قیامت کا آغاز برموداٹرائی اینگل سے ہوگا؟

قیامت کا آغاز برموداٹرائی اینگل سے ہوگا؟
قیامت کا آغاز برموداٹرائی اینگل سے ہوگا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سوال کیا جاتا ہے کہ دنیا میں سمندر میں ایک ایسی جگہ ہے جس کو برمودا ٹرائی اینگل کہتے ہیں ۔اس میں کوئی بحری جہاز یا ہوائی جہاز گزرے تو غائب ہو جاتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اس جگہ سے قیامت کا آغاز ہوگا۔دراصل جدید دنیا کے پاس ایسی کوئی کہانی نہیں ہے جو کہ اتنی حقیقت پسندانہ ہو جتنی کہ ہماری ہیر رانجھاکی کہانیاں ہیں۔ سوچئے کہ آپ سنو بائٹ پہ اتنا یقین نہیں کریں گے۔لیکن ہیر رانجھا جیسی کہانیوں پر آپ کو ایمان کی حد تک یقین ہو جائے گا یہ strength of literature ہوتا ہے۔مغرب کے پاس کوئی ایسا تصوراور کوئی ایسا خیال نہیں ہے جس پر وہ یہ بنیاد کرسکیں کہ ابتدائے زمانہ کا زوال اخلاق ہو گا اور زوال قدر کے ساتھ قیامت کے وقت کی ابتدا ہو جائے گی،پھر یہ معاملہ امام مہدی اورباقی لوگوں کی طرف جائے گا کیونکہ مغرب کے پاس تصور موجو د نہیں ہے انہوں نے تصوراتی طور پر ایک تصور لے کر ٹرائی اینگل بنایا ہے۔ اب اس میں اسکیل کیوں نہیں ہے کیونکہ یہ ٹرائی اینگل کیstrength ،اسٹرکچرلی طور پر سب سے زیا دہ تگڑی ہو تی ہے۔ اب اس ٹرائی اینگل کو دنیا کی سائنس سمجھ نہیں سکی لیکن تصورکچھ اور کہہ رہا ہے ۔ جہاز کسی بھی وجہ سے غائب ہوئے ہوں ان کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے۔ پی آئی اے کی پرواز سوات جاتے ہوئے برف پر گری تھی ہندوستان بھی اس کو نہیں ڈھونڈ سکا تھا اور پاکستان بھی اس کو نہیں ڈھونڈ سکا۔اس کا ایک ماچس کی ڈبی جتنا بھی ملبہ نہیں ملا، ہم نے برمودہ ٹرائی اینگل اس کو نہیں کہا لیکن مغرب اتنا توہم پرست ہے کہ جب کوئی بات اس کی عقل میں نہ آئے تو وہ اس کو غیر الہامی اور الہامی طاقتوں سے جوڑ کے رکھنا چاہتا ہے۔آپ نے پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں سنا کہ اس کا جہاز برمودا ٹرائی اینگل یا کسی جن یا بد روح کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔ ہم نے اس پہ رائے یہ دی کہ وہ برف میں دب گیا ہوگا۔ ہم اس کو ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ مغرب اپنی ناکامی کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ یہ کہتا ہے کہ چونکہ ملبہ نہیں ملا اس لئے میری سائنس کی غلطی نہیں ہے ،یہ جگہ ہی ایسی ہے جس کی وجہ سے وہ چیز نہ زمین پہ ہے نہ آسمان پہ ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -