی شہری گزشتہ سال 11 جان لیوا حادثات کا سبب بنے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر بھارتی شہری رہے جو 9اموات کا سبب بنے، جبکہ پاکستانی شہریوں کا نمبر تیسرا تھا، جو 7اموات کا سبب بنے۔ چوتھے نمبر پر مصری شہری رہے جن کی وجہ سے حادثات میں تین اموات ہوئیں۔

پاکستانی خواتین نے سعودی عرب میں بھی وہ کام کردیا جو اس سے پہلے صرف پاکستان میں ہوتا تھا، پورے ملک میں دھوم مچ گئی
پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ اشارے کے بغیر اچانک لین تبدیل کرنا قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، خصوصاً ہائی ویز اور بڑی شاہراہوں پر ایسا کرنا نہایت خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ رفتار زیادہ ہونے سے یہ خطرہ مزید شدید ہوجاتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر دبئی پولیس نے اچانک لین تبدیل کرنے اور یوٹرن لینے کے خلاف آگاہی پھیلانے کیلئے خصوصی مہم کا آغاز کردیاگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اچانک لین کی تبدیلی سے پیش آنے والے سب سے زیادہ حادثات شیخ محمد بن زائد سٹریٹ پر ہوئے۔ اس سڑک پر ٹریفک حادثات میں کل 8 اموات ہوئیں، جبکہ الخالد روڈ پر 4، امارت روڈ اور دبئی العین روڈ پر 3، اور شیخ زائد روڈ پر دو اموات ہوئیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق اچانک راستہ تبدیل کرنے پر 200 درہم جرمانہ کیا جاتا ہے جبکہ چار بلیک پوائنٹ بھی دئیے جاتے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی اس خلاف ورزی کو خصوصی ذرائع سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ٹریفک پٹرول اور ٹریفک لائٹوں پر لگے کیمروں کے علاوہ عام شہریوں سے بھی مدد لی جاتی ہے۔