توانائی کے حصول کے نئے ذرائع کی تلاش ،سائنسدانوں کی پانڈے کے فضلے پر تحقیق

صفحہ آخر


برسلز (نیوز ڈیسک) جدید دور میں توانائی کے بغیر نظام زندگی کا چلنا ممکن نہیں اور توانائی کے حصول کے نئے سے نئے ذرائع کی تلاش جاری ہے۔ بیلجئیم کے سائنسدانوں نے اس سلسلے میں ایک انوکھی چیز پر تحقیق شروع کر دی ہے اور پر امید ہیں کہ یہ بائیو فیول بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ یاہو نیوز کے مطابق سائنسدان پانڈے کے فضلے پر تحقیق کر رہے ہیں تا کہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ جانور بانس جیسی سخت چیز کو کیسے ہضم کر لیتا ہے اور اس کے قدرتی نظام انہضام کے راز جان کر حیاتیاتی ایندھن بنانے کے نئے طریقے دریافت کئے جائیں گے۔ گینٹ یونیورسٹی کے پروفیسر کورنیل ریبے نے اس تحقیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی دفعہ پانڈے کے نظام انہضام میں پائے جانے والے ان طاقتور کیمیکلز پر تحقیق کی جا رہی ہے جو بانس ہضم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کے دوران نئے انزائم دریافت ہو سکتے ہیں جو حیاتیاتی ایندھن بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتیجے میں ایسے پودوں سے توانائی کا حصول ممکن ہو سکتا ہے جنہیں انسان اپنی خوراک کے طور پر استعمال نہیں کرتے اور یوں اس ایندھن کی قیمت بھی کم ہو گی اور اس کی دستیابی بھی آسان ہو گی۔