مصر کی مصالحت،اسرائیل کی حماس کے انکار پر جنگ تیزکرنے کی دھمکی

صفحہ آخر


 تل ابیب،غزہ(خصوصی رپورٹ)انتہا پسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے مصر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا تو غزہ کی پٹی میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری جنگ میں توسیع کردی جائے گی۔نیتن یاہو نے منگل کو تل ابیب میں جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹینمئیر کے ساتھ مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''اگر حماس جنگ بندی کی تجویز کو قبول نہیں کرتی ہے اور اس وقت بظاہر ایسا ہی لگ رہا ہے تو پھر اسرائیل کو غزہ میں ضروری خاموشی کے حصول کے لیے اپنی فوجی سرگرمی کو وسعت دینے کا بین الاقوامی جواز مل جائے گا''۔اسرائیلی وزیراعظم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے غزہ کی پٹی کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے مصری تجویز کو قبول کرنے سے اتفاق کیا ہے تاکہ سفارتی ذرائع سے علاقے کو میزائلوں ،راکٹوں اور سرنگوں سے پاک کیا جاسکے''۔اب یہ معلوم نہیں کہ جنگ پسند اسرائیلی وزیراعظم نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کر لیا ہے کہ اگر حماس مصری تجویز کو قبول نہیں کرتی ہے تو اسرائیل کو غزہ کی پٹی میں نہتے فلسطینیوں پر بمباری جاری رکھنے کا کیسے قانونی جواز مل جائے گی۔ان کے اس دھمکی آمیز بھاشن سے چندے قبل ہی اسرائیل کے بحیرہ احمر کے کنارے واقع ساحلی مقام ایلات میں تین راکٹ دھماکوں سے پھٹے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔غزہ پر اسرائیلی فوج کے گذشتہ ایک ہفتے سے جاری جارحانہ حملوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ایلات میں راکٹ آن کر گرے ہیں۔ اس شہر کی سرحدیں مصر اور اردن کے ساتھ ملتی ہیں۔دو راکٹ شہر میں گرے ہیں اور ایک کھلے میدان میں گرا ہے۔ غزہ سے فائر کیا گیا ایک راکٹ جنوبی شہر اشدود میں گرا ہے۔ادھر غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا شکار حماس کا کہنا ہے کہ وہ مصر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے اور اس نے ابھی اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔قاہرہ میں مقیم اسلامی تحریک مزاحمت کے ایک سینیر عہدے دار موسیٰ ابو مرزوق نے اپنے فیس ب±ک صفحے پر لکھا ہے کہ ہم ابھی اس تجویز پر مشاورت کررہے ہیں اور اس پرباضابطہ کوئی سرکاری موقف اختیار نہیں کیا گیا ہے۔حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے مصر کی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ اس کو ابھی باضابطہ طور پر جنگ بندی کی تجویز کا مسودہ موصول تو نہیں ہوا ہے لیکن میڈیا رپورٹس کے ذریعے جو تفصیل سامنے آئی ہے،اس سے تو یہی لگتا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو گھٹنوں کے بل جھکانے کی کوشش ہے۔اس مزاحمتی تنظیم نے کہا ہے کہ ''دشمن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے اور ہم اس کی شدت میں اضافہ کریں گے''۔مصر کی تجویز میں فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس کے بعد غزہ کی بارڈر کراسنگز کھول دی جائیں گی اور دوروز کے بعد جنگ بندی کے حتمی سمجھوتے کے لیے قاہرہ میں مذاکرات کیے جائیں گے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے حماس پر زوردیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو قبول کر لے جبکہ امریکی صدر براک اوباما نے مصری تجویز کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔