دبئی میں عزت کے نام پر شہری قتل ’ سوتے ہوئے مقتول نے ایسی شرمناک تصویر بنالی تھی جو۔ ۔ ۔‘ پکڑے جانے پر بھارتی ملزم نے ایسی بات کہہ دی کہ اہلکار بھی شرم سے پانی پانی ہوگئے

عرب دنیا

دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) دبئی کے ایک بڑھئی نے اپنے ہی روم میٹ کو  مبینہ طور پر تشدد کرکے قتل کردیا،سوتے ہوئے روممیٹ کے منہ پر دیگچی سے وار کیا اور جب وہ اٹھنے لگا تو  دو مرتبہ اس کے پیٹ پر اسی دیگچی سے زوردار ضرب لگائی جس سے وہ زخموں کی تاب نہ لاتا ہوا موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے سرکاری گودام میں خوفناک آتشزدگی ،راشن اور مٹی کا تیل لینے آئے ہوئے25افراد زندہ جل کر ہلاک ،کئی شدید زخمی

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق پولیس افسر کو بیان دیتے ہوئے ہسپتال میں داخل 56 سالہ بھارتی شخص نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے روم میٹ کو ذاتی تنازعات کی بنا پر قتل کیا،میں نے اس کو نیند کی حالت میں دیگچی سے وار کرکے مارا اور جب اس نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی تو اس کے پیٹ پر بھی وار کیے۔اس کا کہنا تھا کہ  مقتول نے میری سوتے ہوئے ایسی شرمناک تصویر بنالی تھی جسے میں منظر عام پر نہیں لانا چاہتا تھا اور یہ مجھے بلیک میل کرتا تھا کہ میری تصاویر باقی لوگوں کو  دکھا کر مذاق بنائے گا جو مجھے بالکل بھی گورا نا تھا اسی لئے میں نے اسے قتل کردیا، روممیٹ کو مارنے کے بعد میں نے اپنے پیٹ پر چاکو مار کر  خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن درد برداشت نہ کرسکا اور مدد کے لئے پکارنے لگا ۔ 

 پبلک پراسیکیوشن تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ  جب ہم وقوعہ پر پہنچے تو  قتل ہونے والے شخص کے خون کے لوتھڑے اس کے جسم ،فرش اور کمرے کی دیواروں پر بھی لگے ہوئے تھے،چہرے پر  وحشیانہ  تشدد کے باعث اس  شخص کی پہچان نہیں ہو سکی  جبکہ امدادی ٹیموں کے  اس جگہ پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ چکا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ قاتل نے اپنے روممیٹ  کو مارنے کے بعد خود کشی کرنے کی کوشش بھی کی تھی ، اس نے ایک چاکو کے زریعے اپنے پیٹ پر خود ہی وار کر دیا تھا جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

فرانزک رپورٹس کے مطابق مقتول کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث اسے کھوپڑی میں فریکچر ہوا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتا ہوا موقع پر ہی ہلاک ہوگیا ۔ روممیٹ کو قتل کرنے کے لئے استعمال کی گئی  دیگچی  اور خود کشی کرنے کے لئے استعمال کیا گیا چاکو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے،دونوں ہتھیاروں پر   قاتل کے ڈی این اے کی شناخت بھی ہوگئی ہے۔