شو گر ملز مالکان کا چینی برآمد کر نے کا فیصلہ، ملک میں قلت کا امکان

صفحہ آخر


لاہور ( اسد اقبال سے )شو گر ملز مالکان کی جانب سے لاکھوں ٹن چینی برآمد کر نے کے فیصلے اور وزارت کامرس پر دباؤ کے پیش نظر پاکستان میں چینی کی قلت پیدا ہو نے کا قوی امکان ہے اور رمضان المبارک کے دوران یاتو چینی ناپید ہو جائے گی اور یا چینی کی قیمتیں صارفین کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شو گر ملز مافیا 1ملین ٹن چینی ایکسپورٹ کر نے پر بضد ہے جس کے لیے شو گر ملز مالکان نے کروڑوں روپے کی اشتہاری مہم چلا کر حکومت کو مجبور کیا جارہا ہے کہ چینی برآمد کر نے کی اجازت دی جائے جس کے لیے وزارت اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پہلے مر حلے میں 8لاکھ چینی برآمد کر نے کی سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے بتایا گیا ہے کہ چینی کو برآمد کر نے سے شو گر ملز مالکان کو جہاں چینی کی فی کلو قیمت پر دو روپے نقصان ہو گا وہیں ربیٹ کی صورت میں فائدہ ہو گا تاہم چینی کی لاکھوں ٹن ایکسپورٹ ہو نے سے پاکستان میں چینی کی قلت پیدا ہو جائے گی جبکہ ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ شو گر ملز مافیا رمضان المبارک میں چینی کی قلت پیدا کر نا چاہتا ہے جس سے چینی کی اوپن مارکیٹ میں کمی سے قیمتیں بڑھانے میں آسانی ہوگی اور چینی کی فی کلو قیمت 80روپے سے تجاوز کر جائے گی ۔جس کا فائدہ صر ف او ر صرف شو گر ملز مالکان کو ہوگا جبکہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں شیطانی کھیل، کھیل کر عوام پر مہنگائی کا مذید بو جھ ڈال دیا جائے گا ۔جس سے چینی سے تیار کر دہ دیگر اشیائے خوردو نوش کی بھی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان شو گر ملز ایسو سی ایشن کے تر جمان کا کہنا ہے کہ چینی کو برآمد کر نے کے لیے حکومت سے بات چیت جاری ہے جبکہ منسٹری آف کامرس کو ہدایات بھی جاری کر دی گئیں ہیں تاہم اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہ ہوا ہے تاہم آنے والے دنوں میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی برآمد ہونے سے ملک میں چینی کی قلت پیدا نہ ہو گی۔