جے آئی ٹی ،شریف خاندان کا سینئر وکیل خواجہ حارث کی خدمات لینے کافیصلہ

صفحہ آخر


اسلام آباد (اے این این) وزیراعظم نوازشریف کے خاندان نے پاناما کیس میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیشی کیلئے سینئر وکیل خواجہ حارث کی خدمات حاصل کرنے کیلئے ان سے رابطہ کرلیا ، وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے بھی شریف خاندان کو جے آئی ٹی میں خواجہ حارث کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز دی تھی ۔میڈیارپورٹ شریف خاندان نے پہلے بھی عدالتی فیصلے کو مدنظررکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے خواجہ حارث سے معاونت لی تھی اور اب دوبارہ(آج) پیرسے کام شروع کرنیوالی جے آئی ٹی کے سامنے مقدمہ پیش کرنے کے لیے شریف فیملی نے خواجہ حارث سے رابطہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواجہ حارث اور قانونی ٹیم کے دیگر ممبران کے درمیان جلد ہی ایک میٹنگ ہوگی تاکہ کیس سے متعلق اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جاسکے، اس میٹنگ میں عدالتی حکم نامے کا جائزہ لینے کے بعد یہ بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ پاناما فیصلے سے متعلق نظرثانی کی درخواست دائر کریں یا نہیں، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاناما کیس میں کچھ جج صاحبان کے ریمارکس سے متعلق شریف فیملی کی پہلی لیگل ٹیم یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ نظرثانی کی اپیل دائر کریں یا نہیں۔