پھانسی کی صبح صدام حسین نے اپنی پسند کا ناشتہ طلب کیا

صفحہ آخر

بغداد( آن لائن ) عراق کے سابق صدر صدام حسین کو پھانسی کی کارروائی کی نگرانی کرنے والے فوجی کی جانب سے نئی اور دلچسپ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ عربمیڈیا کے مطابق مذکورہ فوجی نے کہا ہے کہ صدام حسین اپنی زندگی کے آخری لمحات میں سکون سے سرشار تھے اور ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ فوجی نے بتایا ہے کہ صدام حسین نے اپنی پسند کا ناشتہ طلب کیا اور اس کے بعد وضو کر کے نمازِ فجر ادا کی۔پھر وہ پھانسی کے فیصلے پر عملدرآمد کے انتظار میں اپنے بستر پر بیٹھ قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگے۔ فوجی کے مطابق امریکی فوجی اہلکار صدام کی مسکراہٹ سے بہت زیادہ خوف محسوس کر رہے تھے اور موت کا سامنا کرتے ہوئے صدام کے انتہائی سکون کے سبب ان فوجیوں کا گمان تھا کہ عنقریب کوئی بم دھماکا کر دیا جائے گا۔ فوجی نے یہ بھی بتایا کہ صدام نے ایک پہرے دار سے بڑا گرم کوٹ طلب کیا کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سردی سے کپکپاتے ہوئے لوگوں کے سامنے جائیں اور ان کے عوام یہ گمان کر لیں کہ ان کا سابق صدر موت سے خوفزدہ ہے۔ فوجی نے خاص طور پر بتایا کہ صدام حسین پھانسی پانے سے قبل مسلسل مسکراتے رہے یہاں تک کہ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے