مسلمان خاتون کو حجاب پہننے کی عادت نے 9لاکھ روپے کی مالک بنا دیا

صفحہ آخر


برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) دین اسلام آخرت سنوارنے کا زریعہ تو ہے ہی لیکن اس روشن راستے پر چلنے والے دنیا میں بھی سرفراز ہوتے ہیں، جس کی ایک خوبصورت مثال جرمنی میں مقیم وہ مسلمان خاتون ہے جس نے حجاب کی خاطر نوکری کو ٹھوکر ماری تو قدرت نے ڈھیروں دولت سے بھی نواز دیا۔ویب سائٹ RT.COM کی رپورٹ کے مطابق یہ مسلمان خاتون ایک جرمن سکول میں ملازمت کے لئے گئیں تو سکارف پہن رکھا تھا۔ انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ملازمت کے دوران سکارف پہننا جاری رکھیں گی، جس پر انہوں نے ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا۔ یہ جواب سنتے ہی انہیں بتایا گیا کہ وہ کہیں اور جاکر ملازمت ڈھونڈیں۔متاثرہ خاتون نے اس بے انصافی پر عدالت کا رْخ کرلیا۔ برلن برینڈن برگ کی لیبر کورٹ نے ان کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’سکارف پہننے کی وجہ سے ملازمت سے محروم کرنا واضح طور پر امتیازی سلوک ہے۔ سکارف پہننے کی وجہ سے سکول یا اس کے ڈسپلن کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں تھا۔ انٹرویو کے دوران سکارف کے متعلق پوچھے جانے والے سوالات بھی امتیازی سلوک کا ثبوت ہیں۔‘‘ جج رینیٹ شارڈ نے حکم دیا کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ہونے والی بے انصافی اور دلآزاری پر بطور ہرجانہ 8680 یورو (تقریباً 9لاکھ پاکستانی روپے) ادا کئے جائیں۔واضح رہے کہ جرمنی کے نام نہاد نیوٹریلٹی لاء4 کے مطابق پولیس اہلکاروں، اساتذہ اور محکمہ انصاف کے ملازمین کو ڈیوٹی کے دوران مذہبی لباس پہننے کی اجات نہیں ہے۔