پیپلز پارٹی کا حکومت کو ’’زیر‘‘ کرنے کیلئے پنجاب کی سطح پر کثیر پارٹی اتحاد بنانے کا فیصلہ

صفحہ آخر


لاہور( جاوید اقبال ‘شہزاد ملک ) پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کو ’’زیر‘‘ کرنے کے لئے پنجاب کی سطح پر ایک کثیرالپارٹی اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے۔ اس اتحاد میں مائنس مسلم لیگ (ن) فارمولہ طے کیا گیا ہے جس کی حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے اس منصوبہ بندی کے تحت حکومت مخالف اتحاد میں پی ٹی آئی ‘ جماعت اسلامی ‘مسلم لیگ (ق) عوامی مسلم لیگ‘ فنگشنل لیگ ‘عوامی نیشنل پارٹی ‘ پاکستا ن عوامی تحریک ‘سنی اتحاد کونسل ‘ایم کیو ایم ‘ پاک سر زمین پارٹی سمیت وکلاء تاجر اور سول سو سائٹی کو بھی شامل کیا جائے گا جس کے لئے پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے اس حکمت عملی کی کمان خود سنھبال لی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لئے انہوں نے سیاسی راہنماؤں سے رابطے شروع کردئیے ہیں۔ ان کا دورہ لاہور اور اس کے بعد پنجاب اسی حکمت عملی کا حصہ ہے وہ آئندہ دنوں میں مذکورہ پارٹیوں کی قیادتوں سے خود رابطے کریں گے جبکہ چھوٹی جماعتوں سے رابطے کے لئے اپنی اعلی سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے رہے ہیں ۔جنوبی پنجاب میں وہ سرائیکی صوبہ کے حامیوں کو بھی ساتھ ملائیں گے ۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آصف علی زرداری مسلم لیگ (ن) کی مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنائیں گے اور حکومت کے خلاف مجوزہ احتجاجی تحریک چلانے کے لئے آصف علی زرداری نے مستقبل کی حکمت عملی کے تحت جس احتجاجی اتحاد کی بنیاد رکھنے کی حکمت عملی طے کی ہے سال 2018میں یہی اتحاد مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں ایک بڑے انتخابی اتحاد کے طور پر سامنے لائیں گے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ بھی اسی اتحاد کے پلیٹ فارم سے ہو گا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ سیاسی اتحاد کی تشکیل کے سلسلے میں رابطوں کا ٹاسک سابق وزیر اعلیٰ اور نائب صدر پی پی پی پی میاں منظور احمد وٹو اور قمر زمان کائرہ کو دیا گیا جبکہ مرکزمیں سید خورشید شاہ اور چودھری اعتزاز احسن کو دیا گیا ہے جو اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے راہنماؤں سے معاملات طے کریں گے اور اس اتحاد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے ان سب کو حکومت مخالف اتحاد کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر لائیں گے اور پھر اس کے بعد مشاورت کے ساتھ اس مجوزہ اتحاد کا ایک باقاعدہ نام اور اس کے عہدے بھی تشکیل دئیے جائیں گے اور اس کے خدو خال بھی طے کئے جائیں گے ۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی اعلی لیڈر شپ کی جانب سے اس نئے سیاسی اتحاد کا مقصد حکومت مخالف احتجاج کی آڑ میں آئندہ الیکشن کی تیاریاں ہیں اور پارٹی کو متحرک اور فعال بنانا ہے کیونکہ جیالوں کا لیڈر شپ سے یہ مطالبہ ہے کہ عوامی ایشوز پر سیاست کی جائے اور ایک بھرپور اپوزیشن کا رول ادا کیا جائے اور اس مقصد کے لئے تنہا پرواز کی بجائے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملایا جائے اور سیاسی طور پر بھی لیڈ لی جائے ۔اس حوالے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ شروع کررہے ہیں اسمبلی کے اندر اور باہر موجود سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطہ بھی رہتا ہے مقصد عوام کی آواز کو بلند کرنا ہے جہاں تک حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا تعلق ہے تو عوامی ایشو ز کی آواز بلند کرنے کے لئے جو بھی سیاسی جماعت ہمارا ساتھ دے گی اس کو ویلکم کریں گے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ حکومت کو چارج شیٹ کیا جائے اور خصوصاً پنجاب حکومت جو اپنے من پسند غیر عوامی منصوبہ جات پر کھربوں روپے کا بے دریغ استعمال کررہی ہے اس کا محاسبہ ضروری ہے اس حکومت نے ملک کو مزید کھربوں ڈالرز کا مقروض کردیا ہے آصف علی زرداری نواز لیگ مفاہمت پالیسی سے باہر نکلیں تو ان سے بات ہو سکتی ہے۔پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی (ن) لیگ کو پر وٹیکٹ کررہی ہے عوام ان دونوں جماعتوں سے ضرورحساب لے گی جب پیپلز پارٹی کو (ن) لیگ کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے زیر کرنا ہوتا ہے تو اس وقت انہیں اتحاد یاد آ جاتا ہے جب بحران سے نکل آتی ہے تو پھر عوامی مفاد کو بھول جاتی ہے آئیں بسم اللہ کریں ہم ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ (ن) لیگ کے سیاہ دور کو طوالت دینے کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہی ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے باضابطہ کوئی رابطہ نہیں کیا جب رابطہ کرے گی اور بات چیت کا آغاز ہو گا تو دیکھیں گے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم عوامی ایشوز کی سیاست کرنے والی ہر جماعت کا ساتھ دیں گے ۔عوامی مسلم لیگ پنجاب کے جنرل سیکرٹری خالد پرویز سندھو نے کہا ہے کہ زرداری کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں مگر انہیں چوروں نہیں بلکہ چوکیداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا اور اس کا انہیں عملی مظاہر بھی کر نا ہو گا ۔پانامہ کیس آصف زرداری کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے وہ ثابت کریں کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر ان کی طرف سے آئندہ دنوں جو اتحاد بنانے کی کوشیں کی جارہی ہیں اس پر غور کیا جائے گا ۔