جسٹس با قر نجفی کمیشن کی رپورٹ ،ابہام کیسا؟

بعد از خرابیءبسیار جسٹس با قر نجفی کمیشن کی رپورٹ شائع کر دی گئی ہے۔ جس میں ذمہ دار افراد کی نشاندہی تو نہیں کی گئی لیکن اِس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد طفلِ مکتب بھی سجھ جائے گا کہ جسٹس باقر نجفی نے کِن افراد کی جانب اشارہ کیا ہے۔ جسٹس باقر نجفی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت نے کمشن کو محدود اختیارات دئےے ہیں۔ محدود اختیارات دینے کا مقصد اِسکے سوا اور کُچھ نہیں کہ عوام اور کمیشن کو حقائق سے لا علم رکھا جائے۔ جسٹس با قر نجفی کی رپورٹ کا لہجہ اِس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ اِس سانحہ کی ذ مہ دار پنجاب حکومت تھی۔ پنجاب حکومت کے وزیر قانون نے سانحہ کے وقوع پذیر ہونے سے ایک دِن پیشتر اعلیٰ افسران کا اجلاس طلب کیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ادارہ منہاج ا لقران پر نا جائز تجاویزات کی پاداش میں ہلا بول دیا جائے تاکہ ڈا کٹر طاہر القادری کودھرنے سے روکا جاسکے۔ مزید براں، اِس آ پریشن سے تحریک کے ممبران کو سنگین خطرات سے ڈرایا جا سکے تاکہ وُہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے میں شرکت نہ کر سکیں۔ یہ آ پریشن عدالتی حُکم کی موجودگی میں کیا گیا جس میں مذکورہ تجاوزات کی عدالت نے با قاعدہ اجازت دے رکھی تھی۔ اِس آ پریشن کا مقصد نا جائز تجاوزات کو ہٹانا نہ تھا بلکہ اِن تجاوزات کی آڑ میں ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کو ناکام بنانا تھا۔ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ سے یہ بات بالُکل صاف ہو جاتی ہے کہ اِس سانحہ کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔پولیس کی کارروائی وزیر قانون کے ایماءپر کی گئی جسکو وزیر اعلیٰ جناب شہباز شریف کی حمائیت حاصل تھی۔ جبکہ وزیر اعلٰی جناب شہباز شریف کی جانب سے سر توڑ کوشش کی گئی ہے کہ خوُد کو معصوم ثابت کر سکیں۔ لیکن حالات و واقعات کے تناظر میں شواہد بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ بھی پولیس کو روکنے کے احکامات جاری نہیں کئے۔ ا نہوں نے اپنے حلفی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے فوری طور پر پولیس آ پریشن روکنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ لیکن بد قسمتی سے کمشن کو ایسے اثبات نہیں مِل سکے جس سے اُنکے بیان کی تصدیق ہو سکے۔

جسٹس باقر نجفی کی ایک سو بتیس صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اِس تمام معاملے میں اٹارنی جنرل سے کوئی مشورہ نہیں لیا گیا۔ سانحہ کے وقوع پذیر ہونے سے چند گھنٹے پہلےانتظامیہ  کے تبادلے حکومتی عزا ئم کا پتا دیتے ہیں۔ کمشن کی رپورٹ میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کمشن کے سامنے جتنے بھی پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ اور ادنیٰ افسران پیش ہوئے ہیں۔ اُن سب نے منصوبہ بند ی کے ذریعے حقائق کو چُھپانے کی کوشش کی ہے۔ کسی بھی حکومتی افسر نے کمشن کی مدد نہیں کی۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حقائق کو کمشن سے چُھپانے کی با قاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اگر کمشن کی رپورٹ کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ کمشن کی نظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب، وزیر قانون اور وزیر اعلیٰ کے سیکڑیری اِس سانحہ کے ذمہ دار ہیں۔عدالت کے حُکم کی موجودگی میں تجاوزا ت کو ہٹانا تو ہینِ عدالت ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مُناسب ہے کہ جان بُوجھ کر نا جائیز تجاوزات کو بہانہ بنا کر حملہ کیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کمشن تمام تر تحقیق کے باوجود یہ بات جاننے سے قاصر رہا ہے کہ پولیس کو کس نے گولی چلانے کا حُکم دیا تھا۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے رپورٹ کے شائع ہونے پر عوام کو مُبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ باقر نجفی رپورٹ کا شائع ہونا اِس حقیقت کا غماز ہے کہ شہباز شریف، رانا ثناءنے نواز شریف کے ا ٓشیر باد سے یہ حملہ جان بُوجھ کر کروایا تھا۔ کیونکہ وُہ اپنے دور ِ حکومت کو کسی نہ کسی طریقے سے طول دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نہتے عوام پر گولیاں چلا ئیں اور بڑی بے رحمی سے عورتوں پر ایسا ظلم ڈھایا جسکی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ حکومت نے کیس کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ہم نے عدالتی جنگ کو ہر حال میں جاری رکھا۔ یہ لڑائی سوا تین سال تک متواتر چلتی رہی ہے۔ لیکن ہم نے تمام رکا وٹوں کا عزم کیساتھ مُقابلہ کیا ہے۔ ہمارے لوگوں کو توڑنے کے لئے حکومت نے ہر طرح کا لالچ دینے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں طرح طرح سے اُلجھانے کی سعی کی گئی ہے لیکن ہم نے شہداءکے خون پر کوئی بھی سمجھوتہ کرنامُناسب نہیں سمجھا۔ ہم آج بھی نواز شریف او شہباز شریف، رانا ثناءاور وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکٹریری کو اِس سانحہ کا اصل مُجرم سمجھتے ہیں اور جب تک اِن کو معصوم جانوں کے قتل کی سزا نہیں ملتی ہم انصاف کے لئے عدالتوں کا درو ازہ کھٹکھٹاتے ر ہیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری جد وجہد طویل ہے کیونکہ اِن دونوں بھائیوں کی موجودگی میں ہمیں انصاف ملنا ناممکن نظر آتا ہے۔ تاہم، ہم اپنی لڑائی کو ہر صورت جاری رکھیں گے اور ظُلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے۔
دوسری جانب وزیر قانون نے کہا کہ ہم نے عدالت کے حُکم کا احترام کرتے ہوئے رپورٹ شائع کر دی ہے، یک رُکنی کمشن کی رپورٹ سنگیں اغلاط پر مشتمل ہے۔ مزید براں، اِس رپورٹ نے کسی فرد کو بھی سانحہ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ یہ رپورٹ کسی کیس میں بھی استعمال نہیں کی جا سکتی۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں ۔ ہم کو کسی کا کوئی خطرہ نہیں۔ اور وُہ لوگ جو ہم کو مجرم ٹھہراتے تھے اُنکو خصوصی طور پر مایوسی ہوئی ہے۔ خاص طور وُہ لوگ جو پنڈی میں بیٹھ کر مُلک میںافراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ رپورٹ پڑھ کر اُنکی بو لتی بند ہو گئی ہے۔ یہ لوگ مُلک کے مُخالف ہیں۔ جو دھرنوں کی سیاست میں مُلک کے کروڑوں روپئے کا نقصان کرتے ہیں۔ جمہوریت کو ڈی ریل کرنےکی کوشش کر تے ہیں۔ مُسلم لیگ نے ہمیشہ مُلک کو ہر قسم کے خطرے سے بچانے کی کو شش کی ہے۔
مخُتصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ را نا ثناءنے سب اچھا کی رپورٹ دے کر معاملے پر مٹی ڈال دی ہے۔ لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے۔ رانا صاحب اپنی چرب زبانی سے حقائق کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وُہ اپنی کوشش میں ناکام رہے ہیں۔ وُہ اپنے مخصو ص انداز سے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش میں مُصروف ہیں۔ لیکن لوگ اُنکی عیاری اور ہوشیاری سے آگاہ ہوچُکے ہیں۔ عوام اُنکی عیاری کو خُوب پہچانتے ہیں۔ وُہ فوج اور عدلیہ کے خلاف بیانات دینے میں مُصروف ہیں۔ نبوت ختم رسولﷺ کے سلسلے میں اُن سے منسوب بیانات اُنکو جیل تک پہچانے کے لئے کافی ہیں۔ اُن سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ دِن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف اَب اُن کو عوام کے غیض و غضب سے مزید بچا نہیں سکتے۔ اُن پر الزام ہے کہ انہوںنے احمدیوں کو بچانے کے لئے دیدہ دانستہ حلف نامے میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ را نا ثناءمرکزی اور صوبائی حکومتوں کے غیر سرکاری ترجمان ہیں جو عوام کو دھوکہ د ینے کے لئے لفظوں کے ادھیڑ بُن میںلگے رہتے ہیں۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی رہے گی۔ رانا ثناءجیسے لوگ اپنی عاقبت سے بے خبر خُود کو بڑا سمجھنے کے لئے مکاری اور عیاری کا سہارا لیتے ہیں۔ اپنی عقل کو عقل کُل سمجھ کر بیوقوف بن جاتے ہیں۔ تحریک لبیک کی جانب سے ہنوز اُنکے استعفیٰ کا مُطالبہ کیا جار ہا ہے حکومت اُن کے غیر ذمہ دارانہ اعمال اور بیانات سے اُکتا چکی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آ نے والے چند ہفتے را ناثناءکے لئے مُشکل کا با عث ہوں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ مُسلم لیگ ( ن) نے اپنی حکومت رانا ثناءکے ہاتھوں گروی رکھ دی ہے۔ عوام رانا ثناءجیسے سیاست دانوں سے اُکتا چُکے ہیں۔ شہباز شریف کی گُڈ گورنس کے دعوے کھوکھلے ثا بت ہو چُکے ہیں۔ حکومت چرب زُبانی سے نہیں بلکہ اعمال سے کامیاب ہوتی ہے۔ حکُمر انوں کو عقل کے ناخن لینے ہونگے اور خُود فریبی کے جال سے نکلنا ہو گا۔

۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں